• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علم کی حرمت اعتبار اور جواز خطرے میں ہے۔ اس نازک وقت میں یونیورسٹیوں کو دریافت کے سر چشموں کی حیثیت سے مضبوطی سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔سائنسی صلاحیتوں کی نشوونما معاشرتی مزاحمت درسگاہوں کا منصب بنتا ہے...یہ للکار ہےایک عالمی سائنسدان پاکستانی نژاد 58سالہ ڈاکٹر نرگس ماول والا کی جنکے کراچی کے چند روزہ دورے نے یونیورسٹیوں کے اساتذہ محققین ماہرین تعلیم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ڈاکٹر نرگس پاکستانی ہیں لاہور میں پیدا ہوئیں کراچی میں پروان چڑھیں ۔امریکہ میں جا کر ان کا سائنسی جوہر کھلا۔ وہ نظام فلکی کے در پر دستک دینے لگیں۔ان کو ایسے سائنس دانوں کی رفاقت میسر آئی جو ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں اکثر سفر کرتے رہتے ہیں۔

10 ہزار سال پرانی تہذیب میں آنکھیں کھولنے والی کا خلاؤں کی تسخیر کا شوق 400سال والے تمدن میں جا کر اور سوا ہو گیا اور وہ کشش ثقل کی لہروں پر کان لگانے لگیں ۔ کراچی یونیورسٹی آڈیٹوریم میں ان کے لیکچر نے طلبہ طالبات اور اساتذہ کو محدود سوچ سے باہر نکلنے پر آمادہ کیا۔

پرے ہےچرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی

ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے

مسلمان تو اقبال کےکلام کی اس روح کو کم ہی سمجھتے ہیں لیکن غیر مسلم ان پیغامات پر کان دھرتے ہیں۔ ستاروں سے آگے جہانوں میں تحقیق کا سفر انسانیت کی معراج ہے ۔حبیب یونیورسٹی کراچی میں ڈاکٹر نرگس کے لیکچر کا موضوع تھا ۔

The joy of Discovery curiosity science and pivitol role of universities

یہاں ہال ماہرین تعلیم سائنس کے دلدادگان اساتذہ اور طلبہ و طالبات سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ خلا کی حیرتیں۔ سیاروں کی گردشیں۔ کائنات کی سرگوشیاں اپنی جگہ مگر مجھے اس خاتون کی طرف سے یونیورسٹیوں کے قائدانہ کردار کو نمایاں کرنے میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوئی ۔ہم تو سالہا سال سے سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو اپنی قومی اور عالمی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے آ رہے ہیں۔ ہمارے الفاظ تو اکثر صدا بہ صحرا ثابت ہوتےہیں ۔سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے اپنے مسائل ہیں۔ تنخواہیں، پینشن، ریٹائرمنٹ کے مسائل اور یہ اسی لئے حل نہیں کیے جاتے کہ وہ انہی میں الجھے رہیں اور علمی عمدگی پر توجہ نہ دے سکیں ۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں تعلیم کو کاروبار بنانے پر ہر لحظہ آمادہ رہتی ہیں۔ ملکی سکالرشپ قصہ پارینہ بن چکے ہیں غیر ملکی سکالرشپ کاروبار ہیں۔وفاقی اور صوبائی محکمہ تعلیم سکالرشپ کو کسی نہ کسی طرح اپنے منظور نظر خاندانوں کے نام کروا لیتے ہیں۔

پاکستان کی سماجی معاشی علمی پسماندگی میں قوم میں جو مایوسی پیدا ہو چکی ہے وہ میرے خیال میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ میں درسگاہوں میں یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کو بھی شمار کرتا ہوں اور میڈیا ہاؤسوں کو بھی۔ ان سب کی کوتاہی نے پاکستان کے ہر عمر کے لوگوں میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ یہاں حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکتے۔کوئی ادارہ ،کوئی لیڈر یہاں حالات بدلنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ہمارے دانشور سب کچھ سمجھ رہے ہیں آپس میں یہی باتیں کرتے ہیں بھیانک نتائج کا بھی ان کو ادراک ہےکہ ایسے اسباب کے جو منطقی اور تاریخی نتائج برپا ہوں گے ان کا شکار ان کی اپنی اولادیں بھی ہوں گی۔یونیورسٹیوں میں کوئی استاد یا طالب علم ایسے اسباب کا حوالہ دیتا ہے تو اسکے اپنے رفقائے کار ہی اس کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔

انٹرنیٹ نے صورتحال کچھ بدلی ہے۔ سوشل میڈیا پر سچ صرف کہا نہیں جا رہا بلکہ اگلا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ تصورات اور خدشات کو مصنوعی ذہانت حقیقی شکلیں دے رہی ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی بھیانک مناظر تخلیق کیے جا رہے ہیں۔ معاشرے میں لیڈروں اور اداروں پراعتبار ریزہ ریزہ ہو رہا ہے ۔ ایسی مارا ماری اور افر تفری میں اہل دانش کا کردار اور ناگزیر ہو جاتا ہے۔ درس گاہوں کی فعالیت وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اساتذہ تدبر کریں۔ اہل سیاست اور اہل ریاست جو چاہے کرتے رہیں تحقیق اور تربیت یونیورسٹیوں کا منصب ہے۔

یونیورسٹیوں کا کردار عالمی یوم سیاحت کے موقع پر ایک مذاکرے میں بھی زیر بحث آیا ایک بینکر نے کہا پاکستان میں کہیں بھی سیاحت پر پی ایچ ڈی نہیں کروائی گئی۔ بد قسمت ہے یہ ملک جس کو اللہ تعالی نے بے حساب حسن فطرت سے نوازا ہے۔ اتنے سیاحتی مقامات ہیں کہ اگر متعلقہ وزراء اور حکام ایمانداری سے توجہ دیں تو اتنی آمدنی ہو سکتی ہے کہ ہمارے قرضے بھی اتر سکتے ہیںمگروفاقی حکومت ہو یا صوبائی ان کیلئے سیاحت ایک غیر اہم شعبہ ہے اس پر مامور وزیر اور سیکرٹری کی ہمیشہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی اور شعبے میں اپنا تبادلہ کروالے لیکن سندھ کے وزیر سیاحت ثقافت آثار قدیمہ سید ذوالفقار علی شاہ کو جو عہدہ بھی مل جائے اس میں بھرپور دلچسپی لے کر اسے اہم بنا دیتے ہیں ۔پھر انہیں سندھ سیاحتی ترقیاتی کارپوریشن کیلئے سید فیاض علی شاہ جیسے متحرک ایم ڈی مل گئے ہیں۔ اس لیے سندھ کے تاریخی روحانی سیاحتی مقامات پر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد و رفت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان دہشت گردی، افراتفری ،سیاسی،آئینی بحرانوں جیسے سنگین معاملات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سیاحت کا فروغ بہت زیادہ توجہ اور محنت کا متقاضی ہے۔ اس بار یوم عالمی سیاحت بہت ہی مختلف انداز سے منایا گیا سندھ میں جتنے بھی سیاحت سےمتعلقہ اہم عہدے دار اور کاروباری ہیں اور کسی نہ کسی طرح سندھ میں سیاحت کی ترقی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں وہ سب قائد اعظم ہاؤس میں موجود تھے۔ سیکرٹری سیاحت و ثقافت کے علاوہ بینکوں، ایاٹا ٹریول ایجنٹس اور خاص طور پر خواجہ جہانزیب۔ مذاکرے کا اہتمام یقیناً سید فیاض علی شاہ کی ایک منفرد کوشش تھی ،اب کے اقوام متحدہ نے بھی عالمی یوم سیاحت کیلئے ایک اہم موضوع دیا ہے ۔ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت سے سیاحت کی ازسر نو تنظیم اور تزئین۔ سب شرکا اس امر پر تو متفق تھے کہ پاکستان میں اور بالخصوص سندھ میں ہر قسم کی سیاحت کے مقامات ہیں مگر حکومت کو اور پرائیویٹ سیکٹر کو بہت زیادہ منصوبہ بندی اور توجہ دینی چاہئے۔ ایاٹا کے نمائندے نے سندھ میں ہوائی ٹکٹ پر ٹیکس اور دوسرے ٹیکس ختم کرنے پر زور دیا ۔شرکا کا کہنا تھا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اسمارٹ فون پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے سندھ کے سیاحتی مقامات کے بارے میں ساری تفصیلات ملنی چاہئیں۔ٹکٹ کی قیمت، قیام کے انتظامات، موسمی حالات سب کے بارے میں اطلاعات ہونی چاہئیں۔ اب تک کی محکمہ سیاحت کی کوششوں خاص طور پر تھر کیلئے سفاری ٹرین کو قابل تحسین قرار دیا گیا۔ حکومت سندھ سے داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی بھی بہت تعاون کر رہی ہے۔ ڈیٹا بیس بنائی جا رہی ہے۔ ان کی خاتون وائس چانسلر نے اس تقریب میںبہت اہم تجاویز دیں اور محکمہ سیاحت کی بعض کوتاہیاں بھی اجاگر کیں۔

یونیورسٹی کے نوجوان طلبہ بھی موجود تھے ان کا اشتیاق اور انہماک دیدنی تھا۔ اس قسم کی پینل ڈسکشن محکمہ سیاحت کو اپنی خامیاں دور کرنے میں مدد دے سکت ہےاور سندھ کے سیاحتی مقامات کی خاص طور پر موسم سرما میں دل کشی کا سبب بن سکتی ہے۔

تازہ ترین