• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ، ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ، تفصیلی تحقیقات، 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

کراچی (سید محمد عسکری) وفاقی وزارتِ قومی صحت نے سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026ء کے امتحان میں شفافیت اور منصفانہ طریقۂ کار سے متعلق شکایات پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تفصیلی تحقیقات کرنے اور 15روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارتِ قومی صحت کے سیکشن افسر (ایڈمن۔V) محمد اسحاق کی جانب سے 2اکتوبر کو پی ایم ڈی سی کے صدر رضوان تاج کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس میں امتحان کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں۔ عوامی نمائندوں نے بھی معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ خط کے مطابق تحقیقات میں امتحانی مراکز کی بنیاد پر نتائج کا تجزیہ کیا جائے، جس میں امیدواروں کی تعداد، حاصل کردہ نمبر، کامیابی کی شرح، بلند نمبروں کی تقسیم اور کسی غیر معمولی فرق کا جائزہ شامل ہو۔ امتحانی حاضری، نشستوں کی ترتیب، مراکز کے ریکارڈ، نتائج کے اعدادوشمار اور نگران عملے کے انتظامات سمیت متعلقہ دستاویزات بھی محفوظ کرکے جانچی جائیں۔ پی ایم ڈی سی کو امتحانی بے ضابطگی، غیر مجاز مدد، جعل سازی، پرچے کے افشا، تکنیکی خرابی یا انتظامی غفلت سے متعلق شکایات اور الزامات کا دستیاب شواہد اور متعلقہ قانون کے مطابق جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امتحان کے انعقاد اور نتائج کی تیاری سے متعلق ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے اور اگر کسی بے ضابطگی یا خرابی سے امتحان کی شفافیت یا نتائج متاثر ہوئے ہوں تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ وزارت نے پی ایم ڈی سی سے کہا ہے کہ ضروری کارروائی کے بعد اپنی رپورٹ 15 روز کے اندر پیش کرے۔ واضح رہے کہ آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر نے مفادات کے ٹکرائو کے پیش نظر ایم ڈی کیٹ کا امتحان کرانے سے معذوری ظاہر کی تھی اور تجویز دی تھی کہ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ٹیسٹ کسی اور ادارے سےکرایا جائے جب یہ معاملہ میڈیا میں رپورٹ ہوا تو پی ایم ڈی سی نے محکمہ صحت سندھ کو خط لکھ کر وضاحت بھی مانگی تھی جو نہیں دی گئی۔

اہم خبریں سے مزید