• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ اس لیے اسلام آباد مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ۔اسلام آباد میں پہلے بھی ہونیوالے مذاکرات کا چرچا تو دنیا بھر میں ہوا ۔لیکن ایک فریق کی ضد اور چرب زبانی کے باعث وہ مذاکرات مفاہمت کی یادداشت پر دستخطوں کے باوجود اب تک بے نتیجہ رہے ہیں۔ شاید 21ویں صدی کی یہ دہائی مذاکرات کیلئے سازگار ہی نہیں ہے۔

قافلے چل پڑے ہیں ۔چہرے تمتمارہے ہیں۔دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک پارٹی کے کارکن کتنے جوش سے اس احتجاج میں شریک ہیں۔

دکھ ہوتا ہے کہ حالات پاکستان میں معمول پر نہیں آتے ۔ہم ایک دوسرے سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اعتماد کا سنگین بحران ہے تعصبات پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہےہیں۔ آٹھ دہائیوں میں حکمرانی کا نظام بتدریج بوسیدہ کیا گیا۔ میرٹ کا قتل ہوا ۔عدلیہ کے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق نہیں موسم کی مناسبت سے کیے گئے ۔اس لیے نسلی ،لسانی ،فرقہ وارانہ تعصبات جڑ پکڑتے رہے۔ نا انصافی کی وجہ معروضی طور پر جاننے کے بجائے مسلک سے یا صوبے سے وابستگی میں ڈھونڈی گئی یا ریاست کے کمزور ہونے کا سبب بتایا گیا۔ اس لیے صوبائیت غالب آتی چلی گئی ۔ایک با اختیار صدر کی طرف سے اپنے اختیارات واپس پارلیمنٹ کو دینے کی اٹھارویں ترمیم صوبوں کو خود مختاری دینے کے بجائے صوبائی تعصبات کی بنیاد بن گئی۔

تاریخ میں بہت سے نازک مواقع پہلے بھی آتے رہے ہیں ۔صدر ،وزیراعظم ،آرمی چیف میں اختلافات ہوئے۔ اُن دنوں ٹرائیکا کی بات کی جاتی تھی ۔ٹرائیکا کے تین میں سے دو ایک طرف ہو جاتے تھے تو تیسرے کو گھر بھیج دیا جاتا تھا۔ لیکن ہر موقع پر ایسے ادارے یا ایسے سربراہ ہوتے تھے جو فریقین میں غلط فہمیاں دور کر کے ملک میں منصفانہ انتخابات کیلئےفضا سازگار کرتے تھے ۔90 کی دہائی میں آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے سخت ریاست کا فارمولہ اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے دلوں سے کدورتیں دور کرنے کا ارادہ کیا ۔خود اقتدار سنبھالنے کے بجائے صدر سے ملاقاتیں کیں، وزیراعظم سے، اپوزیشن لیڈر سے ملے۔ منصفانہ انتخابات کی یقین دہانی کروائی تو ملک میں ایک خوشگوار فضا قائم ہوئی ۔

اب کوئی ایسی شخصیت دکھائی نہیں دیتی۔ جس کے حرف کا سب احترام کریں جسکی یقین دہانی پر سب اعتبار کریں۔ اس کے بجائے زیادہ تر ایسی قوتیں اور شخصیتیں ہیں جو اختلافات کو ہوا دیتی ہیں ۔ایسے ایسے بیانات جاری کئے جاتے ہیں ۔جس سے اور رسوائی ہوتی ہے۔

تاریخ میں تنازعات ہمیشہ ایک ہی طریقے سے طے نہیں ہوتے آئے ہیں۔کہ بس ڈیل پر زور دیا جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسائل اتنی شدت اختیار کر چکے ہیں کہ اب خلق خدا کو اعتبار نہیں رہا ہے ۔درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا ۔ہمیں سختی کے بجائے ہم آہنگی نرمی اور مہربانی کی طرف رخ کرنا ہوگا۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

1971 تاریخ پاکستان کا نہیں عالم اسلام کی تاریخ کا عظیم المیہ ہے۔ تاریخ اگر اسے دہراتی ہے ۔تو ہم سب کیلئے صراط مستقیم یہی ہے کہ اس ہزیمت کے جو بھی اسباب بنے تھے وہ نہ دہرائے جائیں بلکہ انہیںدور کیا جائے۔ مسئلے کتنے بھی سنگین ہوں انسان سے بڑے نہیں ہوتے ۔اس وقت جو صورتحال ہے وہ ہم سب کیلئے خطرناک ہے۔ ریاست کو بھی اس سے نقصان پہنچ رہا ہے، اہل ریاست کو بھی۔پاکستان کی اکثریت کی زندگی بہت مشکل سے گزر رہی ہے۔ معیشت کی پیش قدمی رکی ہوئی ہے۔ نوجوان اپنے لیے فضا سازگار نہ پا کر ترک وطن کر رہے ہیں ۔ جمہوریتوں میں ایسے بحران نئےمنصفانہ، آزادانہ انتخابات ہی ختم کرتے رہے ہیں۔ اب بھی بالآخر یہی ہوگا لیکن تصادم اور ہلاکتوں سے ہمیں بچنے کیلئے فوری قدم اٹھانا ہوں گے ۔

وہ جو فارسی کا ضرب المثل شعر ہے

ہر چہ دانا کند کند ناداں

لیک بعد از خرابی بسیار

جو بھی دانا کرتے ہیں نادان بھی وہ کرتے ہیں لیکن بہت ساری خرابیوں کے بعد۔

غالب نے بھی کہا تھا

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ہمارے سندھ میں سید نہال ہاشمی گورنری کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ میاں نواز شریف کبھی کبھی اچھا کام بھی کر جاتے ہیں۔ ہاشمی

صاحب ایک عوامی آدمی ہیں وہ اپنی اس شناخت کو اب بھی روا رکھے ہوئے ہیں جاگیریں نہیں ہیں اس لیے ان کے پاس وڈیروں والی کوئی ہیبت نہیں ہے۔ ہماری بزرگی کو عوامی سطح پر لائق تسلیم سمجھتے ہیں۔ اس لیے فلم اینڈ ٹی وی جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی کراچی پریس کلب میں حلف برداری کی تقریب میں ان صحافیوں سے خود حلف لینے کی بجائے مجھے یہ ذمہ داری سونپ دی ۔اب ایسی نادر ہستیاں کم ہوتی جا رہی ہیں جو اپنی اقدار روایات وضعداری کو نباہ رہی ہیں ۔فلم کا دور جب اپنے شباب پر تھا تو فلمی صحافیوں کی بھی بڑی شان ہوتی تھی۔ کیسے بڑے بڑے صحافی اس شعبے میں اپنی انفرادیت دکھاتے رہے مجھے علی سفیان آفاقی ،عاشق چوہدری، مستنصر جاوید، اقبال احمد خان ،اسد جعفری یادآتے ہیں۔ بہت سے رسالے ذہن میںآتے ہیں لاہور کراچی سے نکلنے والے جو فلمی صنعت کو آگے بڑھاتے تھے۔ادھر انڈیا میں ادریس دہلوی جو مسافر بن کر ہمیں بمبئی کی فلمی دنیا کی تازہ ترین خبریں شمع میں دیتے تھے فلمی اشتہاروں کو ذہن میں لائیے جو روزنامہ جنگ کے صفحات میں شامل ہوتے تھے۔ کھڑکی توڑ ہفتہ۔ کروڑوں دلوں کی دھڑکن مسرت نذیر، جذبات کی ملکہ صبیحہ خانم۔امریکہ کے فلمی مرکز ہالی وڈ نے اپنی فلموں کے ذریعے اپنا کلچر انڈونیشیا سے کینیڈا تک متعارف کروایا اور مشرق کے مشترکہ خاندان کی روایت پر کاری ضربیں لگائیں ۔انڈیا کی فلموں نے بھی دنیا بھر میں اپنی ثقافت مسلط کرنے کی کوششیں کیں ۔پاکستانی فلمی صنعت نے اپنی کہانی موسیقی سے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا۔ خورشید انور کی موسیقی قتیل شفائی کے گیت کس کو ازبر نہیں ہیں۔ فلمی تنقیدی تبصرے بھی دنیا بھر میں بہت شوق سے پڑھے جاتے تھے ۔پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگراموں اور خبروں پر تابندہ لاری کا تبصرہ بہت مقبول ہوتا تھا ۔مبصر نواب کیفی بھی یاد کیجئیے۔ پی ٹی وی کے ڈرامے پڑوس میں بھی بہت شوق سے دیکھے جاتے تھے۔ مگر اب دور ہے سوشل میڈیا کا، ڈیڑھ دو گھنٹوں کی فلم کے بجائے چند سیکنڈ کی ٹک ٹاک ناظرین کو متاثر کر تی ہے۔مگر اتنے ہی سیکنڈ میں یہ تاثر زائل بھی ہو جاتا ہے۔ اب تفریح انٹرٹینمنٹ کی کیا صورت ہونی چاہیے یہ ہمارے کلچرل رپورٹرز اور کلچر ایڈیٹرز کو طے کرنا چاہیے۔ اخبار کے صفحات کے ساتھ ساتھ موبائل کی سکرین پر بھی اپنے قلم سے جادو جگائیں۔اب تحریر کو کنٹینٹ کہا جاتا ہے۔تقریب میں مصطفی قریشی صاحب کی ہمدمی نصیب ہوئی۔ ان سے عرض کیا کہ فلم دنیا کے عروج کی یادیں کتابی شکل میں لائیں یا اس کی ڈاکومنٹری بنائیں۔ یہ بھی ایک اہم اثاثہ ہے جوآئندہ نسل کو منتقل ہونا چاہیے۔

تازہ ترین