• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط، جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

جبران ناصر: فائل فوٹو
جبران ناصر: فائل فوٹو 

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے کیس کی تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 اپنے خط میں جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کےاہل خانہ کو جوڈیشل کمیشن کی حتمی رپورٹ فراہم کی جائے، تحقیقات کیلئے وفاقی اور صوبائی اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے۔

جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے اہل خانہ نے سپر میڈیکل بورڈ کے قیام کی مخالفت کی، اہلخانہ کو میر رضا کمیشن کی رپورٹ فراہم نہ کرنا حکومتی یقین دہانی کے منافی ہوگا۔

وکیل جبران ناصر نے اپنے خط میں کہا کہ پولیس کی غفلت سامنے آنے کے باوجود کسی افسر کے خلاف تحقیقات نہیں کی گئی۔

کیس کا پس منظر:۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔

پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔

قومی خبریں سے مزید