امریکی کمپنی کے سی ای او ہاورڈ ہاچ ہاؤسر نے اپنے عملے کے ساتھ بریک روم میں گھل مل کر لنچ کرنا پسند کرتے ہیں اور اس کی انہوں نے وجہ بھی بتادی۔
فارچیون کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاورڈ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عادت 1990ء کی دہائی کے آخر میں ’بیئر اسٹرنز‘ کے زمانے سے پڑی، جہاں کمپنی کے بانی ایس گرینبرگ شیشے کے بند کمرے میں بیٹھنے کے بجائے روزانہ ملازمین کے درمیان زمین یا عام میز پر بیٹھتے تھے، جو انکے دل پر نقش ہو گیا۔
سی ای او کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیڑھیاں چڑھ کر آنے والی خبریں اکثر فلٹر ہو جاتی ہیں، لیکن دوپہر کے کھانے کی میز پر ملازمین سے ہونے والی غیر رسمی گفتگو انہیں کمپنی کی اصل صورتحال اور سچی رائے فراہم کرتی ہے۔
جب کمپنی نے ملازمین کی دوبارہ آفس واپسی کے حوالے سے پالیسی بنانی تھی، تو ہاورڈ نے اس کا اعلان کرنے سے پہلے ملازمین سے لنچ پر بات کی۔
ملازمین نے بچوں کے اسکول اور فیملی کے امور کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا، جنہیں سی ای او نے مثبت انداز میں قبول کرتے ہوئے پالیسی میں شامل کیا اور کہا، ’آپ بالغ ہیں، اپنی عقل کا استعمال کریں۔‘
ہاورڈ اکیلے نہیں ہیں؛ ایپل کے سابق سی ای او ٹِم کک، ڈولنگو کے شریک بانی لوئس وان آہن اور فرسٹ واچ کے سی ای او کرس ٹوماسو بھی ملازمین کے ساتھ کیفے ٹیریا میں کھانا کھانے کی روایت پر عمل پیرا رہے ہیں۔