اسلام آباد (عاصم جاوید‘ساجد چوہدری) نائب وزیر اعظم ‘وزیرخارجہ اورقائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چھ ماہ بعد خیبر پختونخوا اسمبلی بحال ہو جائے گی‘ حکومت کو سال ڈیڑھ سال لگ جائیں گے‘ سہیل آفریدی کے دور میں دہشت گردی کے واقعات دگنے ہو گئے‘8سوارب روپیہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے جاچکا ہے ‘وہاں فرانزک لیب اور سی ٹی ڈی نہیں بنی‘ اللہ تعالیٰ عمران خان کو جیل سے باہرلے آئے گا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا۔ 25 نومبر کو جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی کو کہا کہ ہم آپ کو جگہ دیتے ہیں‘ انہوں نے کہا نہیں ہماری بانی سے فون پر بات کرائی جائے‘جب فون پر بات ہوئی تو آدھی پارٹی نے کہا ہم مانتے ہی نہیں‘ کہا گیا کہ ہم تب مانیں گے جب ویڈیو میسج ریکارڈ کروائیں گے۔ بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ جاکر ان کا ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں‘ ہم نے دو گھنٹے انتظار کیا ‘ عمران خان نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراؤں گا‘ ہم نے وزیراعظم اور صدر کو بتایا‘ ہم سلاخوں کے پیچھے لے کرگئے‘ انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا‘ بعدمیں کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔ مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نہ لگتی‘مذاکراتی ٹیم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تمام معاملات سے آگاہ کرتی رہی‘مذاکرات میں سب طے ہونے کے بعد تحریر سہیل آفریدی کو دی گئی‘ سہیل آفریدی مراد سعید سے مشاورت کرتے رہے ‘اس طرح حکومت کی دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ہونے والی دہشت گردی میں 80 فیصد افراد افغانستان سے آ رہے ہیں‘ پی ٹی آئی کے کئی افراد کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے رابطے ہیں‘وقت آنے پر ثبوت پیش کر دیں گے ۔ گزشتہ روز سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہناتھاکہ حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے آئینی طریقہ کار پر عمل کیا۔ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔