اسلام آباد (ساجد چوہدری ، عاصم جاوید، شاہد سلطان) ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ سیاہ دن ہے‘ مذاکرات ایک ڈھونگ تھا‘ حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کا پہلے سے طے کر رکھا تھا‘ صوبے میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، سیاسی مسائل پر اتفاق ہو گیا تھا، اختلاف سکیورٹی معاملات کو سیاسی مسائل کے ساتھ جوڑنے پر ہواجبکہ سینیٹر علی ظفر نے کہا حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگا کر کھلم کھلا آئین شکنی کی ہے‘دہشت گردی کی آڑ میں صوبے پر قبضہ کیا گیا، منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر ناصر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے پی سے زیادہ خطرناک ہیں‘ایک قیدی سے ملاقات کرانا کیا بہت بڑا مسئلہ ہے ؟، جب پارلیمنٹ اور کورٹ سے ریلیف نہ ملے تو ہم مارچ بھی نہ کریں ؟جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اس وقت بھی احتجاج کرنے والے بہت کم لوگ تھے‘ جمہوریت کا جنازہ نکالنے سے عوام آگے بڑھنے کے لیے دوسرے راستے اختیار کر سکتے ہیں‘اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو پھر ایمرجنسی صرف خیبر پختونخوا میں کیوں، پورے پاکستان میں لگائی جائے‘‘گورنر کہتا ہے آپ ڈر گئے باہر نکلو ، مشرف ڈکٹیٹر تھا لیکن وہ برداشت کررہا تھا لیکن آپ اختلاف برداشت نہیں کرتے‘بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی شرط سے بھی ہم ہٹ گئے تھے‘ آپ کو بھی پیچھے ہٹ جانا چاہئے تھا۔