• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدیم مصر میں بادشاہوں کی موت پر درباریوں کی قربانی دینے کے شواہد سامنے آ گئے

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

قدیم مصر میں بادشاہوں کی موت کے بعد درباریوں کی قربانی دیے جانے کے پختہ شواہد سامنے آ گئے۔

حالیہ سائنسی تحقیق کے نتائج کے مطابق 5 ہزار سال پرانی انسانی کھوپڑیوں کے جدید فرانزک تجزیے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ قدیم مصر میں فرعونوں کی موت کے بعد ان کے درباریوں کو بھی ہلاک کر کے ساتھ دفن کیا جاتا تھا تاکہ وہ اگلی زندگی میں بھی اپنے بادشاہ کی خدمت کر سکیں۔

یہ تحقیق مصر کے قدیم شاہی قبرستان ابیدوس میں دریافت ہونے والی باقیات پر کی گئی۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 46 کھوپڑیوں کا جدید فرانزک طریقوں سے جائزہ لیا، جن میں سے 18 پر ایسی چوٹوں کے نشانات ملے جو کہ موت کے قریب لگائی گئی تھیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے فرنٹیئرز ان انوائرمینٹل آرکیولوجی میں شائع ہوئی ہے۔

مصر کے قدیم شاہی قبرستان ابیدوس سے دریافت ہونے والی یہ باقیات مصر کے ابتدائی شاہی دور یعنی تقریباً 3100 سے 2900 قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں۔

برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ فلنڈرز پیٹری نے 1920ء کی دہائی میں ابیدوس کے شاہی مقبروں کے اطراف میں سیکڑوں چھوٹی قبریں دریافت کی تھیں۔

ان قبروں میں شاہی خاندان کے اہلکاروں، ملازمین، ہنر مندوں اور دربار سے وابستہ دیگر افراد کو دفن کیا گیا تھا۔

قبروں کی بڑی تعداد اور ان کی شاہی مقبروں کے قریب موجودگی نے ماہرین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ کیا ان افراد کو بادشاہ کی موت کے بعد جان بوجھ کر قتل کر کے اس کے ساتھ دفن کیا گیا تھا؟

قدیم معاشروں میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ حکمراں کو مرنے کے بعد بھی خدمت اور آسائشوں کی ضرورت ہو گی، اسی تصور کے تحت بعض درباریوں کو قتل کر کے بادشاہ کے ساتھ دفن کر دیا جاتا تھا۔

یہ دریافت قدیم مصری تدفینی رسومات اور بعد از موت زندگی سے متعلق عقائد کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ان باقیات سے حاصل ہونے والے شواہد کی تشریح کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید