برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں تیرہویں صدی کے عظیم فارسی صوفی شاعر اور مفکر مولانا جلال الدین رومی کی زندگی، شاعری اور روحانی تعلیمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منفرد ثقافتی و روحانی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں محبت، امن، امید، رواداری اور انسانیت کا پیغام فن، موسیقی، شاعری اور داستان گوئی کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔
سینٹ جارجز ہال میں منعقدہ تقریب ’’رومی ریوائیول: ہیلڈ بائی ہوپ‘‘ میں مختلف ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران صوفیانہ موسیقی کی مسحور کن دھنوں، روح پرور کلام، شاعری اور قصہ گوئی نے حاضرین کو مولانا رومی کی فکر اور صوفی روایت کی گہرائی سے روشناس کرایا۔
پروگرام کا آغاز مقدس کلام کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد مختلف فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تقریب کا ایک نمایاں اور دلکش حصہ بوسنیا کے گھومتے درویشوں کی روح پرور پرفارمنس تھی، جس نے حاضرین کی خصوصی توجہ حاصل کی اور صوفیانہ روایت میں روحانی وابستگی، محبت اور باطنی سفر کی اہمیت کو نمایاں کیا۔
اس موقع پر بوسنیا کے معروف گلوکار ارمین مظفریجا، اسکالر استاد فریدون مجددی، گلوکار میکائیل ملا، شیخ شویر اور دی صوفی انسمبل سمیت دیگر فنکاروں نے شرکت کی اور اپنی پرفارمنس کے ذریعے تقریب کو یادگار بنایا۔
تقریب کے منتظمین کے مطابق، اس پروگرام کا بنیادی مقصد مولانا رومی کی آفاقی تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچانا اور مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو محبت، رواداری اور انسانیت کے مشترکہ رشتے میں جوڑنا ہے۔ تقریب کے ذریعے اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ رومی کی فکر کسی ایک خطے، زبان یا مذہبی و ثقافتی دائرے تک محدود نہیں، بلکہ ان کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے۔
مولانا جلال الدین رومی کی شاعری اور تعلیمات کئی صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کے لیے فکری اور روحانی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کے کلام میں محبت کو انسانی تعلقات کی بنیاد، امید کو مشکلات سے نکلنے کا وسیلہ اور باہمی احترام کو ایک پُرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
رومی ریوائیول: ہیلڈ بائی ہوپ اسی فکر کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے سامنے لانے کی ایک کوشش تھی۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں نفرت، تنازعات اور تقسیم کے رجحانات نمایاں ہیں، رومی کا پیغام انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، اختلافات کے باوجود باہمی احترام کو فروغ دینے اور محبت و امید کے رشتوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔
بریڈفورڈ میں منعقدہ اس تقریب نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ فن، موسیقی اور ادب مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے مؤثر ذرائع ہیں۔ رومی کی فکر سے متاثر اس اجتماع کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ محبت، امن اور انسانیت کی زبان سرحدوں، نسلوں اور زمانوں کی پابند نہیں ہوتی، بلکہ ہر دور میں دلوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔