1971 ءسے وقفوں وقفوں سے حکمرانی سنبھالتی پی پی کو 11اکتوبر 2026ءکو ایک اور صوبہ مل گیا۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کو کے پی کے میں اپنی صوبائی حکومت ختم ہونے سے آخری حکومتی ذمہ داری سے بھی نجات مل گئی ۔اب وہ واہگہ سے گوادر تک سرکار مخالفت کیلئے مکمل طور پر آزاد ہے ۔ساری حکومتیں ذمہ داریوں کیلئے جواب دہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی والے ہوںگے ۔بلاول بھٹو زرداری کے ناتواں مگر نوجوان کندھوں پر ایک اور ذمہ داری کا بوجھ لد گیا ہے۔ اب انہیں اپنی سیاسی، سماجی، انتظامی، آئینی ،قانونی صلاحیتوں کے مظاہرےکیلئے ایک طرف افغانستان ایران سے ملحقہ بلوچستان دوسری طرف افغانستان سے متصل خیبر پختون خوا تیسری طرف بھارت کے مقبوضہ علاقوں سے لگے گلگت بلتستان کے حساس علاقے میسر آگئے ہیں۔ سندھ میں تو ان کی اہلیت کے تجربے 2008 ءسے پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں۔ صرف پنجاب اور اسلام آباد ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ مگر لاہور میں ان کے گورنر موجود ہیں اسی طرح آئینی طور پر کچھ فریضہ وہاں بھی ہے۔ پاکستان کی مخصوص صورتحال میں حکمرانی پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں بھرا رستہ ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پی پی پی کی اپوزیشن پی ٹی آئی نہیں ہے بلکہ حکومت میں ان کے ساتھ شامل پاکستان مسلم لیگ نون ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے آزاد کشمیر کے انتخابات میں نون لیگ کی انکے خلاف شعلہ بیانی ہم سب سن چکے ہیں۔ سندھ میں بھی ان کی مخالف متحدہ قومی موومنٹ ہے جو مرکز میں مسلم لیگ نون کے ساتھ شریک اقتدار ہے۔ اپنے سرپرستوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ان سب کو پاکستان تحریک انصاف کا سامنا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اب کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ یہ تو اب ایک امکانی سوال بن کر رہ جائے گا۔ موجودہ حقیقت یہ ہے کہ فارم 45اور 47 کی بحث میں پڑے بغیر اب ان دونوں بڑی حکمران پارٹیوں کو لاہور سے کوئٹہ تک معیشت، تعلیم، زراعت،صنعت و حرفت،بحری تجارت، برآمدات، درآمدات، ٹیکنالوجی، خارجہ پالیسی، امن و امان، مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل ،خوراک ،صحت، بڑھتی آبادی، قانون، عدلیہ، پینے کے صاف پانی ،نوجوانوں کی بڑی تعداد کے ترک وطن، پٹرول کی فراہمی،بڑھتی قیمتوں،گیس کی فراہمی، بڑھتی قیمتوں ،جنگلات، اناج کی فی ایکڑ پیداوار،یونیورسٹیوں کے مالی معاملات ،دہشت گردی، میڈیا کی آزادی،تحریر و تقریر کی آزادی، سماجی اصلاحات،غربت کی لکیر سے نیچے بڑھتی تعداد کا جواب دینا ہوگا ۔
25 کروڑ کی آبادی میں مسلم لیگ نون کے پاس پنجاب کے 127730000جیتے جاگتے انسانوں، اسلام آباد کے 2363863بچوں، خواتین، مردوں کی حفاظت، صحت، جان مال کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔ یعنی 25 میں سے 13 کروڑ کی بہبود کیلئے مسلم لیگ نون ۔اس کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پارلیمنٹ کو اور تاریخ کو جواب دہ ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری۔ صدر مملکت آصف علی زرداری۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ۔ بلوچستان کے وزیراعلی میر سرفراز احمدبگٹی کے پی کے کے با اختیار گورنرفیصل کریم کنڈی ۔گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ذمہ دار ہیں۔ سندھ کے باشعور ساڑھے پانچ کروڑ، بلوچستان کے باضمیر ڈیڑھ کروڑ ،خیبر پختون خوا کے انتہائی جمہوری مزاج رکھنے والے پونے پانچ کروڑ۔ گلگت بلتستان کے درد مند 17 لاکھ کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اب 1967 سے وجود میں آنے والی، اپنے دو وزرائے اعظم ،سینکڑوں کارکنوں، رہنماؤں کی جانوں کی قربانی دینے والی پی پی پی کا آئینی،قانونی، سیاسی ،سماجی،جمہوری فریضہ ہے۔ وہ اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتی۔ 25 کروڑ پاکستانیوں میں سے 12 کروڑ کے سارے حقوق کے تحفظ اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری اب 11 اکتوبر 2026ءسے پی پی کی قیادت کے سر پر ہے،دونوں پارٹیاں حکمرانی اور اپوزیشن کا طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ دونوں کو اپنے اختیارات، فرائض اور قانونی مراحل کا بخوبی علم ہے۔ 11اکتوبر سے اب یہ کسی اور کو ذمہ دار نہیں کہہ سکتی ہیں۔ انہیں یہ بھی اچھی طرح احساس ہوگا کہ اب حکمرانی بیسویں صدی کی دہائیوں کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہے اور انہوں نے ان مشکل حالات میں اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے یہ راج سنبھالا ہے۔
پاکستان کی تاریخ کے انتہائی مشکل پیچیدہ اور نازک وقت میں دونوں پارٹیاں اگر یہ مشکل راستہ اختیار کر رہی ہیں تو یقیناً ان کے پاس کوئی طویل روڈ میپ ہوگا ۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اقتدار ان کے ہاتھوں میں منتقل کیا جا چکا ہے اور انہوں نے ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کا حلف بھی اٹھایا ہے۔ اللہ تعالی کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے بہ صدق دل کہا ہے کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان سے مخلص رہوں گا۔ اپنی بہترین صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین، قانون اور ضابطوں کے مطابق اپنے فرائض انجام دوں گا ۔پاکستان کی سلامتی ،سالمیت اس کے نظریے اور بقا کو ہمیشہ مقدم رکھوں گا اور یہ کہ میں اپنے منصب کے فرائض انجام دیتے ہوئے ہر قسم کے خوف جانبداری کو عداوت یا محبت کے بغیر تمام لوگوں کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق انصاف کروں گا ۔میں اسلامی، اسلام کے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر حاصل ہونے والے استحکام کو برقرار رکھنےکیلئے بھرپور جدوجہد کروں گا ۔
دونوں پارٹیوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ اور مقتدرہ ایک صفحے پر ہیں۔ ہر چند کہ اب عدلیہ پہلے کی طرح حکمرانوں پرنظر رکھنے کے اختیارات نہیں رکھتی اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے خبریں چھپی نہیں رہ سکتیں۔ذرا سی دیر میں وڈیوز پوری دنیا میں لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں ۔اس لئے جہاں ہر قدم خبردار رہنا ہوگا ،ان پارٹیوں کے قائدین کو اپنے اس حلف کی پاسداری خود ہی صدق دل سےکرنا ہے۔ خوف اور جانبداری سے گریز بھی خود ہی کرنا ہے۔ اب انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ مختلف شعبوں میں ہمارے عظیم وطن کی درجہ بندی کیا ہے اور ہم کتنی پستیوں میں گرچکے ہیں۔یہ بھی پیش نظررہے کہ آپ دونوں پارٹیوں کی گزشتہ کارکردگی بہتر نہیں رہی ہے ۔سب سے اولین ترجیح میرے نزدیک ایک طرف غربت کی لکیر سے نیچے جانے سےبڑی تعداد کو روکنا ہے اور بڑی تعداد کو غربت سے اوپر لانا ہے۔ آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات حاصل کرنا ہے۔ با صلاحیت نوجوانوں کو ترک وطن سے روکنا ہے۔بہتر ہوگا ایک طرف نون کے سپریم لیڈر قوم سے خطاب کر کے اپنی ترجیحات بتائیں اور چپ کا روزہ ختم کریں ۔اسی طرح بلاول بھٹو زرداری اپنی بصیرت عوام کے سامنے لائیں پارلیمانی جمہوریتوں میں ایسے بحرانوں کے بعدمعاملات بالآخر نئےانتخابات پرہی منتج ہوتےہیں،آپ نے اگر عوام کو درپیش سنگین مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی اور منصفانہ انتخابات نہیں کروائے تو پی ٹی آئی کچھ کئے بغیر مقبول ہوتی رہے گی۔