• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں معدنی ذخائر کی مالیت اندازاً 6 ہزار سے 8 ہزار ارب ڈالرز تک ہے، سرکاری تخمینہ

اسلام آباد (قاسم عباسی) حالیہ پالیسی تجزیے میں پیش کیے گئے سرکاری تخمینے کے مطابق، پاکستان کے معدنی ذخائر کی مالیت اندازاً 6؍ ہزار سے 8؍ ہزار ارب (8؍ ٹریلین) ڈالر تک ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معاشی انحصار سے بچنے اور اسٹریٹجک فوائد کو بڑھانے کیلئے پاکستان کو خام مال برآمد کرنیوالے ملک سے صنعتی پراسیسنگ کا مرکز بننا ہوگا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے تازہ ترین تجزیے، جس کا عنوان ’’معدنیات کی نئی جغرافیائی سیاست: پاکستان کیلئے صرف معدنیات نکالنے سے آگے بڑھنا کیوں ضروری ہے‘‘ ہے، میں اہم معدنیات کے حوالے سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے اور اس میں پاکستان کی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پاکستان کے مجموعی معدنی وسائل کا تخمینہ تقریباً 6؍ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے علاقے میں لگایا گیا ہے، جہاں 92؍ معلوم معدنیات موجود ہیں، جن میں سے 52؍ معدنیات تجارتی بنیادوں پر نکالی جاتی ہیں۔ وسائل کی اس وسیع موجودگی کے باوجود، کان کنی کے شعبے کا ملکی مجموعی قومی پیداوار میں تاریخی طور پر حصہ 3؍ فیصد سے بھی کم رہا ہے۔ پاکستان کے نمایاں ترین معدنی اثاثوں میں ریکوڈک منصوبہ شامل ہے، جو دنیا کے تانبے اور سونے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے میں خام معدنیات کی مقدار کا تخمینہ 5.9؍ ارب ٹن ہے۔ ریکوڈک میں تجارتی پیداوار 2028ء تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ ابتدائی طور پر سالانہ دو لاکھ ٹن تانبا پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو توسیع کے بعد بڑھ کر چار لاکھ ٹن سالانہ ہو جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید