صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں دوبارہ فوجی کارروائیوں کا حکم دیے جانے کی صورت میں امریکی فوج ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے سب سے بڑے غیر جوہری بم کے استعمال کی منصوبہ بندی کر چکی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اس کارروائی میں جی بی یو 43 بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم (ایم او اے بی) استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے ’مدر آف آل بمز‘ یعنی تمام بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بم کا استعمال ایسے وقت میں جاری تنازع کو مزید شدت دے سکتا ہے جب لڑائی میں نسبتاً کمی آئی ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس کارروائی سے امریکا اپنے مقاصد کس حد تک حاصل کر سکے گا؟
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برسلز میں مقیم دفاعی ماہر الیجاہ میگنیئر نے کہا ہے کہ اس بم کا استعمال ایران کی گہرائی میں واقع زیرِ زمین جوہری تنصیبات کی تباہی کی ضمانت نہیں دے سکتا اور یہ کارروائی محض ’سیاسی تماشہ‘ ثابت ہو سکتی ہے۔
مدر آف آل بمز کیا ہے؟
عرب میڈیا کے مطابق جی بی یو 43 بی ایم او اے بی ایک بہت بڑا غیر جوہری بم ہے، جس میں تقریباً 8 ہزار 500 کلو گرام دھماکا خیز مواد موجود ہوتا ہے۔
اس بم کا مجموعی وزن تقریباً 9 ہزار 800 کلو گرام ہے، جبکہ اس کی لمبائی 9 میٹر سے زیادہ ہے۔
یہ بم عموماً لاک ہیڈ سی 130 ہرکیولس فوجی کارگو طیارے سے گرایا جاتا ہے، کیونکہ یہ بم اسٹیلتھ بمبار طیارے میں سما نہیں سکتا۔
اس بم کی تیاری 2002ء اور 2003ء کے درمیان کی گئی اور اس کے 12 دھماکا خیز تجربات کیے گئے۔
اس کے نام کا تعلق عراق کے سابق صدر صدام حسین کے 1991ء کی خلیجی جنگ کے دوران استعمال کیے گئے جملے ’مدر آف آل بیٹلز‘ سے جوڑا جاتا ہے۔
امریکا نے اب تک اس بم کو صرف ایک مرتبہ جنگی کارروائی میں استعمال کیا ہے، 2017ء میں افغانستان میں داعش خراسان کے جنگجوؤں کے غاروں اور سرنگوں کے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے لیے یہ بم گرایا گیا تھا۔
افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دھماکے میں داعش خراسان کے 94 جنگجو مارے گئے اور کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا، تاہم مقامی سطح پر شہری ہلاکتوں کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں اور متعدد مکانات تباہ ہوئے تھے۔
یہ بم کتنی تباہی پھیلا سکتا ہے؟
مدر آف آل بمز کو زمین سے کچھ بلندی پر دھماکے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اس کے دھماکے سے پیدا ہونے والی شدید موجیں عمارتوں، غاروں کے داخلی راستوں اور زمین پر موجود دیگر مضبوط ڈھانچوں کو تباہ کر سکتی ہیں۔
فوجی ماہر کرنل ندال ابو زید کے مطابق یہ بم ہدف سے ٹکرائے بغیر بھی پھٹ سکتا ہے اور اس کا شدید دھماکا زمین پر تقریباً 1 کلو میٹر کے دائرے میں موجود چیزوں کو تباہ کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اس بم کو ایران کے زمینی فوجی ٹھکانوں اور بعض زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے پر غور کر سکتا ہے، جن میں پِک ایکس ماؤنٹین بھی شامل ہے۔
تباہی کی شدت کا انحصار علاقے کی جغرافیائی ساخت، آبادی اور ہدف کی نوعیت پر ہو گا، گہرائی میں موجود زیرِ زمین تنصیبات کے خلاف یہ بم زیادہ مؤثر ثابت نہ بھی ہو سکے۔
ایران کی بعض جوہری تنصیبات، بشمول فردو کمپلیکس اور پِک ایکس ماؤنٹین میں زیرِ تعمیر تنصیب، مضبوط حفاظتی انتظامات اور گہری زیرِ زمین پوزیشنوں کی وجہ سے خاصی محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔
دفاعی ماہر الیجاہ میگنیئر کے مطابق افغانستان میں اس بم کا استعمال غاروں اور سرنگوں میں موجود اہداف کے خلاف اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ہر قسم کی زیرِ زمین تنصیب کو تباہ کر سکتا ہے۔
یہ بنکر بسٹر بم سے کتنا مختلف ہے؟
مدر آف آل بمز کے برعکس بنکر بسٹر بم خاص طور پر زمین، مضبوط کنکریٹ اور پہاڑوں کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
امریکی فوج کا سب سے طاقت ور بنکر بسٹر جی بی یو 57 میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر ہے، جس کا وزن تقریباً 13 ہزار 600 کلو گرام ہے اور اس میں تقریباً 2 ہزار 700 کلو گرام وزنی وار ہیڈ موجود ہوتا ہے۔
یہ اعلیٰ طاقت کے فولاد سے تیار کیا گیا ہے اور دھماکے سے قبل تقریباً 61 میٹر زیرِ زمین تک داخل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کیا امریکا واقعی مدر آف آل بمز استعمال کرے گا؟
ماہرین کے مطابق مدر آف آل بمز کو استعمال کرنے میں کئی عملی مشکلات موجود ہیں، ایران کی جوہری تنصیبات تک پہنچنے کے لیے مطلوبہ طیاروں کی تعیناتی بھی مشکل ہو سکتی ہے، جبکہ اسٹیلتھ بمبار طیارے جو ایسے علاقوں میں کارروائی کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں، اس حجم کا بم لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
الیجاہ میگنیئر کے مطابق اس بم کے استعمال سے بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کا خطرہ تو ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے۔
انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہی اہداف کسی دوسرے دستیاب ہتھیار سے حاصل کیے جا سکتے ہیں تو اتنا بڑا بم استعمال کرنے کا فائدہ کیا ہو گا؟ اگر اس کارروائی کا بنیادی مقصد صرف ایک بڑا دھماکا دکھانا ہو تو یہ عمل فوجی حکمتِ عملی کے بجائے سیاسی تماشہ بن کر رہ جائے گا۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ نجی ملاقاتوں میں ایسی جنگ کے ’فیصلہ کن‘ خاتمے کے خواہاں ہیں جس سے یہ تاثر قائم ہو کہ امریکا کو شکست نہیں ہوئی۔
امریکا کے اس حملے پر ایران کا ممکنہ ردِعمل کیا ہو گا؟
ماہرین کے مطابق مدر آف آل بمز کے استعمال سے ایران کی جانب سے شدید ردفعمل سامنے آ سکتا ہے، ایران ان پڑوسی ممالک کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا ہے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
ایرانی سیکیورٹی حکام کئی ماہ سے کویت جیسے ممالک میں زمینی کارروائی کے امکان پر بیانات دیتے رہے ہیں، جن کے ذریعے امریکی فوجیوں کو گرفتار کر کے واشنگٹن کو پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ نئی جنگ کی تیاری کے لیے ہتھیاروں کے ذخائر بڑھا رہا ہے، اہم جوہری اور دفاعی تنصیبات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے اور اپنے حامیوں کو متحرک کر رہا ہے۔