• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہرینِ فلکیات کا پہلی بار سبز ستارے کی دریافت کا دعویٰ

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانوی ماہرینِ فلکیات کی جانب سے پہلی بار سبز ستارے کی دریافت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ تحقیق میں پہلی بار سبز ستارے کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفید بونے ستارے مختلف رنگوں میں بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام ستاروں کا رنگ بنیادی طور پر ان کے درجۂ حرارت کے باعث ہوتا ہے، نسبتاً ٹھنڈے ستارے نارنجی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ہمارا سورج، جو ان سے زیادہ گرم ہے، سفید نظر آتا ہے، انتہائی گرم ستاروں کا رنگ ہلکا نیلا ہوتا ہے۔

اس سے قبل محققین کا خیال تھا کہ سفید بونے ستارے بھی اسی اصول کے تحت رنگ اختیار کرتے ہیں اور یہ وہ باقیات ہیں جو سورج جیسے ستاروں کی زندگی کے آخری مراحل میں پیچھے رہ جاتے ہیں، تاہم نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے نام کے برعکس سفید بونے ستارے مختلف رنگوں میں دکھائی دے سکتے ہیں۔

تحقیق کے مصنفین کے مطابق اگر ان ستاروں کا قریب سے مشاہدہ ممکن ہو تو وہ گلابی، نیلا مائل فیروزی، پیلے، جامنی اور حتیٰ کہ سبز رنگ کے بھی دکھائی دے سکتے ہیں، محققین نے اپنی نوعیت کی پہلی مثال بھی شناخت کی ہے۔

یونیورسٹی آف واروک سے وابستہ اور تحقیق کی قیادت کرنے والے مارک ہولینڈز نے کہا کہ زیادہ تر ستارے، جن میں سفید بونے ستاروں کی اکثریت بھی شامل ہے، مکمل تاب کاروں کی طرح کام کرتے ہیں، اس لیے ان کا رنگ تقریباً مکمل طور پر درجۂ حرارت سے متعین ہوتا ہے، تاہم کسی نے اس بات کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا تھا کہ سفید بونے ستاروں میں اس کے علاوہ رنگوں کی کون سی صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ یہ غیر معمولی طور پر کثیف ستارے (dense stars) ایسے رنگ پیدا کر سکتے ہیں جن کی کسی کو توقع نہیں تھی اور ان میں سے بعض نے مجھے بھی واقعی حیران کر دیا۔

محققین کے مطابق سفید بونے ستارے اپنی غیر معمولی کثافت کے باعث دوسرے ستاروں سے مختلف ہوتے ہیں، ان کی کثافت سورج کی بیرونی تہہ کی کثافت سے لاکھوں گنا زیادہ ہوتی ہے، جبکہ سورج کی بیرونی تہہ کی کثافت تقریباً پانی کے برابر ہے۔

اس غیر معمولی کثافت کے باعث سفید بونے ستاروں میں موجود مختلف عناصر ان کے اندر پائے جانے والے پلازما کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں، نتیجتاً یہ عناصر روشنی کو جذب کرتے ہیں، جس سے ان ستاروں کے مختلف رنگوں میں دکھائی دینے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید