امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں تاہم صدر ٹرمپ نے دیگر فوجی کارروائیوں کے امکانات کو رد نہیں کیا۔
نیوز میکس کو انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہے لیکن ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
ایران پر حملے کے لیے انتہائی طاقتور غیر ایٹمی بم جسے ’مدر آف آل بمز‘ کہا جاتا ہے، استعمال کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایٹمی بم نہیں بلکہ انتہائی بڑا روایتی بم ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بم میں تقریباً 8.5 ٹن دھماکا خیز مواد ہوتا ہے اور اسے زمین سے کچھ بلندی پر پھٹنے کے لیے بنایا گیا ہے جس سے وسیع علاقے میں شدید تباہی پھیل سکتی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی ماہرین کو شبہ ہے کہ یہ بم ایران کے پہاڑوں کے اندر قائم گہرے زیرِ زمین جوہری مراکز کو تباہ کر سکے گا یا نہیں، ان میں وہ تنصیبات بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کے ’پکیکس ماؤنٹین‘ کے نیچے موجود ہیں، اس بم کو ہدف تک پہنچانے کے لیے بڑے طیارے کی ضرورت بھی ممکنہ رکاوٹ بن سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کا امکان کم ہے تاہم انہوں نے اس مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہوگا۔