• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے صدر ابھیجیت دیپکے اور نیہا بورا کو حراست میں لے لیا

فوٹو: بھارتی میڈیا
فوٹو: بھارتی میڈیا 

بھارتی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے صدر ابھیجیت دیپکے اور اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔

دہلی پولیس نے ابھجیت دیپکے کو دہلی میں ان کے گھر سے اس وقت حراست میں لیا، جب  وہ کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی نکالنے والے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ابھجیت دیپکے کو ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہیں ممبئی سے دہلی پہنچنے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے معاملے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ 

یہ احتجاج انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ میں مبینہ ردوبدل کے الزامات کے خلاف کیا جانا تھا۔

ریلی کے انعقاد کی ایک وجہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ارکان سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری بھی تھی۔ دونوں کو 13 اکتوبر کو قومی پرچم لہراتے ہوئے جنتر منتر میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 

یہ کارروائی اس مقام کو احتجاجی مقام کی حیثیت سے ختم کیے جانے کے ایک روز بعد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کارکنوں کو پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیجا گیا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس اہلکار نے دیپکے سے کہا کہ وہ نئی دہلی نہیں جا سکتے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اس پر دیپکے نے سوال کیا کہ اگر وہ نئی دہلی نہیں جا سکتے تو کسی دوسری جگہ جا سکتے ہیں، اور انہوں نے کون سا قانون توڑا ہے۔

دوسری جانب طلبہ رہنما اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی سربراہ نیہا بورا کو بھی جنتر منتر کے قریب حراست میں لیا گیا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ کناٹ پلیس میں سی اے پی ایف کی 2 سو زائد کمپنیاں اور 6 ہزار اہلکار تعینات کردیے گئے،  سی جے پی نے آج کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید