وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان کیٹی زکریا وکالت کے دعوے پر تنازع کے بعد چھٹے روز اپنے عہدے سے مستعٰفی ہوگئیں۔
مختصر اور تنازعات سے بھرپور مدتِ ملازمت کے دوران ان کے پیشہ ورانہ پس منظر اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے کے انداز پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے۔
منگل کو اپنی پہلی پریس بریفنگ کے دوران کیٹی زکریا اس وقت فوری طور پر تنقید کی زد میں آ گئیں، جب وہ صدر اور ان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے قدرے ہچکچاہٹ اور غیر روانی کے ساتھ گفتگو کرتی دکھائی دیں۔
اپنی پہلی اور واحد پریس بریفنگ میں کیٹی نے صرف 3 صحافیوں کے سوالات لیے، ان تینوں کا تعلق قدامت پسند رجحانات رکھنے والے یا ٹرمپ کے حامی سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ سے تھا، بریفنگ تقریباً 14 منٹ بعد ختم ہو گئی تھی۔
تقریباً 14 منٹ جاری رہنے والی کیٹی کی اس پہلی بریفنگ کے بعد ان پر طویل عرصے سے خود کو وکیل ظاہر کرنے پر بھی تنقید ہوئی۔
قانونی اسناد پر تنقید اور سوالات کے بعد وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا نے اعتراف کیا کہ وہ وکالت کے لائسنس کے حصول کے لیے کیلیفورنیا کا لازمی بار امتحان پاس نہیں کر سکیں۔
ان کے اعتراف کے بعد ان کی قانونی اسناد سے متعلق عوامی سطح پر جاری بحث اور سوالات نے شدت اختیار کر لی ہے۔
بعدازاں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کیٹی زکریا کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میڈیا نے کیٹی زکریا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنی پریس سیکریٹری سے پوچھا کہ کیٹی، کیا آپ کو اس سب کی ضرورت ہے؟ میرے خیال میں آپ کو اس کی ضرورت نہیں۔
ان کے مطابق میں چاہتا ہوں کہ کیٹی زکریا اچھی زندگی گزاریں اور انہیں مسلسل تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صدر نے میڈیا کی تنقید کو ’میڈیا کے ہاتھوں بے رحمی سے نشانہ بنائے جانے‘ سے تشبیہ دی۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد کیٹی زکریا نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔