• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی نے ایل ایل بی کی 1148 اسناد منسوخ کردیں، 64 درست قرار

کراچی(سید محمد عسکری)شاہ عبداللطیف یونیورسٹی نے شفافیت اور میرٹ کو بنیاد بنا کر ایل ایل بی کے 1,184غیر قانونی تعلیمی اندراجات اور متعلقہ اسناد کو کالعدم قرار دے کر ان کے نوٹیفکیشن کی نقول ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان بار کونسل اور متعلقہ صوبائی بار کونسلز کو ارسال کردی ہے جب کہ صرف 64 امیدواروں کا تعلیمی ریکارڈ درست اور قانونی قرار دیا گیا۔ ادہر جامعہ کراچی میں قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو کی دور میں ایل ایل بی کے 150 سے زائد فیل امیدواروں کو اسکروٹنی کی بنیاد پر پاس کرنے کے میگا اسکینڈل پر خاموشی اختیار کرلی گئی ہے اور تاحال اس پر کوئی کمیٹی نہیں بن سکی ہے اور نہ ہی نتائج منسوخ کیے گئے ہیں صرف ناظم امتحانات کو فارغ کر کے معاملہ نبٹادیا دیا گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی تحقیقاتی کمیٹی نے متعلقہ امیدواروں کے امتحانی ریکارڈ، حاضری شیٹس، فیس ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزی شواہد کی جامع جانچ پڑتال کے بعد 1,184 امیدواروں کا تعلیمی ریکارڈ جعلی قرار دیا جب کہ 64 کا مستند اور قانونی قرار دیا اور غیر قانونی اندراجات کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کے منظور شدہ فیصلوں اور سینئر پروفیسرزو افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں دونوں نوعیت کے فیصلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے ہیں۔ متعلقہ تفصیلات عوامی آگاہی اور شفافیت کے لیے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردی گئی ہیں۔یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ شاہ لطیف یونیورسٹی نے نہ صرف غیر قانونی اندراجات کے خلاف کارروائی کی بلکہ مستند تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا۔

اہم خبریں سے مزید