• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاؤ یونیورسٹی میں تدریسی تقرریاں، مقررہ معیار پر عمل نہ ہونے کا الزام، ایچ ای سی کا وی سی کو خط

کراچی (سید محمد عسکری) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں تدریسی تقرریوں کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مقررہ معیار پر مکمل عمل نہ ہونے کا الزام سامنے آیا ہے۔ ایچ ای سی کے نامزد کردہ سندیکیٹ رکن اور ریجنل ڈائریکٹر سندھ ایچ ای سی سلیمان احمد نے وائس چانسلر کو خط لکھ کر اس معاملے پر باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرایا اور یونیورسٹی میں جاری اور حالیہ تقرریوں کا متعلقہ معیار کے مطابق جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے تقرریوں کو قواعد کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تقرریاں پی ایم ڈی سی، اور ایچ ای سی کے قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے سلیکشن بورڈ کے زریعے اور سنڈیکیٹ کے اراکین کی اکثریت سے منظوری کے بعد کی گئی ہیں۔ وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں سلیمان احمد نے کہا ہے کہ تدریسی تقرریوں کے بعض معاملات میں ایچ ای سی اور، جہاں لاگو ہو، پی ایم ڈی سی کی لازمی اہلیت کی شرائط پر مکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کے مطابق وہ سندیکیٹ کے رکن کی حیثیت سے یہ معاملہ ایک سے زائد مرتبہ اٹھا چکے ہیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی امیدوار کی تقرری یا منظوری اس وقت تک نہ دی جائے جب تک وہ متعلقہ قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضے پورے نہ کرے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود تسلی بخش اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے اور ایسے معاملات پر کارروائی جاری ہے جن میں مقررہ معیار پر مکمل عمل کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ خط کے مطابق معیار کے برخلاف تقرریوں سے یونیورسٹی کو ضابطہ جاتی، ایکری ڈیٹیشن، قانونی اور آڈٹ سے متعلق مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ اس سے تعلیمی معیار اور ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سندیکیٹ رکن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جاری اور حالیہ تدریسی تقرریوں کا ایچ ای سی اور پی ایم ڈی سی کے قابلِ اطلاق معیار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں مطلوبہ تعلیمی قابلیت، تجربہ، تحقیقی اشاعتیں، پیشہ ورانہ رجسٹریشن یا دیگر لازمی شرائط پوری نہ ہوں، وہاں تقرری، ترقی یا مستقلی کا عمل آگے نہ بڑھایا جائے۔ خط میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر آسامی کے لیے معیار پر عمل درآمد کی الگ تفصیل تیار کی جائے، اس کے ساتھ متعلقہ دستاویزی ثبوت منسلک کیے جائیں اور رپورٹ سندیکیٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ سلیمان احمد نے اپنے خط کو ایسے کسی بھی تدریسی تقرر کے خلاف باضابطہ اعتراض اور اختلافی نوٹ قرار دیا ہے جو ایچ ای سی اور پی ایم ڈی سی کے متعلقہ معیار پر مکمل عمل کے بغیر کیا جائے، اور اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست کی ہے۔

اہم خبریں سے مزید