کراچی (مطلوب حسین) صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ بوریندو جیسے قدیم ساز اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ مقامی ثقافت میں موسیقی کی جڑیں جدید آلات سے بہت پہلے کی ہیں اور ثقافتی ورثہ و موسیقی کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ بات انہوں نے موہٹہ پیلس کراچی میں انڈس میلوڈی کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں روایتی موسیقی کے آلات، صوفیانہ کلام اور تاریخی فنون سندھ کی صوفیانہ موسیقی کی روایت کے تحت شاہ جو راگ پیش کیا گیا، جس میں دنبورو کی دھن کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔تقریب کے اگلے حصے میں دریائے سندھ کی تہذیبی اور موسیقی کی روایت کی نمائندگی کرنے والے روایتی سازوں کو متعارف کرایا گیا۔ اس سلسلے میں چنگ، کھماچ، بنجو، دنبوری، بانسری، سارنگی اور شہنائی جیسے سازوں کو نمایاں کیا گیا۔ صوفیانہ موسیقی کے حصے میں سچل جو کلام پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا، جس میں یکتارو اور چپڑی جیسے روایتی سازوں کو شامل کیا گیا۔ سچل سرمست کا کلام سندھ کی صوفیانہ فکر، انسان دوستی، محبت اور رواداری کی روایت کا اہم حصہ ہے۔ ستار، مرلی، سرندو، گھڑو اور الگوزے سمیت دیگر روایتی سازوں کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی حصہ مختص کیا گیا۔ ،تقریب کا ایک اہم حصہ بوریندو کے نام سے پیش کیا گیا، جسے سندھ کی قدیم مٹی کی سیٹی سے منسوب کیا گیا۔ تقریب میں اسے سندھ کے غیر مادی ثقافتی ورثے سے متعلق یونیسکو کی فہرست میں اندراج کی اہمیت پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ پروگرام کے اختتامی موسیقی کے حصے میں قلندر دھمال پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا، جس میں نگارا، نفیل اور بھیر جیسے سازوں کو نمایاں کیا گیا۔