• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا: پی ایچ ڈی ہولڈر ملازمتوں کیلئے درخواستیں دینے کے باوجود بے روزگار

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکا میں کیمیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان کو 2300 سے زائد ملازمتوں کے لیے درخواستیں دینے کے باوجود ملازمت نہ مل سکی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست یوٹاہ کے شہر سالٹ لیک سٹی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ڈاکٹر جیک ویس نے 2024ء میں پرنسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

انہوں نے کیمیائی اصولوں اور سالمات کے درمیان تعاملات پر تحقیق کی، برف بننے کے عمل سے متعلق ان کی تحقیق کو 2024ء میں نوبیل کمیٹی نے طبیعیات کا نوبیل انعام دینے کا اعلان کرتے وقت سائنسی تحقیق میں مشین لرننگ کے استعمال کی ایک مثال کے طور پر بھی پیش کیا تھا۔

ابتدائی طور پر ڈاکٹر ویس نے ادویہ ساز کمپنیوں میں تحقیق سے متعلق مختلف عہدوں اور قومی تجربہ گاہوں میں ممتاز پوسٹ ڈاکٹریٹ مواقع کے لیے درخواستیں دیں، تاہم انہیں کامیابی نہ مل سکی۔

بعد ازاں انہوں نے شعبے اور علاقے کی قید سے آزاد ہو کر مزید ملازمتوں کے لیے درخواستیں دینا شروع کیں، لیکن زیادہ تر مواقع پر انہیں انٹرویو کے لیے بھی نہیں بلایا گیا۔

امریکا میں روزگار کا بحران

امریکا میں اگرچہ بے روزگاری کی مجموعی شرح کم ہے، تاہم طویل عرصے سے بے روزگار افراد، یعنی وہ لوگ جو 27 ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے سے کام سے محروم ہیں، کی شرح رواں موسمِ گرما میں تقریباً 1 دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

اس موازنے میں کووڈ-19 کی وباء اور اس کے فوری بعد کے عرصے کو شامل نہیں کیا گیا۔

بعض اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جامعات سے فارغ التحصیل افراد میں بے روزگاری کی شرح ان لوگوں سے بڑھ گئی ہے جنہوں نے کالج یا جامعہ کی تعلیم حاصل نہیں کی۔

نیویارک سٹی کے کمپٹرولر بریڈ لینڈر نے امریکی ادارۂ شماریاتِ محنت (بی ایل ایس) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ 2026ء تک نیویارک میں 22 سے 27 سال کی عمر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری کی شرح 7.3 فیصد تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید