امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیل کی مدد قبول کر سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اسرائیلی مدد قبول کرنے کے سوال پر کہا کہ میرے خیال میں ایسا ہونا چاہیے۔
جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس معاملے پر سعودی قیادت سے بات کی ہے؟ تو امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب ایسا ضرور کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کی کوششیں دوبارہ تیز ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بار سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے امکانات پہلے سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے اس بارے میں فی الحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے تاحال اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے ہیں۔
سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے اہم اہداف میں شامل رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر سعودی عرب کے ساتھ شہری جوہری تعاون کے معاہدے کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے جوڑ چکے ہیں۔