کراچی(مطلوب حسین ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن کراچی کی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو جانے والے مسافر کی جانچ پڑتال کے دوران پروٹیکٹر کلیئرنس اور امیگریشن کلیئرنس کے نام پر مبینہ طور پر رقوم کی وصولی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ مسافر کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لئے آف لوڈ کرکے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی کے حوالے کر دیا گیا.— ایف آئی اے حکام کے مطابق مسافر حسنین رسول ولد غلام رسول، سکنہ ہنزہ، 16 اکتوبر 2026کو ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET-695 کے ذریعے ادیس ابابا سے ہوتے ہوئے لبمباشی، ڈی آر کانگو، روانہ ہو رہا تھا۔ جانچ پڑتال کے دوران اس کے امیگریشن ریکارڈ میں سابقہ ڈی پورٹیشن اور اوور اسٹے کی ہسٹری سامنے آئی، جس پر مزید پوچھ گچھ کی گئی۔ — دورانِ تفتیش مسافر نے بتایا کہ اس کے ملازمت سے متعلق دستاویزات کانگو میں مقیم معین نامی شخص نے ترتیب دلوائی تھیں، جس نے اسے پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کراچی کے مبینہ اہلکار بقر جمال کا رابطہ نمبر فراہم کیا۔ مسافر کے بیان کے مطابق، اس نے پروٹیکٹر کلیئرنس کے لئے 50 ہزار روپے اور امیگریشن کلیئرنس کے لئے مزید ایک لاکھ 35 ہزار روپے ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ 50 ہزار روپے اپنے دوست شیر عالم کے ذریعے بقر جمال کو ادا کر چکا تھا، جبکہ باقی رقم امیگریشن کلیئرنس کے بعد جمع کرانی تھی۔ مسافر نے ثبوت کے طور پر سونیری بینک، لیاقت آباد برانچ، کراچی کے اکاؤنٹ ٹائٹل بقر جمال کے نام سے ایک چیک بھی پیش کیا، جسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ مسافر کے مطابق، بقر جمال اسے پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے دفتر لے گیا تھا، جہاں اس کی جانب سے رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا اور پروٹیکٹر رجسٹریشن نمبر جاری ہوا۔ مزید جانچ پڑتال کے دوران ملازمت کے معاہدے اور ویزا دستاویزات میں بھی بعض ایسے نکات سامنے آئے جن کی تصدیق ضروری ہے۔ ویزا وولانٹ اور ملازمت کے معاہدے میں درج مقامات کے درمیان فرق پایا گیا، جبکہ معاہدے کی نوعیت، دستخطوں اور سفری انتظامات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔