روس کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے ڈیٹا سینٹرز کو یوکرین کے ڈرون حملوں سے شدید نقصان پہنچنے کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یانڈیکس کے ڈیٹا سینٹرز کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے بعض صارفین تو کئی روز تک اپنی رقم تک رسائی حاصل نہیں کر سکے جب کہ کچھ افراد کے لیے کھانا منگوانا، سفر کرنا اور گھروں میں داخل ہونا بھی مشکل ہو گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں یوکرین کے حملوں کے دوران یانڈیکس کے 5 بڑے ڈیٹا سینٹرز میں سے 3 کو نقصان پہنچا، یہ حملے روس کی جانب سے یوکرین کے ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یانڈیکس روس میں سرچ انجن کے علاوہ ٹیکسی، کھانے کی ترسیل، ای میل، کلاؤڈ اسٹوریج اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت مختلف خدمات فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یانڈیکس کا ڈیجیٹل نظام دیگر کاروباری اداروں کے لیے بھی بنیادی ڈھانچے کا کام کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات کمپنی کی اپنی سروسز تک محدود نہیں رہے۔
رپورٹ کے مطابق ’یانڈیکس پے‘ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ایک سروس ہے، جس کے ذریعے صارفین رقم کی ادائیگی اور دیگر مالی لین دین کرتے ہیں۔ اس لیے سروس میں خلل کے باعث بعض افراد اپنے اکاؤنٹس میں موجود رقم استعمال نہیں کر سکے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ متعدد صارفین ٹیکسی بک نہیں کر سکے، کھانے کے آرڈر متاثر ہوئے اور کچھ افراد کو یانڈیکس کے کلاؤڈ اسٹوریج میں محفوظ فائلیں کھولنے میں مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض رہائشی عمارتوں میں ڈیجیٹل چابیوں اور خودکار گیٹ سسٹم کے متاثر ہونے سے لوگوں کو اپنے گھروں یا عمارتوں میں داخل ہونے میں بھی دشواری ہوئی۔
ماسکو میں ٹیکسی چلانے والے بعض ڈرائیورز نے بھی میڈیا کو بتایا کہ سروس میں خلل کے باعث وہ اپنی آمدن دیکھنے اور رقم نکلوانے سے قاصر رہے۔
اس حوالے سے یانڈیکس نے 9 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا کہ حملوں میں کمپنی کا کوئی ملازم زخمی نہیں ہوا اور متاثرہ خدمات بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
کمپنی نے اپنے بیان میں ڈیٹا سینٹرز کو اپنے نظام کا بنیادی حصّہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کام کرنا روزمرہ زندگی سے جڑی متعدد سروسز کے لیے ضروری ہے۔
روسی صدارتی دفتر کے ترجمان دمتری پیسکوف سے جب متاثرہ صارفین کے لیے حکومتی مالی امداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس مرحلے میں امداد سے متعلق بات کرنا قبل از وقت ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ کمپنی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے لیکن وہ مضبوط ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یانڈیکس کے علاوہ روس کے سب سے بڑے بینک سبر بینک اور ٹیکنالوجی کمپنی وی کے کے ڈیٹا سینٹرز کو بھی حالیہ دنوں میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یانڈیکس کو اکثر ’روس کا گوگل‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک کے معروف سرچ انجن اور متعدد ڈیجیٹل خدمات کا نظام چلاتی ہے، کمپنی کے ڈیٹا سینٹرز پر حملوں نے ظاہر کیا کہ جب روزمرہ کی متعدد سہولتیں ایک ہی ٹیکنالوجی نظام پر انحصار کریں تو اس کے متاثر ہونے سے عام شہریوں، کاروبار اور مالی لین دین پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ یانڈیکس کی کئی سروسز بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن مکمل صلاحیت پر واپسی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔