امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز اسرائیل کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے ایران کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم کے ترجمان ڈورون اسپل مین نے بعد ازاں برطانوی خبر رساں ادارے کو تصدیق کی کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کے جنوبی علاقے صحرائے نیگیو میں واقع عوفدا ایئر بیس پر پیٹ ہیگسیتھ سے ملاقات کی۔
اسپل مین نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں موجود خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے امریکا اور اسرائیل کی شراکت داری پر بات کی۔
انہوں نے بتایا ہے کہ گفتگو کے دوران خطے میں موجود خطرات سے دفاعی اور جارحانہ دونوں طریقوں سے نمٹنے کے امور زیرِ بحث آئے۔
ترجمان اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ امریکی وزیرِ جنگ نے اسرائیل میں تعینات ہزاروں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے پر اسرائیل کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِاعظم کی حمایت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے اسرائیل میں اگلے ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کی تھی، یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد ملک میں ہونے والے پہلے انتخابات ہیں۔
پینٹاگون نے پیٹ ہیگسیتھ کے دورۂ اسرائیل پر تاحال کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
اس سے قبل پیٹ ہیگسیتھ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ میں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں تعینات امریکی فوجیوں سے ملاقات کی ہے، اس کمانڈ کے دائرہ اختیار میں مشرقِ وسطیٰ، شمال مشرقی افریقا اور ایشیاء کے بعض علاقے شامل ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی فوجیوں سے ان کی ملاقات کس مقام پر ہوئی۔
امریکی وزیرِ دفاع کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔