• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

PTI میں دراڑیں، وسوسے پھیلانے والے سانپ اور سنپولے ہیں، سلمان اکرم، آپ کے پاس الزامات کا اختیار نہیں، علی امین گنڈاپور

اسلام آباد/پشاور (عاصم جاوید/گلزارمحمدخان) تحریک انصاف میں ایک بار پھردراڑیں‘ اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کاکہنا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اتفاق پر اس وقت غیر جمہوری فیصلہ سازحملہ آورہیں ‘ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان اور پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر‘ ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی‘جنید اکبر خیبر پختونخوا میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں‘ان کی غیر موجودگی میں صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان قائم مقام صدر ہیں۔وسوسے پھیلانے والے سانپ اور سپولوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوںان کے شرسے ۔ دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پورنے سلمان اکرم راجہ کے بیان پرسخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ کسی پر سانپ اور سپولے ہونے کے الزامات لگانا ان کا اختیار نہیں۔ اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تو سمجھانے کے طریقے ہیں ہمارے پاس، اگر عہدہ آپ کو ہضم نہیں ہو رہا تو ہاضمے کی دوائی بھی ہے ‘آپ کی غلطیوں کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں‘شواہد ہیں تو نام سامنے لائیں، کسی گروپ پر سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے ایمرجنسی‘ گورنر راج کی راہ ہموار کرنیکا الزام کس بنیاد پر لگایا جا رہا ہے؟سابق صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی نامزدگی اور صوبائی صدر کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہواجبکہ بیرسٹر گوہر کاکہنا ہے کہ پارٹی میںمکمل اتفاق ہے ‘ آئندہ پارٹی کا کوئی رہنمایا فرداختلافی بات باہر نہیں کرے گا۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی ارکان نے بھی سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ مشکل ترین سیاسی حالات میں منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ان پر الزامات عائد کرنا افسوس ناک ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میںلکھا کہ پارٹی کے اندرونی اتفاق پر اس وقت غیر جمہوری فیصلہ سازحملہ آورہیں ‘ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان اور پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے مزید لکھا کہ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔علاوہ ازیں جیونیوزکےپروگرام ’’کیپٹل ٹاک ‘‘میں میزبان حامدمیرسے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کاکہناتھاکہ میری پوسٹ کا تعلق تحریک انصاف کے کسی رکن سے نہیں تھا‘ میں نہیں سمجھ سکا کہ کسی نے اس پوسٹ کو اپنے اوپر کیوں لیا۔علی امین گنڈا پور کاردعمل نہیں سنا تاہم میں نے واضح کہا ہے کہ پارٹی کے باہر جو غیر جمہوری فیصلہ ساز وہ ایک بیانیہ پھیلا رہے ہیں اس پر یقین نہ کیا جائے اور میں نے کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں ان لوگوں کے شر سے جو یہ جھوٹا بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ البتہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین و پارلیمنٹرین عمرا ن خان کے وفادار ہیں اس بات کا تعلق کسی پارٹی ممبر سے نہیں ہے۔

اہم خبریں سے مزید