• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی یونیورسٹی کا معیار تعلیم اور ماحول بہتر ہوتا تو آج کراچی شہر میں یہ بدحالی نہ ہوتی۔ نئے وائس چانسلر سے میری توقعات اسلئے ہیں کہ وہ فلسفے کے استاد ہیں، کیا وہ اس درسگاہ کا معیار اس حد تک لے جا سکیں گے کہ یہ طلبہ و طالبات کراچی کو محبت ہم آہنگی اور تعصبات سے پاک بنا سکیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی کو دوسری جامعات کی طرح ہی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ معیار تعلیم پست ہو چکا ہے اور بہت سی کوتاہیاں ہوتی رہی ہیں۔ سابق وائس چانسلرسات سال تک جامعہ کی تقدیر کے فیصلے کرتے رہے۔ ان سات سال میں پاکستان بھی بحرانوں میں مبتلا رہا تو ظاہر ہے کہ کراچی یونیورسٹی اس سے کیسے بچ سکتی تھی یہ سات سال سندھ میں پی پی کے اقتدار کے سال بھی ہیں ۔

سب سے پہلے تو میں پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی کو ملک کے ایک حساس عہدے پر فائز ہونے پر مبارک باد دوں گا پھر یہ عرض کروں گا کہ کراچی یونیورسٹی کی سربراہی پھولوں کی سیج نہیںکانٹوں بھرا بستر ہے۔ اب جب اکتوبر 2026ءمیں وسیم قاضی صاحب نے یہ عہدہ سنبھالا ہے تو پاکستان عالمی علاقائی اور ملکی تناظر میںگھمبیر آئینی، قانونی، جمہوری، معاشی اور اخلاقی بحرانوں سے دوچار ہے۔ حکمرانوں پر عوام کا اعتبار ختم ہو چکا ہے ۔ اساتذہ اور وائس چانسلرز پر طلبہ و طالبات کو بھروسہ نہیں ہے۔ پھر سوشل میڈیا بھی کیمپسوں پر غالب آ چکا ہے۔ درسگاہوں میں سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں بہت متحرک ہیں۔سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مسلح تصادم بھی ہوتے رہتے ہیں ۔ بار بار سوشل میڈیا پر یہ دہائی بھی مچتی ہے کہ دنیا کی اعلیٰ ترین 500 یونیورسٹیوں میں پاکستان کی کوئی سرکاری یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔

ایسے میں کراچی یونیورسٹی کیلئے اپنے میرٹ پر کسی ماہر تعلیم کا تقرر نااہل لوگوں کی تقرریوں کے موسم میں بہت خوش آئند ہے ۔یہ بھی لائق تحسین ہے کہ کراچی یونیورسٹی کو کراچی ہی سے تعلق رکھنے والے اور یہیں سے فارغ التحصیل ہونے والا فرزند نصیب ہوا ہے ۔سرچ کمیٹی نے بھی انہیں 85 نمبر دیئے۔ میں نے یہ سطور لکھنے سے قبل یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ جناب وسیم قاضی کو کن مسائل کا سامنا ہوگا۔ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ ان سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔ طلبہ و طالبات کی امیدیں کیا ہیں۔

اساتذہ اور طالب علموں کی اکثریت ایک مستقل وائس چانسلر کی تقرری سے خوش ہوئی ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں میں قاضی صاحب کے انتظامی تجربات سے بھی اساتذہ نے بہت امیدیں باندھ لی ہیں۔ 95 فیصد کی رائے مثبت ہے۔ پانچ فیصد یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کے حالات جب سازگار نہیں ہیں تو ایک یونیورسٹی میں معاملات کیسے معمول پر آ سکتے ہیں۔ اداروں کی مداخلت یونیورسٹیوں میں بڑھ رہی ہے۔ کراچی یونیورسٹی جس صوبے میں واقع ہے وہاں جس سیاسی پارٹی کی 15برس سے حکومت ہے وہ تو یونیورسٹی کو آنے والی سڑک ہی کئی سال میں مکمل نہیں کر سکی تو کیا وہ یونیورسٹی کے مالی حالات بہتر ہونے دے گی ۔

یونیورسٹی میں طالب علموں کی تعداد 46ہزار بتائی جاتی ہے جن میں طالبات 32ہزار اور طلباء 14 ہزار کے درمیان ہیں۔ ان طالبعلموں کو پڑھانے والے اساتذہ کیلئے منظور شدہ اسامیاں 982 ہیں جو ویسے ہی بہت کم ہیں مگر ان میں سے بھی صرف 558اساتذہ مستقل موجود ہیں۔ 424کی کمی ہے 700کے قریب جز وقتی اساتذہ ہیں جن کو فی لیکچر صرف 800روپے ملتے ہیں اور وہ بھی ادا نہیں کیے جا رہے ہیں ۔

وسیم قاضی صاحب کامضمون فلسفہ مادر علوم ہے۔ اس کا مطالعہ اور تجربہ انہیں مسائل کا کما حقہ جائزہ لینےسے پہلے اچھی طرح سوچنے سمجھنے پر آمادہ کرے گا۔ پھر ان کا مختلف درسگاہوں کا انتظامی تجربہ بھی کراچی یونیورسٹی کے مالی انتظامی تحفظ اور انفراسٹرکچر کے مسائل کے حل میں بنیادبنے گا۔ اساتذہ اور طالب علموں کا تاثر یہ ہے کہ اچھی بات ہے کہ وہ بہت تحمل اور برداشت سے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں ۔عجلت میں نہیں ہیں۔ ہر چند فوری طور پر کوئی خاص تبدیلی نہیں دکھائی دے رہی ابھی تک ایڈمنسٹریشن پر سابق وائس چانسلر کے زمانے کی ٹیم ہی متمکن ہے۔

پہلا قدم ڈیجیٹلائزیشن کیلئے اٹھایا گیا ہے جو وقت کی فوری ضرورت ہے ۔کچھ اساتذہ نے کہا کہ وائس چانسلر ہر نماز فجر کے بعد اپنے رابطوں کو قران پاک کی ایک آیت کا ترجمہ بھیجتے ہیں ۔یقینا ً باعث مسرت ہے کہ وہ بنیادی رہنمائی قران پاک سے حاصل کر رہے ہیں۔ ایک سینئر پروفیسر نے کہا کہ اولین ترجیح جامعہ کراچی کو مالی خسارے سے نکالنا ہوگا ۔آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کہیں اگر مالی گھپلے ہو رہے ہیں تو ان کا انسداد سر فہرست ہونا چاہیے۔ لیکن اس مالیاتی دوڑ میں جامعہ کو صرف کمانے کی مشین نہ بنا دیا جائے ۔اساتذہ کی اکثریت کی آرزو ہے کہ تعلیمی ماحول اور تعلیمی معیار دونوں بہتر کیے جائیں۔ یونیورسٹی کی خود مختاری اور فکری آزادیوں پر جو پابندیوں کا دستور ہے اسے بتدریج ختم کیا جائے ۔اساتذہ کی کمی فوری دور کی جائے۔ کیونکہ بہت سے شعبوں میں اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سےداخلے بھی نہیں ہو رہے۔ زیادہ سے زیادہ کل وقتی اساتذہ کا تقرر کیا جائے تمام شعبوں کا نصاب زمانے کے تقاضوں کے مطابق مرتب کیا جائے ۔

انفراسٹرکچر کی بہتری میں خستہ حال عمارتوں کی مرمت سر فہرست رکھی جائے ۔ پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔واش روموںکا حال بہت بُرا ہے۔کینٹینوں کا ماحول بہتر کیا جائے ۔قیمتوں پر نظر ثانی کی جائے۔ بہت سے شعبوں تک پہنچنے کے راستے محفوظ اور صاف نہیں ۔ سیکیورٹی سسٹم کی بہتری بھی وقت کا تقاضا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ بسوں کی قلت ہے۔ان کے پوائنٹ بھی بڑھائے جائیں ۔ طلبا کو یہ بھی شکایت ہے تو وائس چانسلر صاحبان طلبہ کی آواز نہیں سنتے رہے ہیں ان کا طلبہ سے براہ راست رابطہ نہیں ہوتا اس لیے بہتر ہوگا کہ ہفتے میں ایک ایک بار مختلف شعبوں کے طلبہ کے ساتھ وائس چانسلر کی کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے۔یونیورسٹی میگزین کی پابندی سے اشاعت ہو۔شعبہ تصنیف و تالیف کو فعال کیا جائے۔محمود حسین لائبریری میں تربیت یافتہ لائبریرین کا تقرر ہو۔یہ ساری تجاویز بہت اہم ہیں ان سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ دونوں میں احساس زیاں ہے۔ لیکن ایک مایوسی بھی ہے ۔وسیم قاضی صاحب کو یہ مایوسی ختم کرنے اور یقین محکم پیدا کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اجتماعی خطاب کی روایت ڈالنی چاہیے طلبہ یونین کی بحالی بھی کامیابی کا راستہ ہو سکتا ہے۔

ایک واقف حال نے ایک اور احتیاط کی تجویز بھی دی ہے کہ اب تک سابق چانسلر جن احباب خصوصاً خواتین میں گھرے رہتے تھے۔ نئے وائس چانسلر ان سے دور رہیں۔ ایک بار پھر ہدیہ تبریک اور یہ دعا ہے کراچی یونیورسٹی کا معیار تعلیم اتنا بلند ہو کہ کراچی شہر کی عظمت رفتہ پوری طرح بحال ہو ۔

تازہ ترین