کراچی (سید محمد عسکری) فارمیسی کونسل آف پاکستان نے 14جامعات اور کالجوں میں فارم ڈی کے داخلے روک دیئے،29تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ داخلوں سے روکے گئے اداروں میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس اور اباسین یونیورسٹی شامل، شوکاز نوٹس پانے والوں میں جامعہ سندھ، شہید بینظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کراچی، اور بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی ماتلی ضلع بدین، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر معروف جامعات بھی شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 43تعلیمی ادارے فارمیسی کونسل کی کارروائی کی زد میں آگئے ہیں۔فارمیسی کونسل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فہرستوں کے مطابق داخلوں سے روکے گئے 14اداروں میں پنجاب کے 6، اسلام آباد کے 7 اور خیبرپختونخوا کا ایک ادارہ شامل ہے، جبکہ شوکاز نوٹس پانے والے 29اداروں میں پنجاب کے 22، خیبرپختونخوا کے 4 اور سندھ کے 3 ادارے شامل ہیں۔ سندھ کے جن تین اداروں کو شوکاز دیا گیا ہے ان میں سندھ یونیورسٹی اور دیوان فاروق یونیورسٹی کراچی اور بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی ماتلی شامل ہے۔ فارمیسی کونسل کی کارروائی کی زد میں آنے والے اداروں میں متعدد سرکاری اور نجی جامعات بھی شامل ہیں۔ داخلوں سے روکے گئے 14اداروں میں سالار کالج آف فارمیسی شیخوپورہ، بشیر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اسلام آباد، اسلامک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ملتان، میڈیکیڈ کالج آف فارمیسی چکدرہ دیر لوئر، مائی یونیورسٹی اسلام آباد، راول کالج آف فارمیسی اسلام آباد، اسمارٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بھکر، اباسین یونیورسٹی اسلام آباد، ڈیپارٹمنٹ آف فارمیسی نیشنل ایکسی لینس انسٹی ٹیوٹ (NEI) اسلام آباد، اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس چک شہزاد، پیس اینڈ کیج انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اسلام آباد، ایمز انٹرنیشنل کالج آف فارمیسی عارف والا، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور اور ایمز انٹرنیشنل کالج آف فارمیسی اوکاڑہ شامل ہیں۔ سندھ کے تین تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے بعد صوبے میں فارم ڈی کی تعلیم کے معیار اور متعلقہ قواعد پر عمل درآمد کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔