• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی مصنف اناتول لیون نے اپنی کتاب Pakistan, A Hard country

میں پاکستان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ اس ملک کو صرف اس کے سیاسی بحرانوں، کمزور اداروں اور ناکام حکومتی تجربات کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ پاکستان کا معاشرہ خاندانی روابط مقامی طاقت کے مراکز،مذہبی و سماجی تعلقات اور ریاست کیساتھ عوام کے پیچیدہ رشتے بھی اس کے نظام کو چلانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ 2011ءمیں شائع ہونے والی یہ کتاب آج بھی ایک بنیادی سوال اٹھاتی دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان اپنی تمام مشکلات کے باوجود قائم کیسے ہے اور اسکی حکمرانی کو بہتر بنانےکیلئے کن بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔اگر اناتول لیون کے تجزیے کو آج کے پاکستان پر لاگو کیا جائے تو ایک سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ہمارا موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا وقت کے ساتھ آبادی،سیاسی طاقت اور انتظامی ذمہ داریوں میں ہونیوالی تبدیلیوں نے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پیدا کر دی ہے؟ یہ محض صوبوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا سوال ہے کہ ریاستی اختیار کس کے پاس ہے،وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں اور عام شہری کے مسائل حل کرنے کے لئے فیصلہ سازی کتنی آسانی سے اس تک پہنچ سکتی ہے۔کتاب کا ایک اہم پہلو پاکستان میں خاندانی سیاست اور سرپرستی کے نظام کا جائزہ ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی تعلقات اکثر مقامی اثرورسوخ ، برادریوں، خاندانوں اور طاقتور شخصیات کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ایک طرف معاشرے میں روابط اور تعاون کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن دوسری طرف جب سرکاری وسائل اور سیاسی مواقع ان کے زیراثر آ جائیں تو میرٹ ،شفافیت اور عوامی مفاد متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کا تجزیہ پاکستان کے انتظامی مستقبل پر بحث کے لئے اہم ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں بعض سیاسی خاندان طویل عرصے سے بڑے صوبوں کی سیاست پر اثرانداز رہے ہیں۔ ان خاندانوں کی مقبولیت یا انتخابی کامیابی کو بذات خود جمہوریت کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ عوام کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جب سیاسی جماعتوں کے اندر نئی قیادت کے لئے راستے محدود ہوں،اختیارات چند مراکز میں مرتکز رہیں اور عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی تعلقات کا سہارا لینا پڑے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ نظام حقیقی عوامی نمائندگی فراہم کر رہا ہے؟ یہیں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر سنجیدہ بحث شروع ہوتی ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے بڑے صوبوں میں مختلف علاقوں کی آبادی جغرافیہ معاشی ضروریات اور انتظامی مسائل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک ہی صوبائی دارالحکومت سے تمام علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کا تصور ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ اگر کسی شہری کو تعلیم ،صحت ،پولیس، زمین یا دوسرے بنیادی معاملات کےلئے طویل سفر کرنا پڑے تو یہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کی علامت ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل اس فاصلے کو کم کرنے کا ایک ممکنہ راستہ ہو سکتی ہے۔ تاہم اناتول لیون کی کتاب کو نئے صوبوں کے قیام کی براہ راست حمایت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ کتاب ہمیں پاکستان کے طاقت کے ڈھانچے اور معاشرتی حقیقتوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے؛ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ان حقائق کی روشنی میں اخذ کیا جانےوالا ایک الگ پالیسی مؤقف ہے۔ اس مؤقف کو ثابت کرنےکیلئے یہ دکھانا ہوگا کہ انتظامی تقسیم سے عوامی خدمات بہتر ہوں گی، مقامی نمائندگی بڑھے گی اور وسائل زیادہ منصفانہ انداز میں استعمال ہوں گے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے کا مقصد صرف ایک سیاسی مرکز کی جگہ دوسرا مرکز قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر نیا صوبہ بھی کسی ایک خاندان یا محدود اشرافیہ کے زیراثر آ جائے تو عوامی زندگی تبدیل نہیں ہو گی۔ چنانچہ انتظامی یونٹس کے ساتھ منتخب مقامی حکومتوں کو مستقل اختیارات، مالی وسائل اور قانونی تحفظ دینا ہوگا۔ شہری کو اپنے مسائل پر فیصلہ کرنے کا اختیار اوراپنے منتخب نمائندوں سے جواب دہی کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔

پاکستان کےلئے ایک اور ضروری قدم قومی سطح پر انتظامی جائزہ ہے۔ ایک آزاد اور بااختیار کمیشن آبادی جغرافیائی فاصلے، معاشی وسائل، انتظامی اخراجات، مقامی شناخت اور عوامی رائے کی بنیاد پر سفارشات تیار کر سکتا ہے۔ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ نئے یونٹس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے ان کی آمدن کے ذرائع کیا ہوں گے اور ان کی کارکردگی کو کن پیمانوں پر جانچا جائےگا۔ کسی بھی تبدیلی میں لسانی ثقافتی اور تاریخی وابستگیوں کا احترام ضروری ہے،جسے نظرانداز کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔مثال مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے۔ عوام کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے ان کے وسائل اور حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کی سیاسی حیثیت محض رسمی نہیں۔

اناتول لیون کی کتاب کا مطالعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کو صرف حکمرانوں کی تبدیلی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر طاقت کے مراکز سرپرستی کا نظام اور فیصلہ سازی کا ڈھانچہ بنیادی طور پر وہی رہے تو چہرے بدلنے کے باوجود نتائج بھی زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔ اس لیے نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو سیاسی جماعتوں کے وقتی فائدے سے نکال کر قومی پالیسی کا موضوع بنانا چاہیے۔پاکستان کو نئے صوبے صرف اس لیے نہیں چاہئیں کہ موجودہ صوبے بڑے ہیں بلکہ اس لیے کہ ہر شہری کو ریاست تک آسان رسائی، بہتر خدمات، منصفانہ نمائندگی اور مؤثر احتساب میسر آ سکے۔ اصل کامیابی صوبوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس تبدیلی میں ہوگی جو عام آدمی کی زندگی میں آئے۔ اگر انتظامی اصلاحات اقتدار کو عوام کے قریب لاتی ہیں اور چند مراکز پر انحصار کم کرتی ہیں تو یہ قومی ضرورت پر ایک قابلِ غور راستہ ہے۔ ریاست کی مضبوطی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اختیار کتنے ہاتھوں میں مرتکز ہے بلکہ یہ ہے کہ عام شہری کو اس اختیار سے کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔

تازہ ترین