اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے ایران کی حکومت گرانے کو اسرائیل کا بنیادی مقصد قرار دیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں سے ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں۔
عرب میڈیا پر شائع ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے دورۂ اسرائیل اور گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کے بعد اپنے بیان میں تہران حکومت گرانے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے نئے حملوں میں شمولیت کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کروائی گئی لیکن نیتن یاہو ایران پر ایک بار پھر پرتشدد حملوں کی خواہش رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اسرائیل ایران کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچانے اور فضائی برتری حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن حکومت گرانے کے لیے زمینی فوج اور طویل مدتی کارروائی درکار ہو گی۔
ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرونز موجود ہیں جبکہ اس کے محفوظ پہاڑی علاقوں میں موجود ہتھیار فضائی حملوں سے بچ سکتے ہیں، مسلسل جنگ اسرائیل کے دفاعی میزائلز کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھائے گی۔
ماہرین نے کرد مسلح گروہوں کے ذریعے ایرانی حکومت گرانے کے امکانات بھی مسترد کر دیے ہیں، امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل کے لیے ایران کی گہرائی میں موجود محفوظ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی مشکل ہو گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات سے قبل نئی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل اکیلا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے ایران کو فوجی نقصان پہنچانا ممکن ہے لیکن زمینی فوج اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے بغیر تہران حکومت کا تختہ الٹنا انتہائی مشکل ہو گا۔