وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سے گزارش ہو گی کہ وہ وزیراعظم کے خط کا جواب دیں۔ میری گزارش ہو گی کہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سے ملاقات کریں۔
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رانا ثناءاللّٰہ کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں انا اور ضد کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ قومی مسئلہ ہے جو سنجیدگی کا تقاضہ کرتا ہے۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہو اور آئینی عہدوں کے فیصلے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ یہاں آجائیں یا وہاں آجائیں۔ اس طرح کے تقاضے لوگوں کے درمیان مختلف تاثر کا باعث بنتے ہیں۔ ایسا تاثر قائم ہوتا ہے جو سیاستدان بالخصوص سینئر قیادت کے بارے میں اچھا نہیں۔
رانا ثناءاللّٰہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں وہ وزیراعظم ہاؤس جائیں گے مگر اسے ملاقات تصور نہ کیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس جا کر ملاقات کی دعوت دیں گے۔ جب وزیراعظم سے ملاقات ہوگی تو پھر آئینی معاملات زیر بحث آئیں گے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضرورت مند اور غربا کی مدد کرنے کا رجحان موجود ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ پاکستان میں کہیں کوئی فٹ پاتھ پر لوگ سو رہے ہوں؟
انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسے شہر موجود ہیں جہاں لوگ فٹ پاتھ پر سوتے ہیں۔ جہاں تک میری نظر ہے پاکستان میں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ آپ ایسے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ ایسی رپورٹس کو بنیاد بناکر اس قسم کا پروپیگنڈا مناسب نہیں۔