اردن میں چرچ کے اندر میت کی آخری رسومات کے دوران فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے۔
اردنی حکام کے مطابق واقعہ صوبہ کرک کے علاقے میں واقع حمود چرچ میں پیش آیا، مسلح افراد نے آخری رسومات میں شریک افراد پر فائرنگ کی۔
اردنی وزیرِ داخلہ مازن الفریایہ کا کہنا ہے کہ حملے میں انتہا پسند ملوث تھے، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان کا اردن کے اندر یا باہر کسی گروہ سے تعلق ہے۔
اردن کے وزیرِ اعظم جعفر حسان نے کہا ہے کہ چرچ پر حملہ دہشت گرد نظریے اور اندھی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے اردن میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے جاں بحق افراد کے اہلِخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، دہشت گردی کی ہر شکل اور صورت میں سخت مذمت کرتے ہیں۔