انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے سے یورپ کو سردیوں میں گیس کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ یورپی یونین کے گیس کے ذخائر صرف 72 فیصد موجود ہیں جبکہ معمول کے مطابق یہ سطح 90 فیصد ہوتی ہے، شدید سردی کی صورت میں گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس کے اثرات آئندہ سال تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں رکاوٹوں نے توانائی کی عالمی ترسیل متاثر کی ہے، حکومتوں نے متبادل راستوں اور پائپ لائنز کی تیاری میں تاخیر کی جس سے بحران سنگین ہو گیا۔
نٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق یورپ کو گیس کے ساتھ ڈیزل کی قلت کا بھی سامنا ہے، یوکرین کے روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں کے باعث روس سے ڈیزل کی تقریباً ایک تہائی ترسیل رک گئی ہے۔
فاتح بیرول کے مطابق فروری کے بعد گیس کی قیمتوں میں 140 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، ہنگامی ذخائر سے تیل کی فراہمی نے قیمتیں کم کرنے میں مدد دی ہے تاہم عالمی منڈی میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے اثرات کئی ماہ تک برقرار رہ سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی فراہمی مزید رکاوٹیں برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
نٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو جَلد کھولنے پر بھی زور دیا ہے۔