ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق قانون کی منظوری دے دی۔
ترک پارلیمنٹ کے ایوانِ عام میں پارلیمانی ووٹنگ کے دوران 279 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 119 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
حکمراں جماعت آق پارٹی، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی نے بل کی حمایت کی، جبکہ ینی پارٹی، گڈ پارٹی، دم پارٹی اور ینی یول گروپ نے اس کی مخالفت کی۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے ساتھ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبے شروع کریں گے۔
اس مقصد کے لیے ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ تحقیق و ترقی، دفاعی ساز و سامان کی مشترکہ تیاری اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری میں باہمی اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے تحت مسلح افواج کے اہلکاروں کے تبادلے، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور فوجی مشقوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ تینوں ممالک کی افواج کے درمیان عملی ہم آہنگی اور مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔
معاہدے میں دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف مشترکہ جدوجہد، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور علاقائی و عالمی سلامتی سے متعلق امور پر باقاعدہ مشاورت کو بھی بنیادی اہمیت دی گئی ہے، فریقین قومی سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے انفرادی اور مشترکہ اقدامات بھی کر سکیں گے۔
معاہدے پر عمل درآمد اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی و سیاسی تعاون کی نگرانی کے لیے ایک اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج شامل ہوں گے۔
اس کمیٹی کا اجلاس سال میں 2 مرتبہ ہو گا، تاہم ضرورت کے پیشِ نظر اعلیٰ قیادت کی سطح پر سالانہ اجلاس بھی منعقد کیا جا سکے گا۔
کمیٹی کی معاونت کے لیے سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی تینوں بنیادی رکن ممالک کے درمیان باری باری 3 سال کے لیے مقرر ہونے والا سیکریٹری جنرل کرے گا، جس پر ابتدائی مدت کے لیے پاکستان یہ فرائض ادا کرے گا۔
معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے، جس کے لیے تینوں فریقین کی منظوری ضروری ہو گی۔
یہ معاہدہ اس وقت نافذ العمل ہو گا جب تینوں ممالک اپنے اپنے آئینی اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد توثیق کی آخری دستاویز سیکریٹریٹ میں جمع کروا دیں گے، معاہدہ غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گا، تاہم 10 سال مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی ملک 3 ماہ کا پیشگی سفارتی نوٹس دے کر اس سے علیحدگی اختیار کر سکے گا۔