آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
افغانستان میں امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ بین الاقوامی نیٹو فورسز اور افغان فوجیوں نے جنوبی افغانستان میں منشیات کے اسمگلروں کو ہلاک کرکے بہت بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی ہیں فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلمند صوبے کے مرجہ گاوں میں چار دن کی کارروائی کے بعد یہ کامیابی حاصل کی گئی ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پوست کے بانوے ٹن بیج اور چھ ٹن دوسری منشیات قبضے میں لی گئی ہیں جس سے منشیات کا ایک بہت بڑا گروہ ختم کردیا گیا ہے ۔ طالبان نے اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک بات یاد رکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ ہلمند صوبہ میں پوست بڑی تعداد میں کاشت کی جاتی ہے اور اس صوبے سے دنیا کو فراہم کی جانے والی منشیات کا نوے فیصد حصہ ہوتا ہے۔ ادھر تہران میں گذشتہ دنوں ایران اور افغانستان کی ایک روزہ کانفرنس میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے منسلک دوسرے معاملات زیرغورآئے ہیں جبکہ افیون کی پیداوار سے لاحق خطرات پر بھی گفتگو ہوئی کہ طالبان ( افغانی) اپنی کاروائیوں کیلئے پوست کی کاشت سے رقم فراہم کرتے ہیں۔
گذشتہ دنوں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں نیٹو ممالک کے وزراء دفاع کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ طالبان افیون کی تجارت سے سالانہ ایک سو ملین ڈالر کمارہے ہیں جس سے وہ افغانستان میں موجود

اتحادی افواج کے خلاف لڑنے کیلئے اسلحہ خریدتے ہیں ۔قبل اس کے نیٹو کے آپریشنز کمانڈر امریکی جنرل جان کراڈوک نے نیٹو کے26ممالک سے درخواست کی تھی کہ وہ افغانستان میں طالبان کے حملوں کی روک تھام کیلئے وہاں قائم افیون کی فصل لیبارٹریوں، اسمگلروں کے نیٹ ورک اور منشیات کے اسمگلروں پر بمباری کی اجازت دے، جنرل جان نے یہ بھی کہا کہ منشیات کی بڑھتی ہوئی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدنی طالبان کی امداد کا بڑا ذریعہ ہے اور اس کو ختم کئے بغیر افغانستان میں سیکورٹی کی صورت حال کو کنڑول کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے اتحادی کمانڈوں کا بتایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں ہیروئن کے کاروبار میں ملوث بڑی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جائے اور ان لیبارٹریوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ طالبان کو جنگ کیلئے مالی وسائل مہیا نہ ہوسکیں جبکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق افغانستان کی50فیصد معیشت منشیات کے دھندے پر ہی منحصر ہے۔ ان بڑی مچھلیوں کے ذکر کے حوالے سے نیو یارک ٹائمز لکھتا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے بھائی ولی کرزئی منشیات کے بڑے تاجر ہیں لیکن حامد کرزئی اپنے بھائی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ٹھوس ثبوت کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ منشیات کی تجارت میں صدر کرزئی کے بھائی کے ملوث ہونے کے الزامات کے پس منظر میں امریکی عہدیداروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ثاثرکہ حامد کرزئی اپنے بھائی کا تحفظ کرسکتے ہیں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق2004میں قندھار کے باہر ایک ٹریکٹر ٹرالی سے منشیات کی بہت بڑی تعداد برآمد ہوئی تھی۔ افغانی فوج کے مقامی کمانڈو حبیب اللہ جان نے بڑی تیزی کے ساتھ منشیات سے بھری ٹرالی کو اپنے قبضے میں لے لیا لیکن کمانڈو کے بقول کچھ ہی دیر میں انہیں صوبائی کونسل قندھار کے صدراحمد ولی کرزئی کااورصدر حامد کرزئی کے ایک شیر شیدا محمد کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ ٹرک اور منشیات کوچھوڑ دیں جسکی انہوں نے تعمیل کی اس طرح کمانڈر حبیب اللہ جان بعد میں رکن پارلیمنٹ بن گئے اوراسی طرح بعد میں انہیں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا ۔ نیویارک نے مزید لکھا ہے کہ اس کے بعد2006میں امریکی اور افغان اہلکاروں نے کابل کے مضافات میں منشیات سے بھرا ایک اور ٹرک پکڑا جسکی اطلاع حکام کو حاجی امن خیری نامی مخبر نے دی تھی ایک سال کے بعد اسی حاجی امن خیری کو افغان نائب صدر کے قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ۔ 2007میں افغان صدر کرزئی کو امریکی سفیر اور سی آئی اے کے اسٹیشن چیف نے ایک بریفنگ دی جس میں انہیں ان کے بھائی احمد ولی کرزئی پر الزامات کے بارے میں بتایا گیا لیکن حامد کرزئی نے امریکی حکام سے ثبوتوں کا مطالبہ کردیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاوس اور امریکی حکام کواچھی طرح معلوم ہے کہ احمد ولی کرزئی منشیات کی تجارت میں ملوث ہیں تاہم کسی ثبوت کے نہ ہونے کی وجہ سے احمد ولی پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان الزامات سے کرزئی کی ساکھ کو امکانی نقصان کے علاوہ امریکی انتظامیہ کو اندیشہ ہے کہ اس قسم کے تاثرات سے کرزئی حکومت کو مستحکم بنانے کیلئے امریکی کوششوں کوبھی نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ کرزئی حکومت پہلے ہی دشمنوں اور طالبان کی کارروائیوں میں گھری ہوئی ہے اس صورت حال کو منشیات کی رقم نے اور بھی بدتر بنادیا ہے اور یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ افغانستان جو منشیات کا گڑھ بنتا جارہا ہے جو اگر کنڑول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ بلکہ پورے خطے پر پڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے انسداد منشیات کے سربراہ انٹونی ماریہ کوسڑ نے گذشتہ دنوں برسلز( بلجیم) میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی حکومت کی طرف سے انسداد منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل وحرکت کے سدباب کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا ہے اور بتایا ہے کہ 3500ایرانی سیکورٹی اہلکار ڈرگ مافیا اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ انٹونی ماریہ کوسٹرنے پریس کو یہ بھی بتایا کہ افغانستان کے سرحدی علاقے اس وقت منشیات فروشی اور ہیروئن اسمگلنگ کے گڑھ بنتے جارہے ہیں اس وقت افغانستان کے صرف12صوبے منشیات کی اسمگلنگ سے بچے ہوئے ہیں جبکہ باقی تمام صوبے اس لعنت میں براہ راست ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ 2012کی نسبت 2013میں ہیروئن اور دوسری منشیات کی پیداوار میں39فیصد اضافہ ہوا ہے، طالبان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ منشیات اور اسمگلنگ ہے۔ میرے حساب سے بھی اگر افغانستان میں محض دس ہزارطالبان موجود ہیں اور ایک ’’طالب‘‘ پر آنے والا خرچ 40سے 50ہزار روپے تک ہے تواس طرح سالانہ دو سے تین ارب تک رقم خرچ ہورہی ہے، یہ رقم کہاں سے آرہی ہے؟ میں بھی سوچتا ہوں،آپ بھی سوچئے۔
ستائے گی کسی دن بادباراں میں نہ کہتا تھا