• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائداعظمؒ کایوم وفات اور ایک حیرت انگیز حقیقت

بظاہر قدرت کا نظام پیچیدہ، ناقابل فہم اور گمبھیر لگتا ہے لیکن اگر آپ غور و خوض کی عادت ڈال لیں اور قرآن مجید کے حکم کے مطابق قدرتی نظام پر تدبر کریں تو بہت کچھ سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ جو سمجھ میں نہ آئے وہ راز ہوتا ہے اور راز میں حکمت ِ الٰہی مضمر ہوتی ہے۔ لیکن بات ہے اپنے اپنے مزاج، افتاد طبع اور سوچ کی کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ بعض حضرات میری ان چند سطور کو بھی تمسخر کے انداز میں اگنور کردیں گے کیونکہ ان کا مزاج اور اندازِ فکر ان سطور کے پیغام سے متضاد یا مختلف ہوگا۔
یہ بھی شاید نظام قدرت کا ہی حصہ ہے کہ بعض اوقات قدرت لازوال محبتوں اور عظیم یا روشن کارناموں پر اس طرح مہر تصدیق ثبت کردیتی ہے کہ اس پر غور کرنے والوں پر پوشیدہ پیغام..... حقیقت ِ منتظر..... روز ِروشن کی مانند عیاں ہو جاتی ہے۔ ہماری زندگی میں سینکڑوں لیڈران اور نامور شخصیات کا انتقال ہوا ہے جن میں فلاسفر، لکھاری، شاعر، ادیب، حکمران، سائنسدان وغیرہ شامل ہیں لیکن کسی میں بھی آپ کو وہ حسن اتفاق نہیں ملے گا جو قائداعظمؒ کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھ جیسے طالب علم اور پسماندہ حضرات اسے قدرت کا پیغام اور انعام سمجھتے ہیں۔ وجہ بڑی سادہ سی ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ ہر شے من جانب اللہ ہے اور اللہ سبحانہ ٗ و تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ بلاشبہ قدرت کے کاموں اور فیصلوں میں مصلحت پنہاں ہوتی ہے۔ عام طور پر مسلمان ان حقائق کا ذکر کرتے ہیں اور زبان سے ادا بھی کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہر شے پر قادر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کاموں میں مصلحت ہوتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت مغربی تعلیم و ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد نہ ان باتوں پر سچا ایمان رکھتی ہے اور نہ ہی دل سے مانتی ہے۔ زبان سے کہنے کا ہرگز مطلب دل سے کہنا یا دل سے ماننا نہیں ہوتا کیونکہ زبان کو اللہ پاک نے ظاہرکا مقام عطا کیا ہے جو نظر آتی اور سنائی دیتی ہے جبکہ قلب کو باطن یا خفیہ کا مقام عطا کیا ہے جو نہ نظر آتا ہے اور نہ ہی اس کی باتیں سنائی دیتی ہیں۔ اسی لئے قدرت کے نظام میں نیت پر بے حد زور دیا گیا ہے ا ور یوم حساب نیتوں کو بے نقاب کرکے حساب لیا جائے گا۔ نیت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ بار بار قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ نیتوں کا حال اور بہترین حال اللہ پاک جانتے ہیں۔ مطلب یہ کہ نیت کا حال صرف بندہ جانتا ہے یا پھر اللہ پاک..... گویا نیت بندہ اور اللہ کے درمیان مضبوط رشتہ اور مشترکہ رابطہ ہوتا ہے۔
معاف کیجئے بات ذرا دور نکل گئی۔ میں کہہ رہا تھا کہ قدرت کے فیصلوں اور کاموں میں بعض اوقات ایسے رموز یا راز نظر آتے ہیں اور پھر عیاں ہو جاتے ہیں جن کامقصد ایک واضح پیغام دینا ہوتا ہے۔ ایسے راز یا رموز غور وفکر کے متقاضی ہوتے ہیں اور نہ ہی صرف منشائے الٰہی کا اشارہ دیتے ہیں بلکہ ایک طرح سے قدرت کی منظوری اور مہر تصدیق کی حیثیت رکھتے ہیں مگر سب کو ایسا نظر نہیں آتا اور نہ ہی یوں محسوس ہوتا ہے کیونکہ جس مزاج، ذہن اور فکر پر دنیا پوری طرح غالب اور سوار ہوتی ہے اور جو لوگ حد درجہ تشکیک اور مادیت کے زیراثر پائے جاتے ہیں وہ ایسے رازوں کو سمجھتے ہوئے بھی نہیں سمجھتے۔ قدرت کے رازوں پر غور و فکر کے لئے تھوڑی سی روحانیت یا تصوف کا ’’ٹچ‘‘ (Touch) ضروری ہے اور جن کے باطن میں اس ’’ٹچ‘‘ کا ذرہ تک موجود نہیں ان کے لئے یہ انکشافات یا راز محض افسانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
میرے ایک محترم دوست ریاضی کے استادہیں اور علم الاعداد میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں؟ انہوں نے فزکس کے ساتھ ساتھ کائنات اور روحانیت کا مطالعہ بھی کر رکھا ہے۔ مطالعہ ان گنت لوگوں نےکیا ہوگا لیکن ان کا طرہ ٔ امتیاز یہ ہے کہ وہ غور و فکر میں مگن رہتے ہیں۔ قائداعظمؒ کے یوم وفات سے کچھ دن پہلے میرے موبائل پر بھی ایک میسج آیا تھا اور وہی میسج انہیں بھی موصول ہوا تھا۔ میں نے موبائل کے فضول پیغاموں کی طرح اسے پڑھنے کی زحمت گوارا نہ کی لیکن وہ اسے پڑھ کر دیر تک علم الاعداد کی روشنی میں غور کرتے رہے اور پھر میرے پاس آئے۔ آتے ہی انہوں نے تمہید باندھے بغیر اعلان کردیا کہ قدرت نے پاکستان اور قائداعظمؒ کو لازم و ملزوم قرار دے کر ان کی لازوال محبت پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے۔ گویا قدرت نے قائداعظمؒ کے کارنامے کو حیاتِ ابدی عطا کردی ہے۔ پھرپروفیسر صاحب نے اپنی ڈائری پر کچھ لکھتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! میں نے علم الاعداد کی روشنی میں امریکہ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کا مطالعہ کیا ہے۔ حیرت ہے کہ مجھے وہ مماثلت یا حسن اتفاق یا قدرت کا راز کہیں نظر نہیں آیا جو قائداعظمؒ کی شخصیت میں موجود ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ ’’ڈاکٹر صاحب! آپ نے کئی برس قبل ایک کالم میں ایک چارٹ بنا کر واضح کیا تھا کہ قائداعظمؒ کا یوم پیدائش، یوم وفات اور قیام پاکستان کا دن ہر سال ایک ہی ہوتا ہے۔ آپ کا چار ٹ کوئی دو دہائیوں کی عکاسی کرتا تھا جس سے ثابت ہوتا تھا کہ ہر سال کے دوران تاریخیں مختلف ہونے کے باوجود قائداعظمؒ کی پیدائش، وفات کا دن اور قیام پاکستان کا دن ایک ہی ہوتا ہے۔ مثلاً 2016 کے دوران یوم پاکستان بھی اتوار کے دن تھا، قائداعظمؒ کی وفات 11 ستمبر اور پیدائش 25دسمبر بھی اتوار کا دن ہے۔ اسی طرح ہر سال شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت کا دن بھی وہی ہوتا ہے۔ اس سال لیاقت علی خان کا یوم شہادت 16اکتوبر بھی اتوار کا دن ہوگا۔ اگر قائداعظمؒ کا انتقال 11ستمبر کی بجائے 12 ستمبر کو ہوتا یا لیاقت علی خان کی شہادت 16اکتوبر کی بجائے 15یا17اکتوبر کو ہوتی تو دن ایک نہ ہوتا۔ زندگی و موت پراختیار صرف اور صرف اللہ سبحانہ ٗ تعالیٰ کے پاس ہے۔ یہ فیصلے قدرت کے ہوتے ہیں جن میںانسان بالکل بے بس ہے۔ اس لئے اگر ان فیصلوں میں کوئی پوشیدہ حقیقت یا راز نظر آئے تو اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ تدبر اور غور و فکر حکم الٰہی ہے۔‘‘ پروفیسر صاحب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے علم الاعداد کے حوالے سے پاکستان کے کچھ بڑے قائدین کی پیدائش و وفات کی تاریخوں اور ایام کا مطالعہ کیا ہے مجھے ان میں یہ یکسانیت اور مماثلت نظر نہیں آئی جو قائداعظمؒ کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے اور جس میں شہادت کے حوالے سے لیاقت علی خان بھی شامل ہوچکے ہیں۔‘‘ پروفیسر صاحب نےاپنے مشاہدے ، ادراک اور احساس کے حوالے سے پاکستان کے کئی مرحوم اور نامور لیڈروں کا ذ کر کیااور کہا کہ ان کے ایام پیدائش و وفات کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے جو قدرت نے قائداعظمؒ کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں بلکہ قدرت کا ایک پیغام ہے ہمارے لئے ..... اٹھتے اٹھتے پروفیسر صاحب نے علم الاعداد پر دسترس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور دلچسپ بات کی جو میرے لئے چھوٹا سا انکشاف تھی۔ کچھ لوگ اسے الفاظ کی جادوگری اور کچھ بزعم خود عالم و فاضل حضرات اسے مداری پن کہیں گے کیونکہ وہ نہ قدرت کے نظام پر یقین رکھتے ہیں نہ حکمت ِ الٰہی یا رازوں پر..... میں ان دوستوں سے فقط یہ کہتا ہوں کہ تحقیق کرکے کچھ اور ایسی مثالیں ڈھونڈھ لو تو مانیں..... بہرحال پروفیسر صاحب نے اٹھتے اٹھتے کہا ’’ڈاکٹر صاحب !قائداعظمؒ کے حوالے سے یہ تین ایام ا ہم اور بنیادی حیثیت کے حامل ہیں (1) پیدائش 25دسمبر (2) وفات گیارہ ستمبر (3) یوم پاکستان 14اگست۔ اگرریاضی کے حوالے سے دیکھیں تو 25سے گیارہ منفی کریں تو 14بچتا ہے جو ہمارا یوم آزادی ہے۔ اگر 25سے 14منفی کریں تو 11حاصل ہوتا ہے جو قائداعظمؒ کا یوم وفات ہے۔ اگر 14(یوم آزادی) میں 11 (قائداعظمؒ کا یوم وفات) جمع کریں تو 25کاہندسہ حاصل ہوتا ہے جو قائداعظمؒ کا یوم پیدائش ہے۔ اگر قدرت نے ان ہندسوں میں سے کسی ایک کو بھی تبدیل کردیا ہوتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی۔‘‘بات ختم کرتے ہوئے پروفیسر صاحب نے اپنے علمی انداز میں کہا ’’ہے نا حیرت انگیز،منفرداور فکر انگیز حقیقت؟ اسی لئے میں اسے قدرت کا ’’وہ‘‘ راز کہتا ہوں جسے عیاں کرنا مقصود ہوتا ہے۔‘‘


.
تازہ ترین