آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اگلے روز اسلام آباد میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جو خطاب کیا ، اس میں انہوں نے نہ صرف وہاں موجود سینئر سیاست دانوں سے داد تحسین وصول کی بلکہ ذرائع ابلاغ کے کچھ حلقوں نے بھی یہ رائے قائم کی کہ بلاول بھٹو زرداری میں پختگی آ گئی ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کا بھی سامنا کیا اور بہت اعتماد کے ساتھ صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیئے ۔ اس سے اگلے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں انہوں نے دوبارہ میڈیا کا سامنا کیا اور ہر طرح کے سوالوں کا خندہ پیشانی سے جواب دیا ۔ اس سے پہلے عام تاثر یہ تھا کہ بلاول بھٹو زرداری صرف لکھی ہوئی تقریریں پڑھتے ہیں یا رٹی ہوئی باتیں کرتے ہیں لیکن قومی سطح کے ایک فورم پر خطاب اور دو پریس کانفرنسوں کے بعد یہ تاثر ازخود ختم ہو چکا ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ باور کر ادیا ہے کہ وہ ایک بڑے سیاسی خانوادے کے حقیقی وارث ہیں اور عہد نو کے داخلی اور خارجی ایشوز کا گہرا ادراک رکھتے ہیں ۔ کشمیر اور بھارتی جارحیت کے خلاف انہوں نے اتحاد و یکجہتی کا وہی پیغام دیا ، جو ملک کے دیگر قومی قیادت کی طرف سے دیا گیا مگر اس کے ساتھ ساتھ

انہوں نے یہ تاثر بھی ختم کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی فرینڈ لی اپوزیشن ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصے سے بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کے معاملات پر جس طرح کنٹرول حاصل کیا ہے اور عوامی رابطے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ، اس سے نہ صرف پیپلز پارٹی کے کارکن بلکہ پاکستان کے عوام بھی ان سے امیدیں وابستہ کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد پاکستان ایک قدآور سیاسی لیڈر کی تلاش میں ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کو اگر سیاست کرنے دی جائے تو وہ ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھر کر آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ میں اس بات کو عہد نو کی سیاست کے تناظر میں دیکھ رہا ہوں ۔ بھارت میں جواہر لعل نہرو کی چوتھی نسل کے نوجوان سیاسی رہنما راہول گاندھی بھی نہ صرف اپنی پارٹی کانگریس کی بحالی میں مصروف ہیں بلکہ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت کو بالآخر ان کی قیادت میں جانا پڑے گا ۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کے بعد بھارت سیاسی لیڈر کی تلاش میں رہا اور اس خلاء میں نریندر مودی جیسے لوگ سامنے آئے ، جن کے بارے میں اب بھارت کو احساس ہو رہا ہے کہ یہ وہ لیڈر نہیں ہیں ، جس کی بھارت کو تلاش تھی ۔ سری لنکا میں فریڈم پارٹی کے بانی بندرا نائیکے کی صاحبزادی چندریکا کمارا تنگے نے کچھ عرصہ قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ان کے بچے سیاست نہیں کریں گے ۔بالکل اسی طرح کی بات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو سیاست میں نہیں آنے دیں گی لیکن اس وقت سری لنکا میں فریڈم پارٹی چندریکا کمارا تنگے پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سیاست میں بھیجیں ، ورنہ پارٹی بھی نہیں بچے گی اور ملک کو قیادت بھی نہیں ملے گی ۔ فریڈم پارٹی کے رہنما اور سری لنکا کے سابق صدر مہندا راجا پاسکے نے اپنے دور حکومت میں اگرچہ دنیا کی انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیم تامل ٹائیگرز کا خاتمہ کیا لیکن وہ سری لنکا میں قیادت کا خلاء پر نہیں کر سکے ۔ وہاں آج بھی یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ بندرا نائیکے یا چندریکا جیسا کوئی قدآور سیاسی رہنما ہونا چاہئے ۔ ایشیا ، افریقا اور لاطینی امریکا میں اس طرح کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ یہی صورت حال پاکستان میں بھی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے قتل کے بعد جو سیاسی قیادت پیدا کی گئی ، وہ بھی بالکل ایسی ہی ہے ، جو تیسری دنیا میں مقبول سیاسی قائدین کے قتل کے بعد پیدا کی گئی اور بالآخر وہاں کے عوام ان مقبول سیاسی قائدین کے وارثوں کی طرف دیکھنے لگے ۔ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ تیسری دنیا کے تمام ممالک کی سیاست میں ابھی تک میراث ( Legacy ) چل رہی ہے ۔تیسری دنیا کے معاشروں کی اس خصوصیت کا سائنسی اور جدلیاتی مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ 2007 ء میں اپنی والدہ کے قتل کے بعد بلاول بھٹو زرداری کو اس طرح باہر آنے یا سیاست کرنے کا موقع نہیں ملا ، جس طرح اب وہ خطرات مول لے کر سیاست کر رہے ہیں ۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ ان کے کوئی سیاسی اتالیق ہوں گے اور انہیں سیاست کے بارے میں بتاتے ہوں گے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ پیپلز پارٹی کے لوگ سیاست ، تاریخ اور فلسفہ کو ضرور پڑھتے ہوں گے لیکن بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ اور نانا کی طرح جتنا پڑھتے ہیں ، اتنا پیپلز پارٹی میں کوئی اور نہیں پڑھتا ہو گا اور نہ ہی ان کے کوئی باقاعدہ اتالیق ہیں۔ بہت تھوڑے وقت میں انہوں نے عالمی سیاسی رہنماؤں سے خود روابط پیدا کیے ہیں اور چھوٹی عمر میں ایک ریاست کار کے طور پر اپنے آپ کو تسلیم کرایا ہے ۔ اس وقت بھی اگر وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں تو ان کا ’’ ایکسپوژر ‘‘ پاکستان کے موجودہ تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ جو سیاسی پس منظر بلاول بھٹو زرداری کا ہے ، وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری مخالفت اور خطرات کے ماحول میں کس طرح اپنا راستہ بناتے ہیں ۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں