بنوں میں شٹل کاک برقعہ اُوڑھے ہوئے عورتیں اپنے لئے ووٹ کا حق مانگنے سڑک پر نکل آئی ہیں۔اور ایک عرب ملک میں خواتین کو مقامی کونسلوں میں ووٹ ڈالنے کی پہلی دفعہ آزادی دی گئی ہے۔ یہ واقعات ڈاکٹر شاہ محمد مری کی مختصر مگر جامع کتاب ’’عورتوں کی تحریک‘‘ پڑھ کر اور بھی مجھے شہہ ملی کہ اس موضوع کو آپ کے سامنے پیش کروں۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری، صرف کوئٹہ کی نہیں، پاکستان کی وہ معروف شخصیت ہیں جنہوں نے بلوچستان کی سیاسی شخصیات کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں۔ بلوچستان کی خواتین کی تحریک کے بارے میں ہم بالکل بے خبر تھے، بلکہ صرف یہ علم تھا کہ اگر دو قبیلوں کے درمیان صلح کرانی ہو تو خواتین کو ننگے پیر اور ننگے سر صلح کیلئے بڑے قبیلے کے سردار کے گھر بھجوا دیا جاتا ہے۔ بڑا سردار ان خواتین کے سروں کو چادر سے ڈھکتا ہے، بس یہی پہلی نشانی ہوتی ہے کہ دونوں قبیلوں میں صلح ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر مری کی تحقیق کے مطابق، انگریز سامراج کےخلاف جب تحریک شروع ہوئی تو تحریکِ آزادی کے سربراہ یوسف عزیز مگسی نے تحریر و تقریر کے ذریعے زبردست مؤقف اختیار کرتے ہوئے، پنڈت نہرو کا حوالہ دیا کہ انڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا، جب تک انڈیا کی عورتیں، مردوں سے اپنے مکمل حقوق حاصل نہیں کر لیتیں۔ یہی بات قائد اعظم نے پشاور کے جلسے میں فاطمہ جناح کو اسٹیج پر ساتھ بٹھاتے ہوئے، قبائلی رسوم کے خلاف کہی تھی کہ جب تک خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہیں چلیں گی مسلمان قوم ترقی نہیں کر سکتی ۔ڈاکٹر شاہ محمد مری نے لکھا ہے کہ 1930-31میں ہونے والی کانفرنس میں جس کا عنوان تھا’’آل انڈیا بلوچ اینڈ بلوچستان کانفرنس‘‘ یہ کانفرنس جیکب آباد میں منعقد ہو ئی ۔ یہاں قرارداد منظور کی گئی کہ ’’یہ کانفرنس اس نظام کو حقارت سے دیکھتی ہے۔ جس میں کسی شخص کی بہن یا بیٹی کو اس شخص کے بپھرے ہوئے رویے کی سزا بھگتنی پڑے اور مقتول کے فریق کے ساتھ لازمی شادی کرنی پڑے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لب اور ولور جیسے رسوا کن عمل کو ختم کیا جائے۔کہاں 1931ء اور کہاں 2015یہ رسومات اب تک قائم ہیں۔ لب جیسی دختر فروشی کو اس وقت ظلم عظیم کہا گیا اور آج بھی ظلم کا یہی عالم ہے۔1932میں بھی ہونے والی کانفرنس میں غیرت مند بلوچوں کی عورتوں کی تعلیم کے مقصد کے لئے زبردست قرارداد پیش کی گئی۔ یہ وہ وقت تھا کہ بلوچ بہت باتوں پر سوشلزم سے متاثر تھے۔1948ء میں بلوچستان، پاکستان میں شامل کیا گیا، عورتوں کی جدوجہد میں ناز بی بی نامی ایک مضبوط اور شان والی بلوچ گزری جس نے داد شاہ کے ساتھ بندوق اٹھائی اور ایرانی ظلم کے خلاف شاہِ ایران اور امریکیوں کو چیلنج کیا تھا۔ بعدازاں 1970کی دہائی میں بلوچ عورتوں پہ زمانے کی تبدیلی کا اثر ہوا۔ بلوچستان یونیورسٹی قائم ہوئی۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا آغاز ہوا۔ تعلیمی اداروں میں خواتین کی ترقی کے بارے میں تحقیق کا کام بھی شروع ہوا، مگر یہ سارا منظر نامہ ضیاء الحق کے زمانے میں بالکل اُلٹ ہو گیا۔ساری آفت عورت پرگری، آرٹ کلچر اور تخلیق سب کے نرخرے کاٹ دیئے گئے۔ یہیں پہ عورتوں پر تشدد کے راستے پھر کھل گئے۔ جہیز پہ قتل، جنسی ہراسانی کے علاوہ لب اور ولور جیسی رسمیں دوبارہ سامنے آ گئیں۔ مہذب ترین بلوچ عورت نے نام نہاد دانشوری کا جواب دانش سے دینے کا فیصلہ کیا۔ مہناز، بلوچی شاعری کی مدلّل شاعرہ ہے۔ اب ہم پھر سولہویں صدی کی جانب پلٹ رہے ہیں کہ مہناز نے اس زمانے میں مردانہ سماج کو للکارا تھا۔ وہ تن ِ تنہا پورے سماج سے لڑی۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری کے خیال میں اگر ایک ترقی پسند حکومت بلوچستان میں قائم ہو تو مہناز کے مجسمے جگہ جگہ لگیں گے۔ اب ذرا پھر پندرہویں صدی میں حانی کا ذکر چھڑتا ہےجسے میر چاکر نے سرداری طریقوں سے ہتھیا لیا تھا۔ حانی کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ قبائلی جنگوں میں، اپنے بہادروں کو اُکساتی تھی۔
چاکری عہد میں ایک اور بڑی عورت گوہرمترڑ کے نام سے گزری ہے۔ یہ عورت دو طریقے سے استحصال کا شکار تھی۔ ایک بحیثیت عورت اور ذات پات کے لحاظ سے کم ذات۔ گوہر بہت مالدار عورت تھی اور مہیر کے علاقے میں اپنے مویشی، اونٹ وغیرہ، گوھرام سردار کی پناہ میں لے آئی۔ گوھرام نے اس سے تعلق رکھنے کی ہزار کوشش کی مگر گوہر اپنے فیصلے پہ قائم رہی۔
ہم نے بھلا ضیاء الحق کے دور سے واپس پندرہویں اور سولہویں صدی کی جانب کیوں سفر کیا۔ سبب یہ ہے کہ ان خواتین کے حوالے سے بلوچ تاریخ میں بھی کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ بتانا یہ چاہتے ہیں کہ گوہر جیسی خاتون کے سارے جانور، بدلہ لینے کے لئے ریحان رند نے تلواروں سے قتل کر دیئے تھے مگر خاتون نے حوصلہ نہ ہارا۔
آج کی نسل کو یہ بتانے کی کوشش، ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کی ہے کہ قبائلی نظام آج بھی رائج ہے۔ رند قبیلے کے لوگوں نے گزشتہ برسوں میں سات عورتوں کو زندہ دفن کر دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف شادی کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ اس مختصر کتاب میں ترکی میں انقلاب کے بعد، عورت کی حیثیت، اس طرح سوویت یونین میں عورتوں کو کس طرح مساوی درجہ دیا گیا اور پھر ضیاء الحق کے زمانے میں ویف کا قیام اور غیر مساویانہ معاشرے کے خلاف احتجاج کو اپنا کر جس طرح پاکستانی خواتین نے کالے قوانین کے خلاف مظاہرے کئے اور دنیا بھر کی نظرمیں خلاف انسانیت قوانین کو ختم کرنے کی جدوجہد کی۔ اس پر سیر حاصل تفصیل لکھی ہے۔ میری خواہش ہے کہ ڈاکٹر شاہ محمد مری تفصیل سے بلوچ خواتین کی جدوجہد پر کتاب لکھیں کہ اب تک بلوچ تاریخ پر جتنی کتابیں ہیں ان میں خواتین کا تذکرہ خال خال ہی ملتا ہے۔ آج بھی بلوچ عورت، شوہر کی رضا مندی کے لئے تعویز گنڈوں پہ اعتبار کرتی ہے ابھی تک جن زدہ عورت بلوچ معاشرے پر حاوی ہے۔