اقبال کے ہونہار سپوت جن پر حضرت علامہ نے جاوید نامہ ایسی معرکتہ الآرا کتاب لکھی اور جن کو مخاطب کرکے انہوں نے نوجوانوں کے نام کئی پیغامات دئیے گزشتہ روز 90برس کی عمر میں جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کیمبرج سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کئے ہوئے فلسفی، فلسفہ، تاریخ و ادب اور قانون اور نجانے کتنے علوم کے ماہرجن کی اپنی تصانیف ان کے علم کا منہ بولتا ثبوت ہیں نے اپنی تمام عمر اقبال کے کلام کی تشریح کرتے گزاری لیکن خود اہل علم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو علامہ اقبال کے سائے سے نکالنے کی کوشش نہیں کی۔ اسی پر فخر کیا کہ وہ اقبال کے سپوت ہیں۔ 5اکتوبر1924ءکو پیدا ہونے والے جاوید اقبال ابھی کم عمر تھے کہ علامہ اقبال کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا۔ اپنی نوعمری میں ہی والدہ اور پھر والد کے سائے سے محروم ان کی اولین زندگی اپنے آپ کو ایک بہت بڑے شاعر اور فلسفی کے اہل بیٹے کے طور پر ثابت کرنے میں گزری۔ انہوں نے1944ءمیں گورنمنٹ کالج سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی اور پھر اسی کالج سے 1948 ءمیں ایم اے فلسفہ کیا۔ اس دوران4 برس کا وقفہ ان کا خود کو کھوجنے اور تلاش کرنےکا تھا۔1954میں انہوں نے یونیورسٹی آف کیمبرج سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی اور پھرلنکنزان سے1956ءمیں بیرسٹر ایٹ لاء کی ڈگری لی۔لنکنز ان جانا ان کیلئے ایک خواب کی حیثیت رکھتا تھا۔ خاص طور پر اس خیال سے کہ ان کے قائد محمد علی جناح نے اس جگہ سے قانون پڑھا تھا۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کو اپنے والد سے گفتگو کے بہت مواقع نہیں ملے۔ نہ ہی ان کی وساطت سے انہوں نے جناب محمد علی جناح سے بہت ملاقاتیں کیں۔ علامہ اقبال ان کے بچپن میں زنان خانے اور مردان خانے میں فرق رکھتے تھے، مگر انہیں محمد علی جناح سے ایک ملاقات بخوبی یاد تھی کہ جب وہ علامہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لائے وہ لکھتے ہیں کہ مجھ سے مخاطب ہو کر محمد علی جناح نے پوچھا کہ تم بڑے ہو کر کیا کروگے۔ یہ خاموش رہے، جناح صاحب نے پوچھا کہ یہ کچھ بولتا کیوں نہیں۔ تو علامہ نے کہا کہ یہ اس بات کا منتظر ہے کہ آپ اس کو ہدایت دیں کہ یہ بڑا ہو کر کیا کرے۔
علامہ اقبال کو اللہ نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ جاوید اقبال کو بتاسکتے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کریں، لیکن جاوید نامہ اور نوجوانوں کے نام بے شمار پیغامات جو انہوں نے نظموں کی شکل میں چھوڑے اور پھر ان کا کلام فارسی میں اردو میں اور انگریزی زبان میں ان کے مقالے جاوید اقبال صاحب کیلئے نوجوانی میں ایک چیلنج بن گئے کہ اس کو سمجھ کر عام لوگوں تک اقبال کے پیغام کو پہنچانا ہی ان کی زندگی کا مقصد ہوگا۔ سو انہوں نے اسی کو اپنے لئے ایک منزل ،ایک چیلنج بنالیا۔ انگریزی اور فلسفے سے آشنائی اور پھر فلسفہ میں ریسرچ ان کے کام آئی۔ انہوں نے اقبال کے کلام کو سمجھانے کیلئے کئی تصانیف مرتب کیں جو اب ہمارے لئے اقبال تک پہنچنے کیلئے ایک راستہ ہیں۔
Legacy of Quaid-E-Azam, Stray Reflectionsمئے لالہ فام،زندہ رود، افکار اقبال، پاکستان اور اسلامک لبرل موومنٹ ،جہان جاوید، اسلام اور پاکستان کی شناختThe Concept of State in Islamاور پھر اپنا گریباں چاک جاوید اقبال صاحب کے افکار، اسلام اور اسلامی ملت اور پھر قائد اعظم کو سمجھنے میں بے حد مددگار ہیں۔
علامہ اقبال کے کلام کے حوالے سے لوگوں نے بہت غلط فہمیاں پھیلائی ہیں،کئی ایک نے تو اقبال کے کلام کو مولویانہ کر دیا ہے لیکن خود جاوید اقبال لوگوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ۔ وہ علامہ اقبال کو رجعت پسند نہیں سمجھتے تھے انہوں نے بار بار اس بات کی تلقین کی کہ اقبال کے کلام کو کھلے دماغ سے پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ اقبال کے حوالے سے وہ بارہا اجتہاد پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کو اور ملت اسلامیہ کو شدت پسندی، رجعت پسندی اور القاعدہ اور طالبان ایسے گروہوں سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ لوگ اجتہاد کے قیام پر زور دیں وہ فرقوں میں بٹے مذہبی اشخاص سے دور رہنے پر زور دیتے رہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کے آگے بڑھنے کےلئے تفکر اور مغربی علوم سے روشنائی، خاص طور پر سائنس اور جدید علوم سے واقفیت پر زور دیا مگر اس بات پر بھی مصر رہے کہ اسلام کی اساس کو چھوڑنا نہیں چاہئے ۔ وہ عمر بھر اقبال کے فلسفہ خودی کی تعبیر بنے رہے
خودی کے ساز سے ہے عمر جاوداں کا چراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ
بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ہمارے لئے ان کی زندگی میں بھی مبہم رہیں، مثلاً ان کا اقبال کے حوالے سے روحانی جمہوریت کے فلسفہ کی تشہیر، اس سے ان کی کیا مراد تھی؟ میں تو سمجھ نہیں پایا لیکن آنے والے وقت میں لوگ ضرور اس پر غور کریں گے اور جاننے کی کوشش کریں گے کہ جاوید اقبال مسلمانوں کیلئے روحانی جمہوریت کے قیام پر کیوں زور دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انکے مرتبے بلند کریں(آمین)