اسلام آباد(حنیف خالد)پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ1992ء میں حکومت اہم ترامیم کرکے ترمیمی بل پارلیمنٹ سے منظورکرایاجائے گا۔ پاکستان میں پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ1992سے قومی معیشت کو بے تحاشا نقصان پہنچاہے اور آج تک پہنچ رہاہے اس ایکٹ میں عنقریب اہم ترامیم کی جائیں گی۔ اس قانون کے ذریعے کوئی بھی پاکستانی حتیٰ کہ غیرملکی پاکستان کے اندر مارکیٹ سے ڈالر اور دوسری کرنسی خرید کرفارن کرنسی اکائونٹس کمرشل بنک میں کھلواسکتاہے اور اسکے بعد اس فارن کرنسی کو بیرون ملک سٹیٹ بنک ایف بی آر کی اجازت لئے بغیربھجواسکتاہے۔ اس سلسلے میں زرمبادلہ پاکستان سے منتقل کرنے پر اس شخص پر کوئی پنلٹی عائد نہیں کی جاتی اور یہ زرمبادلہ ایف بی آر/ایف آئی اے/اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے علم تک میں لائے بغیرآج تک بھاری مقدار میں ملک سے باہر جارہاہے اسطرح ملک کے اندر ہرفارن کرنسی اکائونٹ دوسرے لفظوں میں ایک آف شورکمپنی بنی ہوئی ہے جو پاکستان کی معیشت کو24سالوں سے کھوکھلاکررہی ہے اسلئے پاکستان کی حکومت اور پارلیمنٹرین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس کالے قانونی کو فی الفور منسوخ کرے اور فارن کرنسی کے ریگولیشن کابہترین نظام سٹیٹ بنک آف پاکستان وضح کرے تاکہ ملک کی معیشت اور پاکستانی کرنسی کی ویلیو پر جو منفی اثرپڑرہاہے اسکا خاتمہ ممکن بنیں 1992سے آج تک کی حکومتیں پارلیمنٹوں اور صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان، صنعتکار، بزنس مین کرپٹ بیوروکریٹس جاگیردار زمیندارشامل ہیں۔1992میں ڈالر30روپے کے لگ بھگ تھا مگرمذکورہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ مجریہ1992کوجاری وساری رکھنے کے نتیجے میں ڈالر پاکستان میں105روپے کا ہے۔آج عالمی بنک اور آئی ایم ایف اصرارکررہے ہیں پاکستان اپنی کرنسی کومزید 20فیصد ڈی ویلیوکرے۔ اگرمذکورہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ1992جسکی وجہ سے بقول سابق گورنراسٹیٹ بنک یاسین انوریومیہ اڑھائی کروڑ(25ملین)ڈالر ملک سے باہر1992سے فارن کرنسی اکائونٹس کے ذریعے جارہے ہیں۔ اگراسی کاحساب کرلیں تو آج تک180ارب ڈالر پاکستان سے مذکورہ قانون کی وجہ سے بنک چینل سے باہرجاچکاہے ۔انڈیابنگلہ دیش سری لنکا وغیرہ میں بلیک منی(کالے دھن)کوفارن کرنسی اکائونٹ کھلواکرکسی کی اجازت لئے بغیرباہربھجوانے کا قانون نافذ نہیں ہے۔ ذرائع سے معلوم ہواہے کہ حکومت پاکستان جلد اس قانون میں اہم ترامیم کرے گی جن کے نتیجے میں بیرون ملک زرمبادلہ کی منتقلی ناممکن بنائی جائے گی۔