• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرپور خاص، میڈیکل کالج طالبہ کی خودکشی کی انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات

فائل فوٹو
فائل فوٹو

میرپور خاص میں نجی کالج کی میڈیکل کی طالبہ کی خودکشی سے متعلقہ انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ عدالت اور آئی جی سندھ کو بھیجی گئی ہے، طالبہ کے لواحقین نے انکوائری رپورٹ مسترد اور پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل انکوائری کرانے کا مطالبہ کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ میڈیکل کی طالبہ نے نفسیاتی دباؤ کے باعث خودکشی کی، طالبہ کی شکایت پر کارروائی نہ کرنا حالات بگڑنے کا سبب بنا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبہ پہلے سے تعلیمی اور ذاتی مسائل کے باعث ذہنی تناؤ کا شکار تھی، لیکچرار کے رویے اور رقم کے مطالبے نے ذہنی حالت مزید متاثر کی۔

رپورٹ میں ڈی ایس پی، سراج الدین نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ملزمان کا متوفیہ سے ادھار پیسے مانگنا ایسا عمل نہیں، جو موت کا سبب بنے، طالبہ کی خودکشی کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

طالبہ کے والد اور ماموں نے انکوائری رپورٹ پر سوال اٹھادیا اور کہا کہ موبائل فونز کا فارنزک نہیں ہوا تو رپورٹ کیسے جاری کردی گئی، 5 میں سے 3 نامزد ملزمان کو الزامات سے باہر کردیا گیا ہے، واقعے کی جوڈيشل انکوائری کرائی جائے۔

طالبہ خودکشی کا واقعہ 8 اپریل کو پیش آیا تھا، مقدمہ میں کالج لیکچرار گرفتارہے جبکہ پرنسپل اور خاتون پروفیسر سمیت 4 ملزمان ضمانت پر ہیں۔

قومی خبریں سے مزید