• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے جنگ بندی پیغامات کا تبادلہ روکنے کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ : فوٹو اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ : فوٹو اے ایف پی 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے تا حال امریکا کو جنگ بندی پیغامات کا تبادلہ روکنے سے مطلع نہیں کیا، جنگ بندی پیغامات کا تبادلہ روکنے کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی پیغامات معطلی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکا پھر سے بھرپور فوجی کارروائیاں شروع کر دے گا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا جا کر ایک بار پھر ایران پر بم گرانا شروع کر دے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم خاموش رہیں گے، ہم ایران کی بحری ناکا بندی جاری رکھیں گے، یہ ناکا بندی آہنی ہے، اس وقت کا انتظار کریں گے جب ایران امریکا کو منظور شرائط پر ڈیل کرنے کو تیار ہوگا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر آپ سچ سننا چاہتے ہیں تو سنیں کہ مجھے لگتا ہے کہ ہم باتیں بہت کرتے ہیں، میرے خیال میں خاموشی بہتر ہوتی ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ امریکی جارحانہ کارروائی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، امریکی جارحیت حملے کیلئے استعمال ہونے والے مقامات پر ایرانی جوابی کارروائی کا سبب بنی، ایران اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے جو بھی اقدامات ضروری سمجھے گا کرے گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مخالف فریق کی جانب سے  موقف کی تبدیلی، نئے متضاد مطالبات، اعتماد کا فقدان، لبنان میں امریکی اور اسرائیلی اقدامات سفارتی عمل میں تاخیر کا سبب ہیں۔

اس مرحلے پر جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، لبنان میں جنگ بندی امریکا کے ساتھ جنگ ​​کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید