• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، جے آئی  ٹی تحقیقات پر اظہار اطمینان، توسیع نہیں ہوگی، حسین کی تصویر لیک ہونے پر جواب طلب

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) عدالت عظمیٰ نے ’’پاناما پیپرز لیکس کیس‘‘ کی تفتیش کے دوران وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی تصویر کے لیک ہونے کے حوالہ سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی ) کے سربراہ واجد ضیاء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے پیر کوآئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا ہے جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے اپنی دوسری 15روزہ پیشرفت رپورٹ سربمہر لفافے میں بند کرکے عدالت میں جمع کروا تے ہوئے تحقیقات کے راستہ میں آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں کی بھی شکایت کی ہے جس پر عدالت نے انہیں اس حوالہ سے علیحدہ سے باضابطہ درخواست دائرکرنیکی ہدایت کی ہے۔عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ سیل کر دی۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آپ کو جو بھی مشکلات درپیش ہوں، لیکن اس مقدمے کی تفتیش دو ماہ میں ہر حال میں مکمل ہونی چاہئیں، ہم جے آئی ٹی کو مزید ایک دن بھی نہیں دیں گے، ٹائم فریم میں کسی صورت تبدیلی نہیں کرینگے۔دوران سماعت حسین نواز کے وکیل نے کہا کہ تصویرلیک ہونے کے معاملے پرجوڈیشل کمیشن بنایا جائے،جس پر جسٹس اعجازالا حسن نے کہا کہ تصویر اسکرین شاٹ ہے، ویڈیوریکارڈنگ نہیں، جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اس پرجے آئی ٹی کوسن لیتے ہیں، تحقیقات کی ضرورت ہوئی تو دیکھیں گے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بدھ کے روزحسین نواز کی درخواست کی سماعت کی تودرخواست گزار کی جانب سے خواجہ حارث احمدایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اس تصویر کو جاری کرنے کا مقصد پاناما پیپرز لیکس کیس میں تفتیش کے لیے پیش ہونے والے افراد کو نہ صرف دبائو میں لانا ہے بلکہ ان کیلئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے رحم و کرم پر ہوں گے۔تفتیش کے دوران کسی بھی فرد کی تصویر یا ویڈیو بنانا نہ صرف خلاف قانون ہے بلکہ سپریم کورٹ کے اسی بینچ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جس میں فاضل عدالت نے واضح احکامات جاری کیے تھے کہ کسی شخص سے تفتیش کے دوران انسانی عظمت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حسین نواز کی اسوقت کی تصویرہے جب وہ آخری بار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔یہ تصویر سرکاری ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز میں دکھانے کے علاوہ مختلف اخبارات کی بھی زینت بنائی گئی ہے۔ تصویر لیک ہونے کی ذمے دار جے آئی ٹی ہے۔ انہوںنے اس کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے ایک نیا جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کی۔ جس پرجسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ آپ کے نکات نوٹ کرلیے ہیں تو فاضل وکیل نے استدعا کی کہ ہماری درخواست کو جلد از جلد سماعت کے لیے لگایا جائے کیونکہ یہ درخواست ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق ہے اور ایسا دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا یہ ویڈیو نہیں ہے بلکہ اسکرین شاٹ تھا۔ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی تو دیکھیں گے، فی الحال جے آئی ٹی سے جواب مانگ رہے ہیں۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے اس درخواست پر جواب طلب کرتے ہوئے اس درخواست کی حد تک آئندہ سماعت 12مئی تک ملتوی کردی۔جسکے بعدجے آئی ٹی کے سربراہ واجد رضا نے اپنی دوسری پیشرفت رپورٹ سربمہر لفافے میں بند کرکے عدالت میں جمع کروائی۔جس میں پیشرفت رپورٹ کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی تفتیش کے راستے میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کاذکر بھی کیا گیا تھا۔فاضل ججز نے تین مختلف سائز کی رپورٹوں کا جائزہ لیا اورمشاورت کی، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان نے جے آئی ٹی کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحقیقات کے راستے میں کسی قسم کی بھی رکاوٹیں درپیش ہیں تو انہیں خفیہ رپورٹ کے ساتھ لف کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بہتر ہے کہ آپ اس کے لیے الگ سے تمام حقائق پر مشتمل ایک نئی باضابطہ درخواست میں اپنے مسائل، رکاوٹیں اور مشکلات بتائیں ،جس پر اٹارنی جنرل کو ہدایات جاری کریں گے۔ عدالت کے استفسار پر جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے بتایا کہ تحقیقات درست سمت میں جارہی ہے، جس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ امید ہے جے آئی ٹی مقررہ وقت میں کام مکمل کرلے گی۔بعد ازں فاضل عدالت پیشرفت رپورٹ کو دوبارہ سربمہر کراتے ہوئے اسے رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کے ساتھ کیس کی مزید سماعت15روزکے لئے ملتوی کردی۔ صباح نیوز کے مطابق تین رکنی بنچ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کاجائزہ لیکراس پر مشاورت کے بعد قرار دیا کہ تحقیقات درست سمت میں جا رہی ہے ، رپورٹ کے پہلے حصے میں جے آئی ٹی نے اپنے مسائل بیان کیے تھے جس پر ججز نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مشاورت کی اور کہاکہ جے آئی ٹی سربراہ درپیش مسائل کے متعلق درخواست دائر کریں ، اس پر اٹارنی جنرل کو ہدایات جاری کر دیں گے۔جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں دوسری 15 روزہ رپورٹ پیش کردی جس کا پہلا حصہ عام کرنے جبکہ دوسری حصہ خفیہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تازہ ترین