• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے غم مجھے دے دو I I......صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

میں نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اپنے غم مجھے دے دو۔ میں جانتا ہوں کہ میں ان سب کا مداوا کرسکتا ہوں نہ ہر زخم پر مرہم رکھ سکتا ہوں لیکن جہاں تک ممکن ہو دوا بھی کرتا ہوں اور دعا بھی، اگرچہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارا نالہ و فریاد اور ہماری دعائیں بے اثر ہوچکیں۔ اس حوالے سے سوچتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان دکھی لوگوں کا”دکھستان“ بن چکا ہے۔ دکھ سنانے والا اپنے زخم دکھا کر قدرے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اظہار بذات خود غبار کو ہلکا کردیتا ہے لیکن سننے والا ان داستانوں کی گٹھڑی باندھ کر اپنے سر پر رکھ لیتا ہے اور جہاں جہاں موقع ملتا ہے اسے کھولتا رہتا ہے۔
ہمارے بعض مہربان قاری اس حسن ظن میں مبتلا ہیں جیسے وزیراعلیٰ ،وزیر اعظم اور صدر صاحب ہم سے صرف ایک فون کال کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں۔پیچیدہ اور گنجلگ نظام کے مارے ہوئے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ان کی فریاد لمحوں میں حکمرانوں کے کانوں تک ہی نہیں بلکہ کانوں سے اتار کر دلوں تک پہنچا سکتا ہوں اور سنگ ریزوں میں حرکت پیدا کرسکتا ہوں۔انہیں کیسے سمجھاؤں کہ ہم بھی ان کی مانند فقط رعایا ہی ہیں،ہماری فریاد محلات تک رسائی کی طاقت ہر گز نہیں رکھتی اور ہم بھی ان کی مانند بے بس اور بے اثر ہیں۔عام طور پر حکمران صرف وہ کام کرتے ہیں جن سے ان کی سیاست کی دکان چمکتی اور ووٹ بنک میں اضافہ ہوتا ہو۔ان کے پاس انفرادی مسائل کے حل کے لئے وقت کہاں؟ مظلوموں کی طرف سے ملنے والی ان گنت درخواستیں میں نے وزیراعلیٰ شکایت سیل کو بذریعہ کورئیر بھجوائیں اور اکثر درخواستوں پر اپنی طرف سے خط بھی”چڑھایا“ لیکن آج تک نہ کسی کی رسید ملی اور نہ ہی کسی زیادتی کے ازالے کی خوشخبری نصیب ہوئی۔ عام طور پر درخواستیں نیچے جاکر نوکر شاہی کی فائلوں میں سوجاتی ہیں اور جب تک کسی سائل کے پاس پرزور سفارش نہ ہو یہ درخواستیں فائلوں میں ہی آرام کرتی رہتی ہیں۔دکھ کی بات یہ ہے کہ سفارش علی خان ہمارے ملک کا سب سے بڑا خان بن چکا ہے جس کی نظر التفات کے بغیر نہ انصاف ملتا ہے، نہ ظلم و زیادتی کا ازالہ ہوتا ہے اور نہ حق ملتا ہے حتیٰ کہ اس کے بغیر سرکاری اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر ملتا ہے، نہ دوا ملتی ہے اور جب تک سفارش کے مضبوط حصار کو توڑا نہیں جاتا مظلوم پستے رہیں گے اور حق کا خون ہوتا رہے گا۔ سفارش کے حصار کو توڑنے کے لئے سسٹم اور نظام وضع کرنے اور سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے جس کی طرف ہرگز ہماری توجہ نہیں کیونکہ ہمارے حکمران اور ہماری حکومت ڈنگ ٹپاؤ یعنی وقت گزارو پالیسی پر عمل کرتے ہیں اور کسی سسٹم میں یقین نہیں رکھتے، اگر یقین رکھتے ہیں تو اس پر عملدرآمد کرنے کی آرزو اور ارادے سے محروم ہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھیں کہ ہم ایک فیوڈل معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں طاقتور کے لئے قانون اور جبکہ کمزور کے لئے قانون اور ہوتا ہے۔ہم انسانی برابری پر ہر گز یقین نہیں رکھتے اس لئے ہم کوئی سسٹم یا نظام نافذ نہیں کرتے کیونکہ سسٹم کے نفاذ کا مطلب یہ ہوگا کہ طاقتور، بااثر اور بڑے لوگوں کو بھی قطار میں کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا جبکہ ہمارے اراکین اسمبلی ، سیاسی کارکنان، جاگیردار، رؤسا اور افسر شاہی کو یہ ہرگز گوارہ نہیں۔کیا آپ اخبارات میں اکثر اراکین اسمبلیوں کے قانون کو روندنے، پولیس کو مارنے، قتل و غارت میں حصہ دار ہونے اور ہر جگہ رعب جمانے کی خبریں نہیں پڑھتے، اگر آپ کے قانون ساز کسی سائلہ سے زنا کرکے بچ جائیں، ناجائز اور غیر قانونی اشیاء کے پکڑے جانے پر کسٹم حکام کی وردیاں پھاڑ دیں، نقل کرتے ہوئے پکڑے جائیں اور پھر بچ نکلیں، چوری کرتے ہوئے پکڑے جائیں لیکن گرفتاری سے محفوظ رہیں، وہ سڑکوں پر دندناتے رہیں اور سرکاری اراضی پر قبضے کرتے رہیں اور اپنے ڈیروں اور مہمان خانوں میں قاتلوں اور بدمعاشوں کو پناہ دیتے رہیں لیکن قانون بے بس تماشائی بنا رہے تو کیا ایسے معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ جن ملکوں میں قانون کی حکمرانی ہے وہاں وزیر اعظم سے لے کر عام شہری تک سبھی برابر تصور ہوتے ہیں، وہاں وزیراعظم پر معمولی کرپشن کا شبہ ہو تو پولیس کانسٹیبل انکوائری کے لئے پہنچ جاتا ہے جیسا کہ ٹونی بلیئر کے ساتھ ہوا۔کیا آپ پاکستان کے جاگیردارانہ معاشرے میں ایسے احتساب کا تصور کرسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب معاشرے کا بالائی طبقہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھے تو پھر پولیس کیوں کرپٹ نہ ہو اور پھر پولیس سارا غصہ بے سفارشوں اور کمزوروں پر کیوں نہ نکالے۔اس سے یاد آیا کہ میں نے گزشتہ ایک کالم میں گوجرانوالہ پولیس کے حوالے سے ایک خوفناک خبر کا ذکر کیا تھا۔گوجرانوالہ پولیس کے سربراہ نے اس کی تردید کی ہے۔میں نے یہ دو کالمی خبر اخبار میں پڑھی تھی اور ظاہر ہے کہ ہمارا انحصار اخباری خبروں پر ہی ہوتا ہے۔بات دور نکل گئی میں یہ کہہ رہا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو ہم آپ کے دکھوں کو اپنے دریدہ دامن میں جگہ دیتے ہیں لیکن کیا کریں کہ سمندر کے سامنے بند باندھنا ممکن نہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے کسی مظلوم بیوہ کا خط ملا جسے محکمہ تعلیم نے وجہ بتائے بغیر گیارہ سال کی سروس کے بعد نوکری سے نکال دیا تھا اور وہ اب اپنے دس سالہ بچے کیساتھ دھکے کھارہی تھی۔میں نے یہ خط چیف جسٹس پنجاب کو بھجوادیا کہ بالآخر عدلیہ ہی مظلوموں کی پناہ گاہ ہے۔چیف جسٹس پنجاب ایک نیک ،رحم دل اور منصف مزاج انسان ہیں۔ انہوں نے اس کا سوموٹو نوٹس لے لیا۔نہ جانے کہاں سے اس بیوہ نے میرا نمبر حاصل کیا۔ وہ روتی جاتی تھی اور چیف جسٹس کو دعائیں دیتی جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں، سیاستدانوں، اسمبلیوں اور نوکر شاہی سے مایوس انسانیت اب صرف عدلیہ سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔
حکمرانوں اور سرکاری اداروں سے مایوسی اپنی جگہ لیکن میں اپنے پاکستانی بھائیوں سے بہت زیادہ پرامید ہوں۔شاید ہی دنیا میں اتنے ہمدرد اور مدد کرنے والے لوگ پائے جاتے ہوں جس قدر پاکستان میں موجود ہیں۔ ایسے حضرات کی توجہ کے لئے عرض ہے کہ ایک بیوہ جس کے بچے نہایت لائق ہیں اسے بچوں کو پڑھانے کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہے ، براہ کرم فون نمبر 051-5856933 پر رابطہ کریں۔ضلع مردان کی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کے گردے فیل ہوچکے ہیں، علاج کی ذمہ داری اٹھا سکیں تو براہ کرم0303-8613347پر رابطہ کریں۔ایک ہونہار بچی خوشبو نے ایف ایس سی پاس کی ہے، وسائل نہیں ہیں لیکن وہ چین سے میڈیکل تعلیم کے لئے قرضہ حسنہ چاہتی ہے جس کی ہر طرح ضمانت دے گی۔ براہ کرم041-8710941پر رابطہ کریں۔مانسہرہ ایبٹ آباد کا ولی محمد ریڑھ کی ہڈی کا مریض ہے اور اس کا نیچے والا دھڑ ختم ہوچکا ہے۔ بنک سے قرضہ لیا تھا اور اب بنک اس کا گھر نیلام کرنے والا ہے۔ بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، کوئی صاحب مدد کرنا چاہئیں تو ولی محمد معرفت غلام فرید فون نمبر0992-334294پر رابطہ کریں۔
خطوط کا انبار لگا ہے کسے کسے میری بیچارگی سہارا دے کچھ ضرورت مندوں کی بھی مدد ہوجائے تو بخشش کا سامان ہوجائے گا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کا مختصر ترین راستہ اس کی مخلوق کی خدمت ہے۔ میں نے یہ گٹھڑی تھوڑی سی کھولی ہے اب معاملہ آپ کے اور آپ کے خالق کے درمیان ہے۔



تازہ ترین