آرٹیکل 6کا آغاز حشر مارکہ تھیٹر
سترھویں ترمیم کی نو ٹنکیاں
کیری لوگر بل کی دولتیاں
این آر او کا جوڈو کراٹے اور کنگفو
سب پانی میں مدھانی چلانے کے مترادف ہے سو ہر طرف مدھانیاں اور کہانیاں چل رہی ہیں جبکہ ملک کے اصل مسائل مسلسل انڈے بچے دیئے جارہے ہیں۔ قوم اپنی اپنی قیادتوں کے منحوس سایوں میں ایسے ”نان ایشوز“ پر مغز کھپائی میں مصروف ہے جن کے فیصلے ان کے بس میں ہی نہیں۔ حقیقی ایشوز بھی اس وقت ”نان ایشوز“ ہی بن جاتے ہیں جب ان کے بنانے بگاڑنے کے ساتھ آپ کا تعلق ہی تمام کر دیا جائے۔ دوسری طرف جو کا م ہم کرسکتے ہیں اور ہمارے بس میں ہیں… ان کی طرف ہمارا کبھی دھیان تک نہیں جاتا مثلاً آبادی کی بے تحاشہ بڑھوتری کو کنٹرول کرنا ہمارے بس میں ہے یہودوہنود اس میں مداخلت کر ہی نہیں سکتے لیکن ہم یہ بہ آسانی ہوسکنے والا کارنامہ سرانجام دینے سے انکاری ہیں… ہم اپنی غلیظ گلیاں اور گندے محلے صاف رکھ سکتے ہیں لیکن ہمیں اس ”معمولی“ کام سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم تجاوزات کی لعنت سے بچتے ہوئے اپنے شہروں کی شریانیں یعنی سڑکیں تنگ ہونے سے بچا کر اپنا قیمتی وقت اور کروڑوں کا پٹرول ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کی رتی برابر پرواہ نہیں۔ ہماری نام نہاد سیاسی، فکری اور مذہبی قیادتیں بھی چھوٹے چھوٹے اصل مسائل کی بجائے ایسے مسائل پر فری سٹائل ریسلنگ میں مصروف ہیں جن کا حل ان کی اوقات، بساط اور حیثیت سے بہت باہر ہے مثلاً منور حسن صاحب کی ”گو امریکہ گو“ میں سے کیا نکل سکتا تھا؟ کیا نکل سکتا ہے؟ اور کیا نکلے سکے گا؟ سوائے فضول قسم کی وقتی سطحی معمولی سنسنی خیزی کے لیکن وقت اور انرجی ضائع کرنا تو ہمارے سیاسی ایمان کا حصہ ہے۔ہمارے اکثر لیڈروں نے قوم کے وقت، انرجی اور پیسے کو ضائع کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے بجائے اس کے کہ لوگوں کی تربیت کریں، یہ انہیں مزید مسخ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔
معاف کیجئے تمہید کچھ لمبی ہوگئی حالانکہ کہنا صرف یہ چاہتا تھا کہ ”بڑے بڑے ایشوز“… ”بڑے بڑے لوگوں“ کے لئے چھوڑ کر کوئی تو ہو جو عام تام، معمول کی معمولی اور ہلکی پھلکی سی باتیں کرے کہ بدبودار سیاست، نان ایشوز قسم کے ایشوز، عشروں پرانے وہی رونے دھونے اور ماتم ۔
ایک ہی تصویر بھلا کوئی کہاں تک دیکھے
ہر روز نہ سہی… کبھی کبھار تو ایسے ”آوارہ موضوعات“ پر بھی غور و فکر کرنا چاہئے کہ وہ کون سے اصول اور عادات ہیں جنہیں اپنا کر ہم قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزار سکتے ہیں کیونکہ اس بدنصیب معاشرہ میں تو اہل ثروت اور اہل علم بھی بے ڈھنگی اور بے سری زندگیاں گزار رہے ہیں۔ اسی لئے صرف غرباء ہی نہیں امراء بھی بیمار اور بیزار ہیں۔ سکھ، سکون اور شانتی نہ عالم کو نصیب ہے نہ جاہل کو کیونکہ کوئی بھی کائنات کے فطری قوانین (Natural Laws)سے ہم آہنگ نہیں کیونکہ جو لوگ خود اپنے اور اپنی ریاست کے قوانین کا احترام نہیں کرتے وہ قوانین فطرت کا احترام کیسے کرینگے؟
اگر آپ تیزی کے ساتھ اپنی زندگی میں صحت مند اور مثبت تبدیلی چاہتے ہیں تو ”تشکر“ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست لے آیئے۔ بے شمار محرومیوں کے باوجود… ان گنت مایوسیوں کے باوجود دیانتداری کے ساتھ بیس، پچیس، پچاس ایسی عنایات کی فہرست بنایئے… ایسے انعامات کو کاغذ پر تولائیے جو قدرت نے بغیر کسی استحقاق کے آپ کو دان کر رکھی ہیں۔
یہ دو آنکھیں … جو کروڑوں میں بھی دستیاب نہیں۔
یہ ذائقہ کی حس… جو اربوں ڈالر کی مشینری کو نصیب نہیں۔
بچوں سے لے کر پرندوں تک کی آوازیں سننے والی سماعت ۔
وہ اولاد جس کی اولاد کی اولاد کی اولاد کئی نسلوں کی محرومیوں کا ازالہ کرسکتی ہے مثلاً کیا کبھی میاں نواز ،شہباز کے دادا نے سوچا بھی ہوگا کہ اس کے پوتے کتنی مقبولیت، شہرت اور دولت میں کھیل رہے ہوں گے؟
مختصراً یہ کہ ”تشکر“ کو ترجیحات میں شامل کرکے دیکھئے، آپ کو ایک عجیب قسم کی خوشگواریت کا احساس ہوگا… اور یہ بتانا نہ بھولئے کہ اگر کبھی کبھار ایسے ہی کسی اور ”آوارہ موضوع“ پر بات ہوجائے تو اس میں کیا برائی ہے؟
میں تو آرٹیکل 17,6ویں ترمیم، کیری لوگر بلوں اور این آر او وغیرہ سے بری طرح اوبھ چکا ہوں… اکتا چکا ہوں اور ان کا سوچتے ہی متلی سی ہونے لگتی ہے۔