• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوسری عالمی اردو کانفرنس.....مشتاق احمد قریشی

سب سے پہلے میں کراچی آرٹس کونسل کے منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ دوسرا موقعہ ہے کہ آرٹ کونسل نے عالمی سطح کی اردو کانفرنس کا انتظام و اہتمام کیا ہے۔ یقیناً یہ دور پہلے مقابلے میں زیادہ قوی‘ زیادہ بہتر بلکہ بہترین محسوس کررہا ہوں۔اردو زبان یقیناً آج اس قابل ہوچکی ہے کہ ہم اسے عالمی سطح پر عالمی زبانوں کی صف میں دیکھ کر فخر محسوس کرسکتے ہیں۔ چند عشروں پہلے تک اردو میرے خیال کے مطابق بولنے کی زبان تھی خصوصاً بھارت میں تو بتدریج ختم ہوتی جارہی تھی۔ میری مراد اردو نستعلیق سے ہے کہ ہاتھ سے کتابت بھارت میں تقریباً ختم ہورہی تھی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ختم ہوگئی تھی‘ رسم الخط بدل گیا تھا۔ لکھنے والے اور اسکولوں میں پڑھنے پڑھانے والے دیوناگری رسم الخط کو اپنارہے تھے۔ نئی پود اردو نسخ اور نستعلیق سے ناآشنا ہورہی تھی‘ خط و کتابت اور تحریری اظہار دیوناگری اردو میں ہونے لگا تھا۔ چند پرانے لکھنے والے جو ادب لکھ رہے تھے شعر و شاعری لکھ رہے تھے وہ یقیناً اردو رسم الخط لکھ رہے تھے۔ وہ بھی اگر ہاتھ سے لکھ رہے تھے تو نستعلیق میں اور اگر ٹائپ رائٹر یا مشینی چھپائی کرتے تو وہ نسخ میں ۔ نستعلیق اس وقت ممکن نہ تھا۔ شاید یہی وجہ رہی ہو بھارت میں اردو کے لیے دیوناگری رسم الخط اپنانے کی۔
اللہ بھلا کرے احمد جمیل مرزا کا اور ان کے ساتھیوں کا جنہوں نے شب و روز کی محنت شاقہ سے اردو نستعلیق کو مشینی اردو بنا کر عالمی صف اول کی زبان میں کھڑا کردیا۔ ان کے اس کام میں ان کے والد جناب نور احمد دہلوی کا بھی حصہ ہے جو دہلی کے ایک بڑے نامور فنکار خطاط تھے۔ احمد جمیل مرزا جو اپنے والد کے فن کی باریکیوں اور تمام رموز سے خوب آشنا تھے خط‘ جوڑ‘ دائروں سے پوری طرح شناسا اور مہارت سے انہیں استعمال کرنے سے واقف تھے۔ انہوں نے کچھ اہل ہنر افراد کو شامل کرکے اس مشکل کام کو آسان کردیا۔ اس سلسلے میں اگر جنگ کے جناب میر خلیل الرحمن کا نام نہ لیا جائے تو زیادتی ہوگی۔ ان کی حوصلہ افزائی اور ایک کثیر سرمایہ کاری نے جہاں ان کے اخبار کو سب سے پہلے اردو نستعلیق پر کمپیوٹر کے ذریعے استعمال کرنے کا اعزاز بخشا وہیں احمد جمیل مرزا کو ان کی ایجاد اردو نستعلیق کے باعث عالمی شہرت کا حامل بنادیا۔یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ برف زدہ اردو کو جو برف کی طرح آہستہ آہستہ پگھلتی جارہی تھی‘ ختم ہورہی تھی‘ کو برق دم کردیا۔ ایک دم اس میں بجلی بھردی اور برقی اردو بنادیا۔ چونکہ کمپیوٹر بجلی سے ہی چلتا ہے اور اب جدید اردو بجلی کی مرہون منت ہوگئی ہے۔
آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اردو کمپیوٹر پر آنے کے بعد جو اشاعتی صنعت میں انقلاب برپا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ بھارت کے اردو دان طبقے کو اور اردو اشاعتی اداروں کو پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ اردو جو بھارت میں بتدریج دم توڑتی محسوس ہونے لگی تھی پھر سے جھرجھری لے کر زندہ ہوگئی۔ میں یہ بات وثوق سے اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ 79ء میں جب بھارت گیا تھا اس وقت وہاں کے تمام اشاعتی ادارے ہاتھ سے کتابت کرارہے تھے اور عام لوگ دیوناگری میں لکھ پڑھ رہے تھے اور خط و کتابت بھی انگریزی یا دیوناگری میں ہورہی تھی۔ لیکن اب چند عشروں میں یہ بڑی مسرت آمیز تبدیلی آرہی ہے کہ وہ نوجوان جو اردو بول تو سکتے تھے لیکن نہ لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے لیکن آج کمپیوٹر پر اردو میں مراسلت ہورہی ہے۔ اب بھارت میں اردو پڑھی بھی جارہی ہے اور کمپیوٹر کے ذریعے لکھی بھی جارہی ہے اور اب بھارت میں کمپیوٹر کے ذریعے اردو نستعلیق کی ترقی وترویج حیرت انگیز ہے۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں تقریباً پچاس برسوں سے طباعت و اشاعت کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ جب پاکستانی ماہرین نے اردو نستعلیق کو کمپیوٹر کا ذریعہ بنایا اس وقت چند مخصوص فونٹ تھے۔ اتنی باریک کمپوزنگ میں وہ خوبصورتی نہیں تھی جیسی آج میسر ہے۔ اردو نستعلیق کی ترقی میں بھارت کے اہل ہنر اور فن کا بھی بڑا دخل ہے۔ اس کی ابتدا اگر پاکستان نے کی ہے تو اسے عروج پر بھارت کے ہنرمندوں نے پہنچایا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہورہی ہے کہ بھارت میں اردو پڑھنے لکھنے والوں کا ذوق و شوق موجود تھا اور اب مزید بڑھتا جارہا ہے۔ دیوناگری رسم الخط پڑھنے والے اب بتدریج اردو نستعلیق کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ ایسا میں اپنے تجربے سے کہہ رہا ہوں کیونکہ جو حضرات پہلے دیوناگری میں خط تحریر کرتے تھے وہ اب کمپیوٹر کے ذریعے آن لائن اردو نستعلیق میں مراسلت و گفتگو کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب پاک بھارت ادبی محفلوں کا اہتمام بھی زور پکڑتا جارہا ہے۔
اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اردو جو پہلے صرف برصغیر پاک و ہند کی زبان تھی‘ اب کمپیوٹر کے توسط سے عالمی سطح کی زبانوں میں شمار ہونے لگی ہے۔ میں یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ اب اردو ویب سائٹ کے طفیل نہ صرف میرے جرائد بلکہ اخبارات اور رسائل دنیا کے دور دراز علاقوں تک نہ صرف پہنچ رہے ہیں بلکہ ان اردو کے ترسے ہوئے لوگوں تک اردو پہنچ بھی رہی ہے۔ اب وہ بیرونی دنیا میں رہتے ہوئے اردو تعلیم کے وسائل میسر نہ ہونے کے باوجود اردو کو اپنی نئی نسل سے باآسانی نہ صرف آشنا کررہے ہیں بلکہ انہیں اردو میں تعلیم بھی کمپیوٹر کے ذریعے باآسانی دے رہے ہیں۔ اس طرح اردو نستعلیق نے ان کا تعلق ان کی اپنی مٹی سے بھی جوڑ دیا ہے۔ ان کی نئی نسل میں اردو آشنائی پیدا ہورہی ہے۔میں اس اردو عالمی کانفرنس کے حوالے سے کوئی ادبی بات نہیں کررہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین میں ایک سے بڑھ کر ایک اہل قلم موجود ہیں جن کا ادب میں بڑا مقام ہے۔ میں کیا‘ میری بساط کیا۔ میں تو اردو کا ایک ادنیٰ سا خدمت گار ہوں جو گزشتہ پچاس برسوں سے اردو اشاعتی صنعت کے ایک کارکن کے طور پر اردو کی خدمت کررہا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ جو کہتے ہیں نہ کہ ”تخم تاثیر صحبت کا اثر“ تو اہل ادب و فن کی محبت‘ قربت اور تعلق نے مجھ سے بھی تھوڑی بہت خدمت لے لی۔ دعا کیجئے کہ اللہ میری ناچیز کوششوں کو قبول فرمائے۔

تازہ ترین