مندرجہ بالا موضوع پر سب سے پہلے محترم ڈاکٹر عبدالقدیر خان، پھر راقم بعد ازاں ضیاء الرحمٰن صدیقی کے مضامین شائع ہوئے چونکہ ان کی تاریخوں، موسسوں اور طرز عمارت کے اختلافات تھے لہٰذا راقم نے مزید تفتیش کا ارادہ کیا اور ”ویکی پیڈیا انسائی کلو پیڈیا“ سے رابطہ کیا۔ میرے چھوٹے بیٹے کے اسٹینو گرافر کی معاونت سے کافی مواد حاصل ہوگیا اس کا اختصار قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ چیرامن جمعہ مسجد بھارتی ریاست کیرالا میں Kodungallur کے مقام پر واقع ہے، ملک بن دنیار نے اس کو 629ء میں تعمیر کرایا۔ یہ برصغیر کی پہلی اور دنیائے اسلام کی دوسری مسجد ہے جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ (مکہ معظمہ میں کوئی مسجد تعمیر نہیں ہوئی، مسلمان مسجد حرم یا گھروں میں نماز ادا کرتے تھے۔ ہجرت کے دوران نبی علیہ السلام نے مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر قبا کے مقام پر دو ہفتے قیام فرمایا اور یہیں مسجد قباء کی بنیاد رکھی۔ اس مسجد کا ذکر قرآن مجید کی سورہ توبہ کی آیات 108/09 میں ہے“ (سیرة النبی جلد اول ص 183) مسجد نبوی دوسری مسجد ہے، جو ابتداء میں اسلام کی سادگی کی تصویر تھی کچی اینٹوں کی دیواریں برگ خرما کی چھت، کھجور کے ستون، کچا فرش جہاں بارش میں کیچڑ ہوجاتی تھی، صحابہ سنگ ریزے لا کر بچھاتے تھے، اس لئے پھرسنگ ریزوں کا فرش بنا دیا گیا، قبلہ بیت المقدس کی جانب تھا، (سیرت ص136)
چیرامن جمعہ مسجد حضور کی حیات مبارکہ میں تعمیر ہوگئی تھی، یہاں چند صحابہ مدفون ہیں کیرالا کی دوسری مسجدوں کے خلاف اس کا قبلہ مغرب کے بجائے مشرق کی طرف ہے۔ اس کی تاریخ یوں بیان کی جاتی ہے۔
چند صحابہ ”کوڈنگ لار“ آئے، چیرامن پیرومل جو چیرا کا حاکم تھا ملاقات کی۔ راجا نے ایک رات یکایک چاند کے شق ہو جانے کا نظارہ دیکھا، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ عرب میں ایک پیغمبر آنے کی نشانی ہے۔ چنانچہ وہ مکہ گیا اور مسلمان ہوگیا اور تاج الدین نام اختیار کیا۔ واپسی پر سلطنت عمان کے مقام Salarah پر اس کا انتقال ہوگیا۔ بستر مرگ پر اپنے چند ساتھیوں کو وصیت کی کہ اس کی مملکت میں جاکر اسلام پھیلائیں۔ وصیت کے مطابق ملک بن دینار اور ملک بن حبیب کی معیت میں چند عرب کیرالا پہنچے اور کوڈنگ لار میں چیرامن جمعہ مسجد تعمیر کی۔
مسجد میں تیل کا ایک ہزار سالہ چراغ ہے جو ہر وقت جلتا رہتا ہے۔ جملہ مذاہب کے لوگ چراغ کے لئے تیل نذر کرتے ہیں۔ کیرالا میں یہ واحد مسجد ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ بلا روک ٹوک آسکتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں مسجد میں ”دیا رم بھام“ کی تقریب ہوئی۔ یہ ہماری بسم اللہ کی رسم کی طرح ہندو بچوں کی تعلیم کی ابتدا کی رسم ہے مسجد کی طرز تعمیر خالص ہندوانہ ہے جیسے مندر بنائے جاتے ہیں۔ مسجد میں پیتل کے چراغوں سے روشنی کی جاتی ہے۔ منبر صندل کی لکڑی کا ہے جہاں خطیب جمعہ کا خطبہ پڑھتا ہے، اس پر ہندو طرز کی نقاشی ہے۔ مسجد میں سنگ مرمر کا ایک بلاک ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ سے لایا گیا تھا۔ (12/جنوری کے اخبار میں مولانا اختر عادل کی اطلاعات کے برعکس صورت ہے) سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر عبدالکلام بھی مسجد کی زیارت کے لئے آئے تھے (انسائی کلو پیڈیا میں اس مضمون کی تیاری کے لئے پانچ حوالے دیئے گئے ہیں۔)
اب بھوپال کے راجا بھوج جنہوں نے شق القمر کا معجزہ دیکھا، دھار، دھار کی مسجد مزار اور ہوشنگ شاہ کا مختصر حال سنیئے۔
میں وہ باتیں دہرانا نہیں چاہتا جو محسن الملک ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے کالم میں راجا بھوپال کا شق القمر کا دیکھنا اپنے سفر کو پان کے پتوں کے ساتھ حضور کی خدمت میں بھیجنا، جناب امیر خسرو کا قطعہ اور راجا کا اسلام لانا بیان کی تھیں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب ”شہادتین معجزات“میں ”راجا بھوج اور راجہ مالوہ کے ایمان لانے کا تذکرہ کیا ہے حالانکہ یہ ایک ہی شخصیت ہے جس کا شق القمر دیکھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ مولانا مودودی نے تفہیم القرآن کی پانچویں جلد میں لکھا ہے کہ ”مالا بار کی تاریخوں میں یہ تذکرہ ہے کہ اس رات وہاں کے راجا نے یہ منظر دیکھا تھا“ راجا کا ذکر نہیں کیا، محمد علی لاہوری کے انگریزی ترجمہ قرآن میں مالا بار کا ذکر ہے، قاضی محمد سلمان منصور پوری نے اپنی کتاب ترجمہ العالمین جلد سوم میں مالوہ یا مالا بار کا تو کوئی ذکر نہیں کیا مگر شق القمر کا ایک نقشہ دیا ہے جس کے مطابق یہ واقعہ مکہ معظمہ میں رات کو 9بجے واقع ہوا اس وقت ہندوستان میں (غالباً مغربی ساحل) رات کے 12بج کر 50 منٹ ہوئے تھے (دبئی اور جدہ میں 3گھنٹے کا فرق ہوتا ہے مگر یہاں تین گھنٹے50 منٹ کا فرق بتایا ہے) میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ مالوے میں ”بھوج“ کا لفظ بہت مقبول ہے۔ 1941ء کی مردم شماری میں قدیم ریاست بھوپال میں 11 دیہات بھوج پور، بھوج نگر، بوجھا نگر جیسے ناموں سے منسوب تھے۔ بھوج پتر (ایک درخت کا پتہ جو قدیم زمانے میں بطور کاغذ استعمال ہوتا تھا) تاریخ ہند میں بھوج یا بوجھا نام کے دو راجا بہت مشہور ہیں۔
پہلا راجا بھوج یا بھوجا جس کو بھوجپال (بھوپال) کا بانی کہا جاتا ہے وہ پرمار خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس نے مالوے پر 1010-60 تک حکومت کی، اس کی راج دھانی دھارتھی اس نے سوم ناتھ مندر کی دوبارہ تعمیر کی جس کو محمود غزنوی نے توڑ پھوڑ دیا تھا۔ (بھارت کی موجودہ مورخہ ارمیلا تھاپر نے قدیم کتبوں اور تاریخوں سے ثابت کیا ہے کہ سوم ناتھ کے مندر کو محمود کے بجائے گجرات کے مسلمان حاکموں نے نقصان پہنچایا) جوانی میں اس کے مغز میں ٹیومر ہوگیا تھا، اجین اسکول کے دوسرجنوں نے اس کی سرجری کی اور یہ ٹھیک ہوگیا۔ اس نے محمود غزنوی کے حملوں کو روکنے کے لئے ایک متحدہ لشکر تیار کیا مگر محمود نے لڑائی سے کنارہ کشی اختیار کی۔ بعد میں اس نے بہرائچ کے مقام پر غزنوی ملک سالار مسعود کو شکست دی، اس لڑائی میں مسعود مارا گیا یہ بڑا اچھا جنرل تھا۔ مالوہ میں بچے بچے کی زبان پر اس کا نام ہے۔ اس کا زمانہ شق القمر کے بعد کا لہٰذا اس کا معجزے سے کوئی تعلق نہیں، دوسرا راجا اسمرٹ بیر بھوجا اول ہے یہ 836-85 تک گجرات کا حاکم رہا۔ اس نے راجستھان گجرات، مالوہ وغیرہ فتح کرلیا اس کی مملکت جنوب میں دریائے نربرا، شمال میں دریائے ستلج مشرق میں بنگال اور شمال میں موجودہ شہر اٹاوہ تک پھیلی ہوئی تھی اس کی راج دہانی تنوج تھی۔ یہ مسلمانوں کا کٹڑ دشمن تھا، اس کا لقب ”وشنو کا اوتار“ تھا۔
گویا ان دو بھوجوں کا شق القمر سے کوئی تعلق نہیں اب رہا وہ تیسرا بھوج جس کی قبر عبداللہ مینگال کی پائنتی پر بتائی جاتی ہے، اس کا ثبوت وہ قصیدہ ہے جو مزار پر کندہ ہے جس کو شاہجہان بیگم رئیسہ بھوپال نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے (یہ قصیدہ میری کتاب ”یادوں کی مہک“ میں بھی موجود ہے) گو اس میں راجا بھوج کے شق القمر دیکھنے کا تذکرہ نہیں، مگر یہ کوئی اور راجا بھوج ہے جو مسلمان ہوگیا تھا۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ برصغیر میں صرف کیرالا کے راجا نے شق القمر کا نظارہ دیکھا اور وہ نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگیا اور اس کی وصیت کے مطابق چیرا مل جمعہ مسجد بنائی گئی (جس کی تصویر منسلک ہے) اور اس کی کہانی کو دوسرے راجاؤں سے منسلک کردیا گیا، یہ زبانی کہانیاں ایسی ہی ہیں جیسے شمش سبزواری ملتانی سے شمش تبریز کی روٹی والی کہانی منسوب کی جاتی ہے۔
طوالت کی وجہ سے میں نے دھار اور شاہ عبداللہ چنگال کے مزار کا ذکر نہیں کیا، مگر وہاں کسی بھوج کی قبر کا پتہ نہیں ملتا۔ ایک اور احاطے میں چار مسلمان ولیوں کی قبریں ہیں ان میں بھوج نہیں ہے۔