عبدالقادر نے کا کہنا ہے کہ پی سی بی کرکٹرز کی جاگیر ہے،گورننگ بورڈ تمام سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ہونا چاہیے، نجم سیٹھی کی اصل قابلیت سیاست میںہے لیکن انہیں چیئرمین کرکٹ بورڈ بنادیا گیا ہے ،سابق لیگ اسپنر نے کہا شکیل شیخ سمیت متعدد افراد بورڈ پر بوجھ ہیں، ایسے افراد خود ہی اپنے عہدے چھوڑ دیں،انکار کی صورت میں انھیں نکال دینا چاہیے۔
اپنے ایک انٹرویو میںعبدالقادرنے کہا کہ ملکی کرکٹ میں چیئرمین پی سی بی، چیف آپریٹنگ آفیسر، گورننگ بورڈ اور ریجنل صدور سب سے اہم عہدے ہیں،افسوس سے کہنا پڑتا ہے ان تمام بڑے عہدوں پر نان کرکٹرز کا راج ہے، پی سی بی کو ٹھیک کرنا ہے تو 4 میں سے کم از کم 2 عہدے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے پاس ضرور رہنے چاہئیں۔
سابق کرکٹر نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ گورننگ بورڈ میں تمام ارکان کرکٹرز رکھے جائیں،اس سے نہ صرف سفارش کلچر کا خاتمہ ہوگا بلکہ ارکان کو امریکا، انگلینڈاور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کے دوروں کی بھوک بھی نہیں ہوگی۔
ماضی کے عظیم لیگ اسپنر نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک سویلین فوج کے معاملات بہتر انداز میں چلا سکتا ہے ،نہ تونان ڈاکٹر طب کے شعبے میں،نہ ہی نان بینکرز بینکنگ کے معاملات کو احسن طریقے سے چلا سکتے ہیں، اگر جواب ناں میں ہے تو نان کرکٹرز بھی کرکٹ بورڈ کا انتظام اچھے انداز میں انجام نہیں دے سکتے۔
کرکٹ بورڈ کرکٹرز کی جاگیر ہے ان کا حق کیوں مارا جا رہا ہے،عبدالقادر نے کہاکہ نجم سیٹھی نے جب کورٹ کو لکھ کر دے رکھا ہے کہ وہ دوبارہ چیئرمین پی سی بی نہیں بنیں گے تو اب کیوں بن رہے ہیں۔
ان کی اصل صلاحیت سیاست میں ہے، سیاستدانوں کی طرح اچھی طرح الفاظ سے کھیل بھی لیتے ہیں، ایک بار پھر چیئرمین پی سی بی بننے کے چکر میں وہ غلط الیکشن کرا کے منتخب ہو گئے ہیں، کرکٹ میں سیاست لا کر اپنے من پسند افراد کو نوازیں گے۔
سابق کرکٹر نے کہا کہ نجم سیٹھی نے ماضی میں پاکستان ، بھارت سیریز کے عوض اربوں روپے کی آمدنی کا دعویٰ کیا، میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ رقم پاکستان کو مل گئی۔
اب کیس کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے،مجھے نہیں معلوم کہ بھارت سے طے شدہ معاہدے کے تحت پیسے ہمیں ملیں گے بھی یا نہیں یا ڈیرھ ارب کی رقم بھی ہاتھ سے نکل جائے گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں عبدالقادر نے کہاکہ شکیل شیخ سمیت متعدد افراد کرکٹ بورڈ پر بوجھ ہیں، ایسے افراد خود ہی اپنے عہدے چھوڑ دیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو انھیں نکال دینا چاہیے۔