چائلڈ سیکس گرومنگ سکینڈل کو خاص طور پر دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے اینٹی امیگرنٹس میڈیا نے اس طرح اچھالا ہے کہ اب یہ انتہائی ہائی پروفائل معاملہ بن گیا ہے۔ راچڈیل، برایرفیلڈ اور بعض دوسرے علاقوں میں سامنے آنے والے کیسوں میں پاکستان نژاد افراد کے ملوث ہونے کی وجہ سے جہاں پاکستانی کمیونٹی دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے وہاں برطانیہ میں موجود پاکستان اور اسلام مخالف قوتیں بھی متحرک ہوگئی ہیں۔ چائلڈ سیکس گرومنگ کے ان چند کیسوں کی آڑ میں برطانیہ کی 2 نسل پرست جماعتوں برٹش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور انگلش ڈیفنس لیگ (ای ڈی ایل) نے نہ صرف نسلی و لسانی و بلکہ مذہبی فسادات کرانے اور ایشیائی کمیونٹیز تک کو آپس میں لڑانے کی سازشیں تیار کرلی ہیں۔ ای ڈی ایل نے تو لوٹن میں مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ایک بڑا فساد کرانے کی بھرپور منصوبہ بندی کی۔ یہ سازش کامیاب ہونے کے قریب تھی کہ وہاں کی مسلمان کمیونٹی نے انتظامیہ کی مدد سے سکھوں کے ساتھ مذاکرات کرکے معاملے کو ٹھنڈا کیا اور اب دونوں کمیونٹیز کے درمیان ایک مرتبہ پھر قریبی روابط قائم ہوچکے ہیں۔ لوٹن ایسا علاقہ ہے جہاں ای ڈی ایل کا جنم ہوا۔ چونکہ اس علاقے میں پاکستانی باشندوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ شاید اسی لئے ای ڈی ایل کے نسل پرستوں کو ان سے بہت تکلیف ہے۔ اس علاقے میں ای ڈی ایل جب مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کئے گئے تمام حربوں میں ناکام ہوگئی تو اس نے مقامی ہندووٴں اور سکھوں کو مسلمانوں کے ساتھ لڑانے کی سازشیں شروع کردیں۔ اسی دوران ویشواہندوپریشد سے تعلق رکھنے والے بعض ہندو انتہاپسند نوجوان بھی اس کے ساتھ مل گئے۔ انہوں نے بعض سکھ نوجوانوں کو یہ بھی کہہ کر بھڑکایا کہ مسلمان نوجوان سکھ اور ہندو لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی آبرو سے کھیلتے ہیں اور پھر انہیں مسلمان کردیتے ہیں۔ اسی دوران ایک سکھ لڑکی اور ایک مسلمان نوجوان کے درمیان لڑائی جھگڑے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بات پولیس سٹیشن تک پہنچ گئی۔ سکھوں کو ای ڈی ایل اور ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا کہ ایک مسلمان نے سکھ لڑکی کو ریپ کیا ہے۔ حالانکہ وہ دونوں دوست تھے اور ایک ساتھ رہتے تھے۔ اس کے علاوہ لڑکی نے لڑکے کے خلاف محض تشدد کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ اس واقعہ کو لیکر ای ڈی ایل نے خوب واویلا کیا اور 29 مئی کو لوٹن پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے سکھوں کے مظاہرے میں ای ڈی ایل کے کارکن اور بعض ہندو انتہا پسند بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ یہ معاملہ علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی، پروفیسر ظفر خان، کونسلر خدیجہ، جسوندر سنگھ ناگرا اور بعض دوسرے رہنماؤں کی مداخلت اور مذاکرات کی وجہ سے کافی حد تک حل ہوگیا ہے تاہم ای ڈی ایل والوں نے اپنی سازشیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان کے بعض سکھ انتہاپسند نوجوانوں کے ساتھ رابطوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ دوسری طرف راچڈیل میں جب 8 پاکستانی اور ایک افغان باشندے کو سیکس گرومنگ کیس میں 72 برس کی سزا دی گئی تھی تو بی این پی کے کارکن عدالت کے باہر موجود تھے۔ بی این پی کے لیڈر اور کارکن برایرفیلڈ میں بھی چھ پاکستانیوں کے خلاف سیکس گرومنگ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے باہر موجود تھے۔ اس واقعہ پر انہوں نے لیفلٹس بھی تقسیم کئے جن میں مسلمانوں کو پیڈوفائل اور نجانے کن کن خطابات سے نوازا گیا تھا۔ ان دنوں گرومنگ کے حوالے سے جب بھی کوئی خبر آتی ہے تو یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس میں پاکستانی ملوث نہ ہوں۔ ایک طرف دائیں بازو کا میڈیا اور انتہاپسند جماعتیں اس مسئلے کو اٹھارہی ہیں تو دوسری طرف حکومت نے بھی ان واقعات پر سختی سے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون خود اس پر سخت بیان دے چکے ہیں جبکہ ہاؤس آف کامنز کی ہوم افیئرز کمیٹی میں بھی اس معاملے پر تحقیقات ہورہی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین کیتھ واز ایم پی اور بعض دوسرے ارکان خبردار کرچکے ہیں کہ ان معاملات کو کسی ایک نسلی گروپ کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔ مگر برطانوی وزیر برائے امور اطفال ٹم لائن کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان قسم کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں ان کی شناخت کو چھپایا نہ جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ حال ہی میں سامنے آنے والے چند کیسوں میں پاکستانی ملوث ہیں۔ اس لئے ان کی شناخت سب پر ظاہر کی جانا چاہئے اور اس معاملے کو انڈرکارپٹ نہیں کیا جانا چاہئے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ان کیسوں کے سامنے آنے کے بعد نوجوان لڑکیوں اور بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لئے موثر قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنی تجاویز ارکان پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دی ہیں۔ یقینا اس سلسلے میں مزید سخت قانون سازی ہونے کے بعد صورتحال بہتر ہوگی اور خاص طور پر ہاسٹلز و کیئر ہومز میں رہنے والے بچوں کو تحفظ ملے گا مگر اس کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ صرف ان کیسوں کو ہائی پروفائل بناکر میڈیا میں نہ لایا جائے جن میں پاکستانی ملوث ہیں۔ ایسے ہزاروں کیس موجود ہیں جن میں سفید فام اور دوسری کمیونٹیز کے لوگ بھی ملوث ہیں۔ اس مسئلے کو سیاسی بناکر اسلام اور پاکستانیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ ان رپورٹس پر بھی غور کیا جانا چاہئے جن میں کہا گیا ہے کہ تناسب کے اعتبار سے بھی پیڈوفائل اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد سفید فام باشندوں کی ہے۔