پچھلے دو ڈھائی بر سوں میں اس مملکت پاکستان میں ہمارے ناپید نظام حکومت اور قانون اور امن و امان کے بارے میں لاتعداد مضامین اور تبصرے لکھے جا چکے ہیں۔ اس موضوع میں عوام کی دلچسپی اس لئے زیادہ ہے کہ یہ مملکت خداداد پاکستان اس عرصہ میں ایک بنا نا ری پبلک بن گیا ہے یہاں اچھے نظام ، قانون اور امن و امان نامی کوئی چیز باقی نہیں رہی ۔ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے وہ پچھلے باسٹھ سال کے بد ترین دو ر میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ فہرست اتنی طویل ہے کہ لکھنا محال ہے صرف چند ہی ”خوش قسمت “لوگ مزے اڑا رہے ہیں ۔ ان کے لئے کوئی قانون لاگو نہیں ، عدلیہ کے احکامات کا کھلے عام مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ میں عدلیہ سے معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے نظام ِ عدل و انصاف میں کہیں نہ کہیں گرہ لگی ہوئی ہے۔ سیدھے سادھے مقدمات کے فیصلے ہفتوں تو کیا مہینے طے کر کے کئی کئی سال تک چلتے رہتے ہیں۔ یہ جو لاکھوں مقدمات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فیصلہ طلب ہیں ان میں سے اکثر سید ھے سادھے مقدما ت ہیں۔ پرانے زمانے میں ایک قاضی ایک نشست میں کئی کئی مقدمات نمٹا دیتا تھا آجکل التواؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دیکھئے بات کہاں جا پہنچی، میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ ہماری اسلامی تاریخ قانون کی بالا دستی اور امن و امان کے قیام سے متعلق لا تعداد سنہری ابواب سے بھری پڑی ہے۔ ہماری تاریخ میں دو، چار، چھ یا آٹھ عادل حکمران نہیں گزرے بلکہ سینکڑوں ایسے حکمران گزرے ہیں کہ مغربی تجزیہ نگاروں اور تاریخ دانوں نے ان کی تعریف میں ضخیم کتب لکھی ہیں۔ ہمارے پیا رے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر ان کی اپنی پیاری بیٹی بھی چوری کی مرتکب ہوئی تو وہ اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیں گے ۔ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانے میں بھی خاصا اچھا نظام حکومت و عدل قائم تھا مگر یہ حضرت عمر تھے جنہوں نے معاشرہ کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا اور ایک ایسا نظام حکومت و عدل قائم کیا کہ پوری دنیا آج بھی اس کو یاد کر تی ہے اور اس کو بے مثال نظام قرار دیتی ہے۔ حضرت عمر کے علاوہ امیر معاویہ ، حضرت عمر بن عبد العزیز ، خلیفہ ہارون الرشید ، مامون الرشید، خلیفہ عبد المالک ، سلطان محمود غزنوی، سلطان علاؤ الدین خلجی ، شیر شاہ سوری ، اکبر بادشاہ وغیرہ چند نام لے رہا ہوں حالانکہ یہ تعداد چند درجن پر نہیں بلکہ سینکڑوں اعلیٰ حکمرانوں پر مبنی ہے۔ رحمن ملک کی سزاؤں کی معافی پر مجھے سلطان محمود غزنوی کا واقعہ یا د آ گیا جس کے بارے میں پہلے ایک کالم میں لکھ چکا ہو ں کہ کس طرح اس کی فوج کے ترک سپہ سالار علی نوشتگین کو نشہ کی حالت میں قاضی نے ، جو پہلے ایک ترک غلا م تھا ، سر راہ کوڑے مار مار کر نیلا اودا کردیا تھا اور سلطان نے فخریہ کہا تھا کہ اسی بے امتیازانہ انصاف کی وجہ سے اس کی حکومت قائم تھی اور بخدا اگر وہ خود ایسے جرم کا مرتکب ہوتا تو قاضی بلا خوف و جھجک وہی سلوک اس کے ساتھ بھی کرتا۔ ہم حضر ت عمر بن عبدالعزیز ، خلیفہ ہارون الرشید ، محمود غزنوی کی بات نہیں کرتے ، شیر شاہ سوری کے دور حکومت کو دیکھ لیں ۔ انہوں نے صرف پانچ سالہ دور حکومت میں جو کام دکھا دیے وہ ہمارے حکمران تما م جدید سہولتوں کے باوجو د باسٹھ سال میں نہ کر سکے۔ آپ کو شاید علم نہ ہو کہ شیر شاہ سوری (جس نے پشاور سے کلکتہ تک گرینڈ ٹرنک روڈ بنو ا دی تھی ) کا ناظم مالیا ت راجہ ٹوڈرمل تھا۔ یہ ایک نہایت قابل ماہر مالیات تھااور ہمایوں بادشاہ کے انتقال کے بعد جب اکبر بادشاہ نے عنان حکومت سنبھالی تو اس نے فوراََ راجہ ٹوڈرمل کو بلا بھیجا اور تاریخ گواہ ہے کہ اکبر کانظام مالیا ت ایک مثالی اور اعلیٰ نظام تھا اور اس کا اکبر کی کامیاب حکمرانی میں بڑا حصہ تھا۔ لیکن میں یہاں صرف حضرت عمر کے نظام حکومت اور اقدامات کے بارہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیق کے سوا دو سالہ دور خلافت میں مسلمان نہ صرف اپنا اقتدار مستحکم کرنے میں مصروف تھے بلکہ پورے زور و شور سے فتوحات کا سلسلہ بھی جاری تھا لیکن اس ابتدائی دور میں ابھی نظام حکومت کی ٹھوس بنیادیں نہیں ڈالی گئی تھیں۔ حضرت عمر نے جب خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور امیر المومنین کا لقب اختیار کیا تو صحیح طور سے قوانین حکومت بنائے گئے اور ان پر سختی سے عمل کیا گیا۔ اس دور میں لاتعداد ممالک فتح کئے گئے اور حکومت کی سرحدیں دور دور تک پہنچ گئیں۔ایک جانب تو کاشغر ، تاشقند ، سمر قند تک ، دوسری جانب آذر بائیجان ، آرمینا نک تک سرحدیں پھیل گئی تھیں۔ گویا پورا مشرق وسطیٰ ، افغانستان ، ایران ، شام ، مصر وغیرہ سب مملکت اسلامیہ کا حصہ بن گئے تھے۔ اب آپ ذرا تصور کیجئے کہ یہ وہ وقت تھا جب نہ ہی منا سب سڑکیں تھیں، نہ موٹر گاڑیاں تھیں، نہ ٹرین تھی، نہ ہوائی جہاز تھا، نہ ٹیلی فون ، نہ جدید مواصلاتی نظام لیکن حضرت عمر نے جو نظام حکومت قائم کیا اسکی مثال نہیں ملتی۔ حضرت عمر نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک یا پیاس سے ہلاک ہوا تو وہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ (اور آجکل ذرا کراچی کی قتل و غارت گری دیکھئے کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی) حضرت عمر نے کسی بھی صیغہ حکومت اور شعبہ زندگی کو نظر انداز نہیں کیا اور اسلام کے سنہری اصولوں کا سیا ست و طریقہ زندگی پر پوری طر ح اطلاق کیا۔ آپ نے مجلس شوریٰ صو بجات کی تشکیل ، تنخواہوں کی مقرری ، خراج کا طریقہ کار، مال گزاری کے قوانین ، قواعد عدالت اور احکام عدالت ، قضاة کاعلم کی بنیاد پر تقرر ، رشوت کو کنٹرول بلکہ جنم نہ لینے کے قوانین ، جیل خانہ کی ایجاد، بیت المال یعنی محکمہ خزانہ کا قیام، محکمہ پبلک ورکس کا قیام اور سڑکوں اور نہروں کی تعمیر، نئے شہر آباد کرنا، اعلیٰ فوجی نظام اور ہر سال نئے دستے تیار کرنا ، فوج کے لئے نہایت اعلیٰ سامان حرب و رسد ، تنخواہوں کا نظام ، چھٹیوں کا نظام ، نظام تعلیم کا قیام جس میں خاص طور پر اسلامی سنہری اصولوں پر عمل کرنے پر سخت توجہ، مردم شماری ، غرباء اور مساکین کے لئے وظائف ، حکمران اور عوام کے درمیان امتیازی سلوک کا خاتمہ اور سب کا قاضی کے سامنے یکساں جوابدہ ہونا وغیرہ وغیرہ قائم کئے ۔ اتنی لمبی فہرست ہے کہ صفحات کے صفحات بھر جائیں گے۔ میں یہاں صرف حضرت عمر کے دور کے دو اہم واقعات آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ عدل و انصا ف اور وعدہ کی پاسداری آپ کو کس قدر عزیز تھے:۔
(۱)کہا جاتا ہے کہ جبلہ بن ایہام الغساّنی شام کی سرحد کے قریب چھوٹی سی ریاست کا بادشاہ تھا۔ یہ پہلے عیسائی تھا لیکن بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ حضرت عمر کے دور خلافت میں یہ طواف خانہ کعبہ کر رہا تھا کہ حاجیوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک تو بادشاہ کو عام لوگوں کے ساتھ طواف کرنے میں الجھن ہو رہی تھی اور جب ایک آدمی کا پیر اس کے شاہی عبایا پرپڑ گیا تو یہ آگ بگولہ ہو گیا اور غصہ میں اس شخص کو تھپڑ ما ر دیا۔ متاثرہ شخص نے فوراََ جا کر حضر ت عمر سے شکایت کر دی۔ آپ نے گواہوں کے بیانا ت سن کر اسلامی انصاف کی حد قائم کر دی اوراس شہری کو اجازت دی کہ وہ بھی کھلے عام اس بادشاہ کو تھپڑ لگا دے۔ بادشاہ ناراض ہوا کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ جو بادشاہ اور عام آدمی میں تمیز نہیں کرتا ۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ صرف متاثر ہ شخص کی معافی سے وہ بچ سکتا ہے۔ بادشاہ مجمع میں غائب ہو کر بھاگ نکلا اور راتوں رات اپنی ریا ست میں واپس پہنچ گیا اور پھر مرتد ہوگیا ۔ جب حضرت عمر کو اس بات کا علم ہو ا تو آپ نے فرمایا کہ ”بہتر ہے کہ ہمیں ایسے شخص سے نجات مل گئی کیونکہ ایسے مغرور شخص کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری عز ت ایسے شخص کی وفاداری کی محتاج نہیں ہے۔ “دیکھئے یہ مثال ہے بلا امتیاز قانون نافذکرنے کی ۔
(۲)دوسری مثال اپنے الفا ظ اور وعدے پر قائم رہنے کی ہے۔ حضرت ابو بکر کی خلا فت کے دوران ہی مسلمانوں نے ایران اور روم کی حکومتوں کے خلاف جہاد شروع کردیا۔
لیکن اس میں شد ت حضرت عمر کی خلافت کے دوران آئی۔ جنگ قادسیہ کی مشہور ترین جنگ ہوئی جس نے ایران(کسریٰ ) کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ اس جنگ میں حضر ت سعد بن ابی وقاص سپہ سالار تھے۔ اس مشہور جنگ کے واقعات تمام تاریخی کتب میں موجو دہیں۔ ایرانیوں کی طرف سے رستم سپہ سالار تھا جو جنگ کے دوران مارا گیا۔ ایرانیوں کی طرف سے چند سردار بہت بہادری سے لڑے اور ان میں ہر مزان بہت نمایاں تھا۔ ہر مزان نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو بہت پریشان کیا تھا۔ رات کو اپنے قلعے سے نکل کر مسلمان فوج پر شب خون مارتا تھا اور کافی نقصان پہنچا کر قلعہ میں حفاظت سے بند ہو جاتا تھا۔ حضرت عمر کو جب یہ اطلاع ملی تو آپ نے حضرت وامق ابو لہول کو مدد کے لئے روانہ کیا ۔ یہ سیاہ فام بدو تھے، چہر ہ چیچک کے داغوں سے پُر تھا اور بڑی جسامت تھی اسی وجہ سے ان کا نام ابو لہول یعنی بھوت پڑ گیا تھا۔ جب آپ حضرت سعد کے پاس پہنچے تو اُنھوں نے ہرمزان کی چالاکی اور بہادری کے واقعات سنائے تو وامق سے ضبط نہ ہو سکا اور آپ نے کہا کہ خدا کی قسم آپ دیکھیں گے کہ میں اس کا کیا حشر کر تا ہوں ۔ حضرت سعد کو یہ بات بری لگی اور کہا کہ لگتا ہے کہ تمھاری کالی ماں کے دودھ نے تم میں تکبر پیدا کر دیا ہے۔ حضرت وامق نے غصہ سے تلوار کھینچ لی اور کہا کہ خدا کی قسم اگر تم مسلمان نہ ہوتے تو تمھاری گردن اُڑا دیتا۔ رات کو حضرت وامق نے اپنا دستہ جنگی حالت میں تیار رکھا اور جب ہر مزان نے علی الصباح فوج کے ایک حصہ پر شب خون مارا اور چیخ و پکار کی آواز بلند ہوئی تو حضرت وامق اپنے دستہ کے ساتھ بجلی کی طرح ہر مزان پر حملہ آور ہوئے اس کے کئی فوجی ہلا ک کر دیے اور قلعہ کے دروازے تک اس کا تعاقب کیا۔ حضرت سعد نے ان کا شکریہ ادا کیا اور معافی مانگ لی۔ مسلمانوں نے ایرانیوں کی کمر توڑ دی اور قوت کو خاک میں ملا دیا ۔ہرمزان خوزستان کے دارالحکومت شوستر بھاگ گیا اور وہاں کے قلعوں اور خندقوں کی مرمت کی اور مستحکم بنا لیا ۔ مغیرہ بن شعبہ جو اس علاقہ (بصرہ ) کے حاکم تھے انھوں نے ہرمز (اہواز ) پر حملہ کر دیا مگر ان کی معزولی کے بعد حضر ت ابو موسیٰ اشعری نے ذمہ داری سنبھال کر ایرانیوں پر دباؤ جاری رکھا اور شو ستر کا محاصرہ کر لیا۔ ہر مزان ایک بڑی فوج لے کر شہر سے نکلا اور مسلمانوں پر حملہ کر دیا ۔ یہاں ہرمزان نے دو بد و جنگ میں حضرت براء بن مالک اور محراة بن ثور کو شہید کر دیا مگر مسلمان فوج نے کامیابی حاصل کی اور ہر مزان قلعہ میں بند ہو گیا اور کچھ بحث و مبا حثہ کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو ا کہ وہ اس کو مدینہ منورہ پہنچا دیں اور جو بھی فیصلہ حضر ت عمر کریں گے وہ اس کو قبول ہو گا۔ حضرت انس اس کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا جو اس وقت مسجد نبوی میں فرش خاک پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے۔ کیونکہ اس شخص نے دو بدو جنگ میں دو مشہور صحابہ کو شہید کر دیا تھا اور لاتعداد مسلمانوں کی شہادت کا ذمہ دار بھی تھا۔حضرت عمر سخت غیض و غضب میں تھے اور یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ انسانی اور اخلاقی قدروں کے تحت آپ نے ہر مزان سے آخری خواہش دریافت کی ۔ اس نے پینے کے لئے پانی کی خواہش کی، پانی کا پیا لہ ہاتھ میں لے کر ادھر ادھر دیکھنے لگا اور حضرت عمر کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ اس کو خطرہ ہے کہ جب وہ پیالہ منہ سے لگائے گا تو جلا د اس کا سر قلم کر دے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جب تک وہ یہ پانی نہ پی لے گا اس کو کوئی گزند نہیں پہنچایا جائے گا۔ یہ سنتے ہی ہر مزان نے پانی ریت میں انڈیل دیا اور کہا کہ وعدہ کے مطابق اب آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے کہ میں نے وہ پانی نہیں پیا اور نہ ہی پی سکتا ہوں۔ صحابہ نے کہا کہ اس نے یہ چال چلی ہے اور واجب قتل ہے مگر حضرت عمر نے فرمایا کہ اُنھوں نے جو وعدہ کیا تھا وہ اس سے انخراف نہیں کر سکتے اور حکم دیا کہ ہر مزان کو آزاد کر دیا جائے۔ جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس نے اسلا م قبول کر لیا اور مد ینہ میں سکونت اختیار کر لی ۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت عمر نے اس قدر برے دشمن کو اس وجہ سے معاف کر دیا کہ آپ نے وعدہ کر لیا تھا اور اس کو توڑنے کی اسلا م میں کوئی گنجائش نہ تھی۔ بعد میں جب ایرانی غلام فیروز نے حضرت عمر کو فجر کی نماز کے دوران خنجر مار کر شہید کر دیا اور حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر نے گواہی دی کہ انھوں نے فیروز کو ہرمزان اور جنفیہ کے ساتھ دیکھا تھا اور فیروز کے ہاتھ سے وہ خنجر بھی گرتا دیکھا تھا تو عبید اللہ بن عمر نے طیش میں آ کر ہر مزان اور جنفیہ دونوں کو قتل کر دیا ۔فیرو ز نے گرفتاری کے وقت خود کشی کر لی تھی۔
آجکل کے اصحاب اقتدار کے اخلاق و کر دار اور اقوال میں تضاد دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ حضرت عمر نے دس سال خلافت کی اور جو معجزات دکھائے ان سے مغربی اور مشرقی مصنفوں نے لاتعداد کتابیں لکھی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ایوب خان کے 11 سال ، ضیاء الحق کے 11سال اور مشرف کے ساڑھے آٹھ سال دیکھ لیجئے ، تمام جدید سہولتوں کے باوجو د انھوں نے ملک کو تباہ کر دیا اور نظم و نسق اور قانون اور امن و امان عنقا ہو کر رہ گئے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن عبد العزیز نے صرف سو ا دو سال حکومت کی تھی۔ بلا امتیاز انصاف کرنے اور بلا خوف و خطر سخت اقدامات اُٹھانے کے بارہ میں بھی حضرت عمر نے درخشاں مثالیں چھوڑی ہیں۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ حضرت عمر نہایت با اثر اور مشہور جرنیلوں اور صحابہ کے خلا ف سخت اقداما ت اٹھائیں گے لیکن عمر و بن العا ص ، حضرت عیا ض بن غنم ، حضرت خالد بن ولید ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عمار بن یاسر کے خلاف بے ضابطگیوں کی اطلاع ملنے پر فوراًَ ان کے عہدوں سے سبکدوش کر دیا ۔حضرت سعد فاتح ایران اور رسول اکرم ﷺ کے ماموں تھے ، حضرت خالد فاتح شام تھے ، حضرت مغیرہ بن شعبہ بہت مشہور اور بہاد ر صحابی تھے اورحضرت عمرو بن العا ص فاتح مصر تھے۔ آجکل ہمارے ملک میں دیکھئے کس طرح ملزموں اور مجرموں کو معصومیت و بیگناہی کے سرٹیفکیٹ دے کر اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک و قوم پر رحم کرے ۔ (آمین)