یہ تو آپ جانتے ہیں کہ مغلیہ خاندان کا ہندوستان میں آخری تاجداربہادر شاہ ظفر تھا۔ بہادرشاہ ظفر مسلمانوں کے اقتدار کی علامت تھا اور بس تاجدار ہی تھا یعنی بادشاہت کا تاج ضرور پہنتا تھاجبکہ اصل حاکم ایسٹ انڈیا کمپنی تھی جس نے اپنی شاطرانہ چالوں اورعسکری قوت کے ذریعے ہندوستان پر قبضہ کر رکھا تھا۔ 1857 کی جنگ ِ آزادی انگریز سے نجات حاصل کرنے کی آخری کوشش تھی جو ناکام ہوگئی توبقول انگریز مصنف گیرٹ 22ستمبرکو بہادر شاہ ظفر،ان کی بیگم زینت محل اور شہزادوں کو گرفتارکرلیا گیا۔ ان شہزادوں میں جواں بخت، مرزا مغل، مرزا خضر سلطان، مرزا ابوبکر اور مرزا مغل کا بیٹا مرزا عبداللہ شامل تھے۔ ان قیدیوں کی تذلیل کرنے اوراہل ہندوستان کو نئے حکمرانوں کی خبر سنانے کے لئے قیدیوں کو لاہور ی دروازے دہلی کی طرف سے چاندنی چوک کا چکر لگوا کر لال قلعہ کے زینت محل میں بند کردیا گیا۔ گرفتاری سے قبل شہزادوں کے مغلیہ خون نے جوش مارا اورانہوں نے لڑنے مرنے کا ارادہ کیا لیکن مرزا الٰہی بخش کے کہنے پر اپنے آپ کو ہڈسن کے حوالے کردیا۔ بہادرشاہ ظفر اور زینت محل کو قید کرنے کے بعد ہڈسن نے شہزادوں کو رتھوں میں بٹھایا اورشہر سے ایک میل دور لے جا کر انہیں رتھوں سے نکلنے کاحکم دیا۔ پھرانہیں کپڑے اتارنے کا حکم سنایا۔ انہوں نے حیرانی کے عالم میں اوپرکا لباس اتار دیا۔ ہڈسن نے خود فائر کرکے شہزادوں کوموت کی نیند سلا دیا اور پھر بقول محمدصدیق قریشی مصنف ”جنگ آزادی کے مسلم مشاہیر“ ہڈسن نے ان کا ایک چلو خون پیا اور کہا کہ ایسا نہ کرتا تو دیوانہ ہوجاتا۔ ان کے سر کاٹ کرخوان میں رکھے اور بہادر شاہ ظفر کو پیش کردیئے۔ شاہ نے الحمد للہ کہا اور منہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس کے بعد شہزادوں کی لاشیں کوتوالی کے سامنے لٹکا دی گئیں اوران کے سر جیل کے سامنے خونی دروازے پرسجاد یئے گئے۔
بادشاہ کے خلاف مقدمے کا آغاز 27جنوری 1858 کو ہوا۔ انگریز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ تمام الزامات ثابت ہوگئے ہیں لیکن چونکہ بادشاہ کے ساتھ جان بخشی کامعاہدہ ہو چکا تھا اس لئے اسے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بیگم زینت محل اور شہزادہ جواں بخت پرفرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لئے انہیں بادشاہ کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی۔ 17کتوبر 1858 کو بہادر شاہ ظفر کو کلکتہ بھیج دیاگیا۔شہر بدر ہوتے ہوئے بہادرشاہ ظفر نے جواشعارپڑھے ان میں یہ شعر خاص طور پر قابل ذکر ہے:
کر رحم غریبی پہ میری گردش ایام
بدعہدی دوراں نہ کر اتنا مجھے بدنام
بہادرشاہ ظفرجلا وطنی کے لئے کلکتہ پہنچے تو ان کی دوسری بیگم تاج محل واپس چلی گئی لیکن زینت محل اور چند بچے ساتھ رہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک بڑی ریاست اور تھی جس کا والی واجد علی شاہ تھا۔ انگریزوں نے ایک سازش کے ذریعے جس میں واجد علی شاہ کی بیگم کا بھائی بھی ملوث تھا واجد علی شاہ سے معزولی کے کاغذات پر دستخط کروا کے اسے میٹابرج کلکتہ میں قید کر دیا تھا۔ جب واجد علی شاہ کو بہادرشاہ ظفرکی آمد بسلسلہ جلاوطنی کا علم ہوا تو اس نے وائسرائے کی وساطت سے شاہ کی خدمت میں دعوت نامہ بھیجا۔ شاہ نے دعوت قبول کرلی اور لکھ بھیجا کہ چند منٹ کے لئے جہاز سے اترکر میٹابرج میں تم سے ملوں گا۔ بقول محمد صدیق قریشی اس روز فرنگی حکام بمعہ وائسرائے میٹابرج میں جمع ہوئے تاکہ شکست خوردوں کی ملاقات کے منظر سے لطف اندوز ہوسکیں۔ شاہ جہاز سے اتر کر آئے تو واجد علی شاہ نے ادب سے سر جھکاکر اکیس فرشی سلام کئے اورپھر دونوں رونے لگے ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!شاہ کو کلکتہ سے رنگون بھجوا دیا گیا جہاں ان کو قید تنہائی میں رکھا گیا حتیٰ کہ وہ 7نومبر 1862 کو بروز جمعتہ المبارک وفات پا کر دنیا کے دکھوں سے رہائی پا گئے۔ آدھی رات کے وقت انہیں دفن کرکے قبر کا نشان مٹانے کے لئے زمین برابر کردی گئی اور پہلی بار 1882 میں دہلی کی جامع مسجد میں ان کیلئے دعائے مغفرت کی گئی جبکہ شاہ کو مرے بیس برس گزر چکے تھے۔ اسے کہتے ہیں عبرت کا مقام؟ جنگ آزادی 18ستمبر 1857 کو ختم ہوئی توفوج کوتین روز کے لئے شہر لوٹنے کی اجازت دی گئی۔
جنگ ِ آزادی کے مصنفین کے مطابق دہلی کے تقریباً ایک لاکھ گھر مسمار کردیئے گئے، جامع مسجد سکھوں کی آماجگاہ بنا دی گئی جہاں وہ گھوڑے باندھتے اور سور پکاتے تھے۔ یہ مسجد نومبر 1862 میں واگزار کی گئی۔ سات روز تک قتل عام ہوتارہا، 27ہزار مسلمانوں نے پھانسی پائی، ان گنت توپوں سے اڑائے گئے اور بے شمار قتل ہوئے۔
میں جب بھی شکست، عبرت اور دکھوں کی یہ داستان پڑھتا ہوں تو مجھے علامہ اقبال کا یہ شعر شدت سے یاد آنے لگتا ہے کہ:
میں تجھ کو بتاتا ہوں، تقدیرِ امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر
اس شعر کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ قوموں کی تقدیر کا راز یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے آپ کو عسکری طور پر مضبوط رکھتی ہیں، ان کے دلوں میں جذبہ ٴ جہاد، خودی، قومی غیرت اور بے خوفی کا شعور موجز ن رہتا ہے، انکی تقدیر بلندیوں کی جانب سفر کرتی رہتی ہے لیکن جب وہ تلوار اور عسکری طاقت کو چھوڑ کر راگ رنگ اور عیش و طرب میں ڈوب جاتی ہیں تو ان کاوہی انجام ہوتا ہے جو بہادر شاہ ظفر کاہوا۔ پندرھویں سے لے کر اٹھارہویں صدی تک آبادیاتی نظام یعنی قوموں اور ملکوں کو غلام بنانے کی صدیاں تھیں جس میں ایک آدھ کے علاوہ تمام مسلمان ممالک کو غلام بنا لیا گیا تھا۔
بیسویں صدی سے نوآبادیاتی نظام معرض وجود میں آیا ہے جس کے تحت ملکوں پر قبضہ کرنے کی بجائے قوموں کو ذہنی طور پر غلام بنایا جاتا ہے جس کے لئے عسکری قوت، دولت، ٹیکنالوجی، سائنسی اورتعلیمی ترقی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔ آج امریکہ نے یورپی ممالک سے مل کر تمام اسلامی ممالک اوردوسری کئی قوموں کو سائنسی، عسکری، معاشی اورتعلیمی ترقی کے بل بوتے پر ”غلام“ بنا رکھا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس غلامی کی بڑی وجہ ہماری مجموعی طور پر پسماندگی ہے جس نے ہمیں خودی ، قومی غیرت اور خوداعتمادی سے محروم کر کے امریکہ اوریورپ کی ذہنی غلامی میں گرفتار کررکھا ہے۔ چنانچہ بشمول پاکستان ان قوموں کے فیصلے واشنگٹن میں ہوتے ہیں۔
بات دورنکل گئی۔ میں کہہ رہا تھا کہ جب انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ کرلیا تو انہو ں نے مسلمانوں کو مزید ذلیل کرنے کے لئے مغل بادشاہوں اور شہزادوں کے لباس اپنے نوکروں، بیروں اور خاکروبوں کو پہنا دیئے اور اپنے کتوں کے نام ٹیپو سلطان سے لے کر مغل بادشاہوں تک کے ناموں پررکھنے لگے۔ بڑی بڑی کلبوں اور خاص جگہوں کے باہر بورڈ لگے ہوتے تھے کہ یہاں ہندوستانیوں اورکتوں کا داخلہ ممنوع ہے اوراس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مغلوں نے شمشیر و سناں کو چھوڑکر طاؤس و رباب کو اپنا لیا تھا۔ اس وقت امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور ہے جس میں غرور، نخوت اور احساس برتری کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ نائن الیون کے بعد امریکی صدر کا پاکستانی صدرکو یہ کہنا کہ آپ یا ہمارے ساتھ ہیں یاہمارے مخالف ہیں اور پھر امریکی اعلیٰ عہدیدار کی یہ دھمکی کہ ہم تمہارے ملک کو ویران کھنڈروں میں تبدیل کردیں گے، امریکی غرور کے علاوہ ان کی عسکری و سائنسی برتری کا شاہکارہے۔ صد ر اوباما مسلمان باپ کا بیٹا ہے اس کے بہترین دوستوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہے اس کے باوجود جب وہ ہندوستان کے دورے پر آیا تو اس کے خاص کتے کا نام خان تھا۔ اس کا نام لالہ یا رام بھی رکھاجاسکتا تھا لیکن مقصد مسلمانوں کی تحقیر ہے۔ چونکہ امریکہ کئی مسلمان ممالک کے خلاف اعلانیہ اور خفیہ طورپر برسرپیکار ہے۔ انگریز بھی اپنے عروج کے دور میں یہی کرتے تھے۔
نو آبادیاتی یا نئی غلامی کے دورمیں جب تک ہم سائنسی، تعلیمی،معاشی اور عسکری حوالے سے پسماندہ ہیں، ہمارا یہی حشر اور انجام ہوگا۔ ہاں اگر قوم کی خودی بیدار ہو جائے، اس میں قومی غیرت اور خوداعتمادی کاشعور موجزن ہو جائے تو وہ وسائل کی قلت کے باوجود ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑ سکتی ہیں اور صحیح معنوں میں آزادی کے ثمرات سے فیض یاب ہوسکتی ہے لیکن اس کی پہلی شرط غیرملکی امداد اور کشکول سے نجات حاصل کرکے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا نہ ہی ہم آزاد ہیں اورنہ ہی قابل حترام قوم بن سکتے ہیں۔ بس یہی ایک بات ہے سمجھنے اور سمجھانے کی۔